ایک نظر میں
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
مامون نویں صدی کا ایک عباسی خلیفہ تھا، ہارون الرشید کا بیٹا۔ وہ علم اور کتابوں کا شوقین تھا اور اس کے دور میں بیت الحکمت میں ترجمہ پھولا — اسی دور میں محنہ بھی آیا جس نے علماء کی آزمائش کی۔ اس نے تقریباً بیس برس حکومت کی اور 833ء میں انتقال ہوا۔
عبد اللہ مامون بن ہارون الرشید، ساتویں عباسی خلیفہ (198–218 ہجری / 813–833ء)، اپنے بھائی امین کے معزول اور بھائیوں کی خانہ جنگی میں ہلاکت کے بعد تخت پر آیا؛ وہ مرو سے حکومت کرتا رہا پھر بغداد لوٹا۔ اس کا دور بیت الحکمت کی ترجمہ تحریک اور فلسفہ، فلکیات اور جغرافیہ کی سرپرستی کے لیے مشہور ہے، جس میں زمین کی پیمائش کا معروف کارنامہ بھی ہے۔ دوسری طرف محنہ تھا: اس نے معتزلہ کے قرآن کے مخلوق ہونے کے نظریے کو قاضیوں اور علماء پر آزمائش کے لیے نافذ کیا اور احمد بن حنبل انکار پر سزا پائے — جسے سنی یادداشت عقیدے میں ریاستی مداخلت مانتی ہے۔ مامون 218 ہجری میں طرسوس میں انتقال کیا؛ اس کا بھائی معتصم جانشین ہوا۔
کہانی گو (10–12) مہم جوؤں کا متن پڑھتے ہیں، پھر طالبِ علم کے متن کی طرف بڑھتے ہیں۔
عبد اللہ مامون بن ہارون الرشید (198–218 ہجری / 813–833ء)، ساتویں عباسی خلیفہ، اپنے بھائی امین کے خلع کے بعد بیعت پایا جس خانہ جنگی نے بغداد کا محاصرہ کیا تھا؛ وہ برسوں خراسان میں رہا پھر 204 ہجری میں بغداد لوٹا۔ اس کا دور ترجمہ تحریک کی انتہا سے بندھا ہے: بیت الحکمت یونانی، فارسی اور سنسکرت کتب کے نقل کا مرکز بنا اور خلیفہ نے سنجار میں زمین کے محیط کی پیمائش اور فلکیاتی جدولوں کی تصدیق جیسے منصوبے سپورت کیے، اور وہ مناظروں اور متکلمین کے مجلسوں کا شوقین یاد آتا ہے۔ اسی ریاستی طاقت کا دوسرا رخ محنہ تھا: 218 ہجری میں — انتقال سے کچھ پہلے — مامون نے قاضیوں پر قرآن کے مخلوق ہونے کا معتزلی اعلان نافذ کیا اور علماء کو اس پر آزمایا؛ احمد بن حنبل نے انکار کیا اور معتصم کے دور میں سزا پایا جو اس پالیسی کو جاری رکھا — سنی یادداشت میں سلاطین اور فقہاء کے نزاع کی علامت۔ مامون 218 ہجری میں مہم پر طرسوس میں انتقال کیا اور اس کا بھائی ابو اسحاق معتصم جانشین ہوا؛ تاریخ میں اس کا عہد ابتدائی عباسی تہذیب کی بلندی اور اس کے عقیدتی بحران دونوں ہے۔
خلاصہ
عبداللہ مامون، ہارون الرشید کے بیٹے اور عباسی خلیفہ، جن کی بغداد میں بیعت ہوئی جب ان کے بھائی امین کو 196 ہجری میں معزول کیا گیا، اور ان کی وفات 218 ہجری میں ہوئی۔ 1 2 طبری ان کے دور میں قرآن کے بارے میں آزمائش (محنہ) کا ذکر کرتے ہیں۔ 3
نشو و نما اور امر
سیوطی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے چچا ہادی کی وفات اور اپنے والد کی بیعت کی رات 170 ہجری میں پیدا ہوئے۔ 4 مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ رشید نے ان کے بارے میں کہا کہ ان میں منصور کی سختی اور مہدی کی پارسائی پہچانی جاتی ہے، اور ان کی والدہ باذغیسی تھیں جن کا نام مراجل تھا۔ 9
