ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين
- خطہ
- arabia

مختصر حقائق
- شعبہ
- ادارے اور نظام
- قسم
- ادارہ
- پہلا ثبوت
- 634 اور 644 کے درمیان عیسوی (اخذ شدہ)
- دور
- اسلام کی پہلی صدی
- مقام
- المدينة المنورة
- جس میں بیان ہوئی
- معالم القربة في أحكام الحسبة · الحسبۃ فی الاسلام · مقدمة ابن خلدون
- نسبت
- متنازع
کس نے بنایا
- عمر بن الخطاب فرمائش کرنے والا
نسبت اور اس کی بنیاد
بازار کے عامل کا منصب، اور اس کے بعد حسبہ، مدینہ میں نبی اور خلفائے راشدین کے دور میں شروع ہوا، یونانی یا بازنطینی بازار افسر کی نقل کے طور پر نہیں۔
معالم القربہ کے محققین نبی کو محتسب کا کام کرنے والا پہلا شخص قرار دیتے ہیں، اور خلفائے راشدین کو وہ پہلے لوگ جنہوں نے حسبہ خود انجام دیا اور پھر فتوحات پھیلنے پر محتسب مقرر کیے۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا بعض مستشرقین کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ یہ منصب یونانی اگورانوموس، رومی ایڈائل یا بازنطینی حاکم سے لیا گیا، اور سمجھتا ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں: یہ منصب مدینہ میں ظاہر ہوا جہاں بازنطینی اثر نہ تھا، پہلے شام یا مصر میں نہیں؛ یہ شروع سے دینی تھا؛ اور معلوم بازنطینی بازاری ضابطہ اس سے تقریباً تین صدیاں بعد کا ہے۔ ٹی ڈی وی مانتا ہے کہ حسبہ کی کتابیں بعض بازنطینی بازاری قواعد نقل کرتی ہیں۔ اختلاف اصل میں ہے، مدینہ میں بازار کے عاملوں کے وجود میں نہیں۔
ماخذ: الحسبة — موسوعة TDV الإسلامية (جنكيز كالَك، وضياء كازيجي، وآخرون) · معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) · ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) · مقدمة ابن خلدون · Watt, Muhammad at Medina (1956) · Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
اس سے پہلے
- یونانی اگورانوموس اور بازنطینی بازار حاکم (ایک دعویٰ کردہ اصل)
اس پر جو بنا
- اموی دور کا صاحب السوق
- بغداد کا عباسی محتسب
- حسبہ کی کتابیں
- مغرب، اندلس، مصر اور شام میں محتسب
- عثمانی احتساب
- صلیبی اور ہسپانوی سلطنتوں کا بازار افسر، اور ہسپانوی المتاسن
یہ کیسے کام کرتی ہے
خلاصہ
حسبہ ایک منصب ہے جس میں حکمران ایک اہل شخص کو بازاروں اور راستوں کی نگرانی پر مقرر کرتا ہے۔ یہ افسر ناپ تول اور غذائی اشیاء میں دھوکے کو دیکھتا ہے، راستوں کو تنگ ہونے سے روکتا ہے، گرنے والی عمارتوں کو گرانے کا حکم دیتا ہے، اور جرم کے مطابق سزا دیتا ہے، اور اس کے لیے کسی شکایت کا انتظار نہیں کرتا 1۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ نبی خود بازار میں جا کر اس کا معائنہ کرتے تھے اور بعد میں اس پر عامل مقرر کیے، اور یہ کہ عمر بن الخطاب نے مدینہ کے بازار پر نام بنام عامل مقرر کیے، جن میں ایک روایت کے مطابق شفاء بنت عبد اللہ بھی تھیں 2۔ اس منصب کے حامل کو پہلے «صاحب السوق» یا «عامل السوق» کہا جاتا تھا، پھر عباسی دور میں «محتسب»۔ یہ منصب مسلم شہروں میں ایک ہزار سال سے زیادہ قائم رہا۔
یہ کیا ہے
فقہاء کی زبان میں حسبہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا وہ حصہ ہے جسے ایک مقرر کردہ عہدیدار انجام دیتا ہے۔ ابن تیمیہ اسے اسلامی مناصب میں شمار کرتے ہیں، جیسے پولیس، عدلیہ اور مالی دفاتر، اور کہتے ہیں کہ ان سب کا مقصد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے 3۔ ابن خلدون اسے ان دینی مناصب میں رکھتے ہیں جو خلافت کے تحت آتے ہیں 4، اور کہتے ہیں کہ یہ قضا کے منصب کی خادم ہے، کیونکہ محتسب جن معاملات کو دیکھتا ہے وہ عام اور آسان نوعیت کے ہیں جن سے قاضی کو بالاتر رکھا جاتا ہے 1۔
محتسب اور قاضی میں فرق یہ ہے کہ قاضی صرف اس مقدمے میں فیصلہ کرتا ہے جو کوئی فریق لائے، جبکہ محتسب خود کارروائی کرتا ہے۔ وہ روزی کے معاملات، ناپ اور تول میں دھوکے اور فریب پر فیصلہ کرتا ہے، اور قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والوں کو انصاف پر مجبور کرتا ہے، اور یہ سب ایسے معاملات میں جن میں گواہی سننے کی ضرورت نہیں 1۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا مزید کہتا ہے کہ وہ تعزیر دے سکتا ہے لیکن حدود نافذ نہیں کر سکتا اور نہ موت کی سزا دے سکتا ہے؛ کہ اسے تنخواہ ملتی ہے؛ کہ فقہاء نے عورت کے اس منصب پر فائز ہونے کو جائز رکھا، کیونکہ نبی اور عمر نے عورتوں کو بازار پر مقرر کیا؛ اور یہ کہ اسے حساب جاننا چاہیے تاکہ وہ باٹ، سکے اور قیمتیں سمجھ سکے 2۔
اس سے پہلے کی دنیا
قدیم شہروں کے بازاروں میں ان کی نگرانی کرنے والے عہدیدار ہوتے تھے: یونانی شہروں میں اگورانوموس، روم میں ایڈائل، قسطنطنیہ میں شہر کا حاکم۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اسی بنا پر بعض مستشرقین نے کہا کہ اسلام میں صاحب السوق ان کی نقل تھا 2۔ جو مآخذ پڑھے گئے وہ اسلام سے پہلے مکہ یا یثرب کے بازار کے بارے میں، یا اس کی نگرانی کرنے والے کسی عہدیدار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔
کہانی
کہانی مدینہ کے بازار سے شروع ہوتی ہے۔ ابن تیمیہ غلے کے ڈھیر والی حدیث بیان کرتے ہیں: نبی کھانے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اس میں ہاتھ ڈالا تو انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ آپ نے بیچنے والے سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر فرمایا کہ جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے 5۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ نبی خود بازار کا معائنہ کرتے تھے اور بعد میں اس پر عامل مقرر کیے۔ مآخذ ان میں سے پانچ کے نام بتاتے ہیں: مکہ میں سعید بن العاص؛ اور مدینہ میں عبد اللہ بن سعید بن اُحیحہ، عمر بن الخطاب، سمراء بنت نہیک الاسدیہ اور شفاء بنت عبد اللہ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شفاء کو عمر نے مقرر کیا 2۔
ابو بکر کے دور میں بازار کے بارے میں کچھ منقول نہیں۔ پھر عمر، عثمان اور علی نے خود بازاروں کا معائنہ کیا اور ان پر عامل مقرر کیے۔ عمر نے مدینہ کے بازار پر سائب بن یزید، عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود اور سلیمان بن ابی حثمہ کو مقرر کیا۔ عثمان کے دور میں بازار کے عامل حارث بن الحکم تھے، جنہیں روزانہ دو درہم ملتے تھے، اور بعد میں عہدے کے غلط استعمال پر برطرف کیے گئے۔ طبری «تہذیب الآثار» میں لکھتے ہیں کہ علی کی بازار میں ایک مقررہ نشست تھی۔ ان عاملوں کے ہاتھ میں جو دُرّہ، یعنی کوڑا، ہوتا تھا وہی بعد میں محتسب کا نشان بنا 2۔