مسعودی بیان کرتے ہیں کہ ابتدا میں، جب فضل بن سہل ان پر غالب تھے، وہ ستاروں کے احکام میں غور کرنے کی طرف مائل تھے۔ جب وہ عراق آئے تو اس سے دور ہو گئے، متکلمین کے ساتھ بیٹھنے لگے، جدل کرنے والوں کو قریب کیا، فقہاء اور ادباء کو اپنی مجلس میں رکھا اور ان کے وظائف جاری کیے۔ وہ انھیں لوگوں میں سب سے زیادہ درگزر کرنے والا اور مال میں سب سے زیادہ سخی بیان کرتے ہیں۔ 8
ان کا عہد
سیوطی بیان کرتے ہیں کہ وہ 204 ہجری میں بغداد کی طرف گئے اور صفر میں داخل ہوئے، اور 218 ہجری میں انھوں نے لوگوں کو خلقِ قرآن کے قول سے آزمایا۔ 5 اور ذکر کرتے ہیں کہ خلفاء میں سے قرآن کو صرف عثمان بن عفان اور مامون نے حفظ کیا۔ 6
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ ان کی وفات 218 ہجری میں عین القشیرہ کے قریب بدیدون میں ہوئی، جب وہ انچاس سال کے تھے، اور انھیں طرسوس میں دفن کیا گیا۔ 10
یہاں بیان نہیں ہوا: جدید تحقیقات کی رائے محنہ اور ان کی پالیسی کے بارے میں، جس کے لیے مزید ماخذ درکار ہیں۔
آپ کا انتخاب صرف اسی براؤزر میں محفوظ رہتا ہے۔
تعلقات
- Related to
- أبو الصلت عبد السلام بن صالح· أبو مسلم مستملي يزيد بن هارون· الحسن بن سهل· بوران بنت الحسن بن سهل· محمد بن سعد كاتب الواقدي· محمد بن زياد الأعرابي· النضر بن شميل· سلم صاحب بيت الحكمة· يحيى بن أكثم· يحيى بن معين· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)
- Participated in
- إحصاء أولاد العباس سنة مئتين· عهد المأمون إلى علي الرضا· وقعة طاهر بن الحسين مع علي بن عيسى· فتح إقريطش· بيعة هارون الرشيد· قسمة الخلافة بين أبناء الرشيد· إذعان كابل شاه للمأمون· دخول المأمون مصر· بعثة المأمون في طلب كتب اليونان· نداء المأمون بالبراءة ممن ذكر معاوية بخير· استمالة المأمون وجند المعتصم لأهل ما وراء النهر· زواج المأمون ببوران· حركة قم وإعادة فتحها· خراب زبطرة وغزوة المعتصم· حصار بغداد في حرب الأمين والمأمون
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
هارون الرشيد· محمد الأمين بن هارون الرشيد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· بعثة المأمون في طلب كتب اليونان· زواج المأمون ببوران· سلم صاحب بيت الحكمة· المعتصم بالله أبو إسحاق بن الرشيد· طاهر بن الحسين
ماخذ
- تاريخ الرسل والملوك — الطبري (تحقيق أبو الفضل إبراهيم) , j.8 p.428
- تاريخ الرسل والملوك — الطبري (تحقيق أبو الفضل إبراهيم) , j.8 p.646
- تاريخ الرسل والملوك — الطبري (تحقيق أبو الفضل إبراهيم) , j.8 p.631
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 456
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 487-489
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 496-497
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 502,515
- مروج الذهب — المسعودي , p. 672
- مروج الذهب — المسعودي , p. 337-340
- مروج الذهب — المسعودي , p. 399-402
- مروج الذهب — المسعودي , p. 410-411
- مروج الذهب — المسعودي , p. 686-687
- الفرغاني، جوامع علم النجوم وأصول الحركات السماوية (طبعة غوليوس، أمستردام 1669)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد اللہ المامون بن ہارون الرشید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-allah-al-mamun/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-29.