معالم القربہ کے محققین نبی کو محتسب کا کام کرنے والا پہلا شخص قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین نے حسبہ خود انجام دیا، پھر فتوحات پھیلنے پر محتسب مقرر کیے 6 7۔ ابن تیمیہ امیر المؤمنین عمر کا ایک خط نقل کرتے ہیں جس میں انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ ان کے نزدیک ان کے کاموں میں سب سے اہم نماز ہے 8۔
اموی دور میں یہ منصب «صاحب السوق» کے نام سے باقی رہا۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عاصم الاحول (وفات 142ھ/759ء) کوفہ کے بازار میں باٹوں کا معائنہ کرتے تھے، اور بازار سے باہر حسبہ کے معاملات پولیس کا سربراہ دیکھتا تھا۔ پھر 157ھ (773–774ء) میں، ابو جعفر المنصور کے دور میں، طبری لکھتے ہیں کہ ابو زکریا یحییٰ بن عبد اللہ بغداد میں حسبہ کے نگران تھے۔ بعض جدید محققین «محتسب» کے لقب کا پہلا استعمال المہدی، الہادی یا المامون کے دور میں رکھتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ نام کی تبدیلی سے خود منصب بدلا یا نہیں 2۔
بنانے والے
مآخذ حسبہ کو کسی ایک موجد سے منسوب نہیں کرتے۔ میوزیم عمر بن الخطاب کو اس شخص کے طور پر درج کرتا ہے جس نے اسے قائم کرنے کا حکم دیا اور اسے قائم کیا، موجد کے طور پر نہیں۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وہ خلیفہ تھے جنہوں نے خود بازاروں کا معائنہ کیا اور ان پر نام بنام عامل مقرر کیے، اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک خاتون، شفاء بنت عبد اللہ، کو مقرر کیا 2۔ مآخذ بازار کے عاملوں کی پہلی تقرری نبی کے زمانے میں رکھتے ہیں۔ میوزیم نبی کو کسی ایجاد کا «بنانے والا» درج نہیں کرتا، بلکہ اس متن میں بتاتا ہے کہ آپ نے بازار میں کیا کیا۔
یہ معلوم نہیں کہ اس منصب کو پہلی بار «حسبہ» یا اس کے حامل کو «محتسب» کس نے کہا۔ پڑھے گئے مآخذ میں بغداد کے پہلے محتسب ابو زکریا یحییٰ بن عبد اللہ ہیں، 157ھ میں، اور مأخذ ان کے نام سے زیادہ کچھ نہیں بتاتا 2۔
یہ کیسے کام کرتا ہے
امام یا اس کا نائب محتسب کو مقرر کرتا ہے۔ ابن الاخوہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ مسلمان، آزاد، بالغ، عاقل، عادل اور قادر ہو 9۔ محتسب مددگار رکھتا ہے، برائیوں کی تلاش کرتا ہے، اور ان کے مطابق سزا اور تادیب کرتا ہے 1۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا برائی کو درست کرنے کا ایک درجہ بدرجہ طریقہ بیان کرتا ہے: پہلے سمجھانا، پھر نصیحت، پھر سرزنش، پھر برائی کے آلے کو ہٹانا، اور اس کے بعد ہی تعزیر 2۔
ابن الاخوہ (وفات 729ھ) یہ کام باب بہ باب بیان کرتے ہیں:
- راستے اور بازار۔ وہ تنگ گلیوں میں بیٹھ کر بیچنے سے روکتا ہے، دکانوں کو اپنے چبوترے راستے میں بڑھانے سے روکتا ہے، اور راستے میں جانور باندھنے یا کچرا پھینکنے سے منع کرتا ہے 10۔
- باٹ اور پیمانے۔ وہ قپان کو بار بار جانچتا ہے، معیاری باٹ خشک جگہ رکھتا ہے، اور سکوں کے لیے ایک امانت دار پرکھنے والا مقرر کرتا ہے۔ رطل لوہے کے ہوں اور ان پر اس کی مہر ہو؛ پتھر کے باٹوں پر چمڑا چڑھا کر مہر لگائی جاتی ہے 11۔
- نان بائی۔ وہ انہیں روٹی اچھی طرح پکانے کا حکم دیتا ہے، ہر ایک کے لیے روزانہ کی مقدار مقرر کرتا ہے تاکہ شہر میں روٹی کم نہ پڑے، تنور صاف کرواتا ہے، اور روٹی کے ساتھ مچھلی پکانے سے منع کرتا ہے 12۔
- فصد کرنے والے اور طبیب۔ وہ فصد کرنے والوں کا رگوں کی پہچان میں امتحان لیتا ہے اور ان سے حلف لیتا ہے کہ وہ ان رگوں کی فصد نہیں کریں گے جن سے بانجھ پن ہوتا ہے 13۔ وہ طبیبوں سے بقراط کا عہد لیتا ہے: کوئی نقصان دہ دوا یا زہر نہ دیں، نہ حمل گرانے والی دوا، مریضوں کے راز رکھیں اور نگاہیں نیچی رکھیں 14۔ وہ ہڈی جوڑنے والوں کا بولس کی کتاب کے چھٹے مقالے اور ہڈیوں کی تعداد، یعنی دو سو اڑتالیس، میں امتحان لیتا ہے، اور جراحوں کا جالینوس کی زخموں والی کتاب میں 15۔
ابن تیمیہ محتسب کے کاموں میں یہ بھی شامل کرتے ہیں: لوگوں کو وقت پر نماز کی تلقین، اماموں اور مؤذنوں کی نگرانی، اور صنعتوں اور تجارت میں سچائی، امانت، کم تولنے اور دھوکے پر نظر 16 8۔ اس میں «تلقی الرکبان» سے روکنا بھی ہے، یعنی قافلوں سے سامان بازار پہنچنے اور مالکوں کو قیمت معلوم ہونے سے پہلے خرید لینا، اور قیمتوں سے ناواقف بھروسہ کرنے والے خریدار سے بہت زیادہ قیمت لینے سے روکنا بھی 17 18۔
پھیلاؤ
ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ یہ منصب مدینہ سے تمام مسلم علاقوں میں پھیلا: عراق، مصر، شام، مغرب، اندلس، ایران، وسطی ایشیا اور اناطولیہ، اور بعد میں عثمانی ریاست اور برصغیر 2۔ معالم القربہ کے محققین مصر میں حسبہ کی تاریخ 253ھ/867ء بتاتے ہیں 7۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ عبیدیوں، یعنی فاطمیوں، کے ہاں مصر اور مغرب میں، اور امویوں کے ہاں اندلس میں، یہ قاضی کے اختیار کا حصہ تھا، اور وہ اپنی مرضی سے اس پر کسی کو مقرر کرتا تھا۔ بعد میں یہ ایک الگ شاہی منصب بن گیا 1۔
اس کی بنیاد کیا تھی
ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا بعض مستشرقین کا قول نقل کرتا ہے، جن میں گودفروا دیمومبین، فون گرونباوم اور فوسٹر شامل ہیں، کہ صاحب السوق یونانی اگورانوموس، رومی ایڈائل یا بازنطینی شہری حاکم سے لیا گیا۔ ٹی ڈی وی کو اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی، اور اس کی تین وجوہ بتاتا ہے۔ یہ منصب مدینہ میں ظاہر ہوا جہاں بازنطینی اثر نہیں تھا، پہلے شام یا مصر میں نہیں۔ یہ شروع سے دینی تھا۔ اور معلوم بازنطینی بازاری ضابطہ دسویں صدی عیسوی کا ہے، یعنی اس منصب کے ظہور سے تقریباً تین سو سال بعد کا۔ ٹی ڈی وی یہ مانتا ہے کہ حسبہ کی کتابیں بعض بازنطینی بازاری قواعد نقل کرتی ہیں، جیسے شیزری اور ابن بسام کے ہاں 2۔ اس لیے میوزیم اس تعلق کو ایک متنازعہ دعوے کے طور پر درج کرتا ہے، ثابت شدہ اصل کے طور پر نہیں۔
اس پر کیا بنایا گیا
- اموی صاحب السوق۔ یہ منصب اموی دور میں جاری رہا؛ عاصم الاحول کوفہ کے بازار میں باٹوں کا معائنہ کرتے تھے 2۔
- عباسی محتسب۔ 157ھ میں بغداد میں، اور اس کے بعد ایک مستقل لقب 2۔
- حسبہ کی کتابیں۔ فقہاء نے یہ کتابیں محتسبوں کے کام کے لیے لکھیں، جن میں شیزری اور ابن بسام کی کتابیں، ابن الاخوہ کی معالم القربہ اور ابن تیمیہ کی الحسبۃ فی الاسلام شامل ہیں 2 7۔
- عثمانی احتساب۔ ٹی ڈی وی کا مقالہ اسے اپنے عثمانی حصے میں بیان کرتا ہے، جو جلد 18، صفحات 143–145 میں چھپا ہے 2۔
- صلیبی اور ہسپانوی سلطنتوں میں۔ یہ منصب صلیبی سلطنتِ بیت المقدس اور ہسپانوی سلطنتوں میں منتقل ہوا۔ وہاں بازار کے افسر کو صاحب السوق سے çavaçoque یا zabazoque، اور محتسب سے mathesseb کہا جاتا تھا۔ ہسپانوی میں آج بھی ناپ تول کے معائنہ کار کو almotacén کہتے ہیں 2۔
روزمرہ زندگی پر اثر
محتسب ہر روز لوگوں کی زندگی کو چھوتا تھا۔ جو روٹی وہ خریدتے وہ ایسے نان بائی کی ہوتی جسے اسے اچھی طرح پکانے اور ہر روز مقررہ مقدار بنانے کا حکم تھا 12۔ جس ترازو پر ان کا سامان تولا جاتا اس پر محتسب کی مہر ہوتی 11۔ جس راستے پر وہ چلتے اسے چبوترے یا جانور بند نہ کرتے 10۔ جس طبیب، فصد کرنے والے یا ہڈی جوڑنے والے کے پاس وہ جاتے، اس کا امتحان ہو چکا ہوتا اور اس سے حلف لیا جا چکا ہوتا 13 15۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ محتسب حمالوں اور کشتی والوں کو زیادہ بوجھ لادنے سے، اور مکتب کے استادوں کو بچوں کو حد سے زیادہ مارنے سے بھی روکتا تھا 1۔
اس نے تاریخ کو کیسے بدلا
حسبہ نے ایک عہدیدار کے ہاتھ میں وہ کام جمع کر دیے جو آج بہت سے اداروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ معالم القربہ کے محققین بتاتے ہیں کہ جو کام کبھی محتسب کرتا تھا وہ آج رسد، صحت، داخلہ اور دوسری وزارتوں کے کام کے برابر ہے 7۔ یہ منصب ایک ہزار سال سے زیادہ قائم رہا، مدینہ کے بازار سے عثمانی شہروں تک، اور اس کا نام صلیبی اور ہسپانوی سلطنتوں کی زبانوں میں پہنچا 2۔
اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟
یہاں اختلاف منصب کی اصل میں ہے، اس کے وجود میں نہیں۔
سنی موقف۔ معالم القربہ کے محققین نبی کو محتسب کا کام کرنے والا پہلا شخص، اور خلفائے راشدین کو حسبہ خود انجام دینے والے پہلے لوگ قرار دیتے ہیں 6 7۔ ابن الاخوہ کہتے ہیں کہ پہلی نسل کے ائمہ اسے خود انجام دیتے تھے 9۔ ابن تیمیہ اسے ان اسلامی مناصب میں شمار کرتے ہیں جن کا مقصد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے 3۔
ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا میں علمی موقف۔ یہ منصب مدینہ میں شروع ہوا، اور مآخذ ان عاملوں کے نام بتاتے ہیں جنہیں نبی، عمر اور عثمان نے مقرر کیا۔ ٹی ڈی وی کو اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ یہ یونانیوں یا بازنطینیوں سے لیا گیا، البتہ مانتا ہے کہ بعد کی حسبہ کی کتابوں نے ان کے بعض قواعد لیے 2۔
ایک اور رائے۔ بعض مستشرقین، جن میں گودفروا دیمومبین، فون گرونباوم اور فوسٹر شامل ہیں، کا خیال تھا کہ صاحب السوق، اور پھر محتسب، فتح شدہ شہروں کے یونانی اگورانوموس، رومی ایڈائل یا بازنطینی حاکم کی نقل تھا 2۔
میوزیم ان آراء کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا۔
آج
باقی ماندہ شواہد
مدینہ کے پہلے بازار کی کوئی معلوم چیز باقی نہیں۔ اموی دور کے سرکاری مہر شدہ شیشے کے باٹ باقی ہیں۔ ان میں سے ایک شام کا 743ء کا سبز شیشے کا رطل کا باٹ ہے، جو اب والٹرز آرٹ میوزیم میں ہے، اور اس پر ایک مہر دمشق کے بیت المال کے نگران ولید بن عبد الرحمن کا نام لیتی ہے۔ یہ ان مہر شدہ باٹوں سے ملتا ہے جو ابن الاخوہ بیان کرتے ہیں 11، لیکن کوئی مأخذ یہ نہیں کہتا کہ اسے کسی محتسب نے جاری کیا۔ حسبہ کی کتابیں بھی باقی ہیں، جن میں معالم القربہ اور الحسبۃ فی الاسلام شامل ہیں۔
ثقافت میں
بچوں کے لیے
بہت پہلے مدینہ میں خلیفہ ایک مرد کو، اور کبھی ایک عورت کو، بازار کی دیکھ بھال کے لیے چنتے تھے تاکہ کوئی بیچنے والا کسی کو دھوکا نہ دے۔
یہ افسر باٹوں کو جانچتا کہ وہ ٹھیک ہیں، اور ان پر مہر لگاتا 11۔ وہ دیکھتا کہ نان بائی روٹی اچھی طرح پکاتا ہے اور ہر روز سب کے لیے کافی روٹی بناتا ہے 12۔ اور کسی کو اپنا سامان یا جانور راستے کے بیچ میں چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی 10۔
بعد میں اس افسر کو محتسب کہا جانے لگا 2۔
مراجع
- ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا، «HİSBE» (جنگیز کالک اور دیگر)، آن لائن ایڈیشن، تاریخ کا حصہ۔ 2
- ابن الاخوہ، معالم القربہ فی احکام الحسبہ، 1976 کا ایڈیشن، اسکین صفحات 5–6، 53، 137، 147، 157، 251، 258، 260۔ 9
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام، دار الکتب العلمیہ، صفحات 11، 16–18، 20–21۔ 3
- ابن خلدون، المقدمہ، صفحات 216 اور 221، فصل «الحسبہ والسکہ»۔ 1
تعلقات
- Described by
- معالم القربة في أحكام الحسبة· الحسبۃ فی الاسلام· مقدمة ابن خلدون
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر· الحسبة· الاحتكار· تسعیر (حاکم کا بازار میں قیمت مقرر کرنا)· علم الجبر والمقابلہ (خوارزمی کے ہاں الجبرا ایک مستقل علم کے طور پر)· طراز (کپڑے اور قرطاس پر خلافت کی لکھی ہوئی علامت)· ابن الأخوة· عمر بن الخطاب
ماخذ
- مقدمة ابن خلدون , p. 221
- الحسبة — موسوعة TDV الإسلامية (جنكيز كالَك، وضياء كازيجي، وآخرون) , §history
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 11
- مقدمة ابن خلدون , p. 216
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 18
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 5
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 6
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 17
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 53
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 137
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 147
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 157
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 251
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 258
- معالم القربة في أحكام الحسبة (تحقيق محمد محمود شعبان وصديق أحمد عيسى المطيعي، 1976) , p. 260
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 16
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 20
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 21
- Watt, Muhammad at Medina (1956)
- Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حسبہ اور بازار کا محتسب”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/hisba/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON