ایک نظر میں
- دور
- العصر المغولي وما بعده
- خطہ
- levant-iraq
law-and-courtspolitics-governance-and-authoritytrade-and-finance
موجز
«الحسبۃ فی الاسلام» شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ کا رسالہ ہے، جو «الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ» (اسلام میں حسبہ، یا اسلامی حکومت کا وظیفہ) کے نام سے چھپا۔ 1 مصنف اسے آغاز میں «حسبہ کے بارے میں ایک قاعدہ» کہتے ہیں اور اس کی بنیاد یہ رکھتے ہیں کہ اسلام میں تمام ولایتوں کا مقصد یہ ہے کہ دین سارا اللہ کے لیے ہو اور اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ 2 ایڈیشن کا حاشیہ مصنف کا تعارف یوں کراتا ہے: وہ حران میں پیدا ہوئے، والد انہیں دمشق لے آئے، ایک فتوے کی وجہ سے مصر بلائے گئے اور کچھ عرصہ قید رہے، 712ھ میں دمشق لوٹے، 720ھ میں وہاں گرفتار ہوئے، پھر دوبارہ گرفتار ہوئے اور قلعۂ دمشق میں قید کی حالت میں فوت ہوئے؛ ان کی عمر 661 سے 728ھ تک رہی۔ 3
اصل: ولایتیں امر اور نہی ہیں
ابن تیمیہ آغاز کرتے ہیں کہ بنی آدم کی دنیا و آخرت کی مصلحت اجتماع، تعاون اور باہمی مدد کے بغیر پوری نہیں ہوتی — اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان طبعاً مدنی ہے؛ لوگوں کے لیے کوئی حکم دینے اور روکنے والا ضروری ہے، اور آدمی کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہونا بہتر ہے۔ 4 سفر میں تین میں سے ایک کو امیر بنانے کے حکم سے وہ استدلال کرتے ہیں کہ بڑی جماعتوں میں ولایت بدرجۂ اولیٰ واجب ہے، اور جو ولایت کو دین سمجھ کر اللہ کا قرب چاہے اس کے لیے اسے افضل اعمال میں شمار کرتے ہیں۔ 5 پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ دین اور تمام ولایتوں کا خلاصہ امر و نہی ہے؛ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر قادر مسلمان پر واجب، فرضِ کفایہ ہے، اور جب کوئی اور ادا نہ کرے تو قادر پر فرضِ عین ہو جاتا ہے؛ اور قدرت سلطان اور ولایت ہے، لہٰذا اہلِ اقتدار پر وہ ذمہ داری ہے جو دوسروں پر نہیں۔ 6 تمام ولایتوں — پولیس، قضا، مال اور حسبہ — کا مقصد یہی ہے۔ 6
عہدے داروں میں صدق اور عدل
وہ عہدے داروں کو دو قسموں میں بانٹتے ہیں: وہ جو امانت دار گواہ کی طرح ہیں اور ان سے سچائی مطلوب ہے — گواہ، دیوان کا کاتب، نقیب اور عریف؛ اور وہ جو امانت دار اور واجب الاطاعت کی طرح ہیں اور ان سے عدل مطلوب ہے — امیر، حاکم اور محتسب۔ 6 7 حاکم پر لازم ہے کہ اہلِ صدق و عدل سے مدد لے، اور یہ ممکن نہ ہو تو جو بہتر سے بہتر میسر ہو، کیونکہ واجب وہی ہے جو مقدور ہو۔ 7
محتسب کا دائرہ
ابن تیمیہ کے نزدیک ولایتوں کا عموم و خصوص الفاظ، احوال اور عرف سے معلوم ہوتا ہے اور شریعت میں اس کی کوئی مقرر حد نہیں: ان کے زمانے میں شام اور مصر کے عرف میں ولایتِ حرب ان حدود کے نفاذ سے مخصوص تھی جن میں اتلاف ہو، قضا ان امور سے جن میں تحریر اور گواہ ہوں، جبکہ مغرب میں والیِ حرب کا کوئی فیصلہ نہیں تھا بلکہ وہ قاضی کے حکم کا نافذ کرنے والا تھا۔ 8 9 محتسب ان امور میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے جو والیوں، قاضیوں اور اہلِ دیوان کے خصائص میں سے نہ ہوں: وہ عوام کو پانچوں نمازیں ان کے اوقات میں پڑھنے کا حکم دیتا ہے اور نماز نہ پڑھنے والے کو مار اور قید کی سزا دیتا ہے، رہا قتل تو وہ کسی اور کے ذمے ہے؛ اور ائمہ اور مؤذنوں کی نگرانی کرتا ہے۔ 9 وہ جمعہ و جماعات، سچ بولنے اور امانتیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے، اور جھوٹ، خیانت، ناپ تول میں کمی اور صنعتوں، خرید و فروخت اور دیانات میں دھوکے سے روکتا ہے۔ 10 ایڈیشن کی فہرست کے مطابق محتسب کو قتل اور قطع کا اختیار نہیں۔ 11
دھوکہ اور حرام عقود
ابن تیمیہ دھوکے کو خرید و فروخت میں (عیب چھپانا، مال کی ملمع کاری) اور صنعتوں میں، جیسے کھانا اور کپڑا تیار کرنا، داخل کرتے ہیں؛ اور دھوکے بازوں میں «کیمیاگروں» کا ذکر کرتے ہیں جو سکوں، جواہر اور خوشبو میں ملاوٹ کر کے اللہ کی تخلیق کی نقل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ کیمیا کی حقیقت یہی ہے۔ 12 13 وہ منکرات میں سود اور جوئے کے عقود، غرر کی بیع، نجش (خریدنے کے ارادے کے بغیر بولی بڑھانا)، تصریہ، دو اور تین فریقی سودی معاملات، اور مال کے بازار پہنچنے سے پہلے اسے جا کر خرید لینے کو شمار کرتے ہیں۔ 13 14 وہ بھاؤ تاؤ نہ کرنے والے سادہ خریدار کو بازار کے نرخ سے زیادہ پر بیچنے سے اور احتکار سے منع کرتے ہیں، اور محتکر کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی ضرورت کا غلہ خرید کر روک لیتا ہے تاکہ اسے مہنگا کرے۔ 15
تسعیر (نرخ بندی)
رسالے کے مشہور ترین حصوں میں تسعیر کی یہ تقسیم ہے کہ ایک ظلم ہے جو ناجائز ہے اور ایک عدل ہے جو جائز بلکہ واجب ہے: اگر لوگ معروف طریقے سے بیچ رہے ہوں اور چیز کی کمی یا لوگوں کی کثرت سے نرخ بڑھ جائے تو کسی معین قیمت پر مجبور کرنا ناحق جبر ہے — اور اسی پر انس کی وہ حدیث محمول ہے جس میں نبی نے نرخ مقرر کرنے سے انکار کیا؛ لیکن اگر مال والے لوگوں کی سخت ضرورت کے باوجود معروف قیمت سے زیادہ کے بغیر بیچنے سے انکار کریں تو ان پر قیمتِ مثل پر بیچنا واجب ہے۔ 16 ان کے نزدیک جب کسی چیز کی فروخت مخصوص لوگوں تک محدود کر دی جائے تو تسعیر «بلا نزاع» واجب ہے۔ 16 17 وہ دوبارہ اس مسئلے پر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ شافعی ائمہ میں معاوضہ واجب کرنے اور اس کی تقدیر سے سب سے دور ہیں، کہ ان کے اصحاب کے ضرورت کے وقت تسعیر میں دو قول ہیں، اور ابو حنیفہ کے اصحاب کا قول نقل کرتے ہیں کہ سلطان نرخ مقرر نہ کرے مگر جب عام ضرر ہو اور غلے والے فاحش زیادتی کریں، تو اس وقت اہلِ رائے کے مشورے سے مقرر کرے۔ 18 19
فروضِ کفایہ اور مزارعت
ان کے نزدیک جو کام فرضِ کفایہ ہیں، جیسے کھیتی، کپڑا بننا اور تعمیر، جب لوگوں کو ان کی ضرورت ہو اور کوئی اور نہ کرے تو اہل لوگوں پر واجب ہو جاتے ہیں اور حاکم انہیں اجرتِ مثل پر مجبور کر سکتا ہے۔ 20 وہ مزارعت کی طرف استطراد کرتے ہیں اور اسے علما کے دو قولوں میں زیادہ صحیح کے مطابق جائز قرار دیتے ہیں: نبی اور خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں کا عمل، اور فقہائے حدیث جیسے احمد، اسحاق، داود، بخاری، ابن خزیمہ اور ابن المنذر، اور لیث، ابن ابی لیلیٰ، ابو یوسف اور محمد بن الحسن کا مذہب؛ اور ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے نامعلوم اجرت پر اجارے پر قیاس کر کے اسے حرام کہا۔ 20 21
مالی تعزیر
ابن تیمیہ ایک فصل میں بیان کرتے ہیں کہ مالی سزاؤں کے ذریعے تعزیر مخصوص مواقع پر مشروع ہے: مالک کے مشہور قول میں، احمد کے مذہب میں، اور شافعی کے ایک قول میں؛ وہ سنت اور خلفا کے عمل سے نظائر پیش کرتے ہیں اور ان کے منسوخ ہونے کے دعوے کو رد کرتے ہیں۔ 22 23 پھر وہ اللہ کے حق والے واجبات کو عبادات، سزاؤں اور کفارات میں تقسیم کرتے ہیں، ہر ایک بدنی، مالی یا مرکب، اور منکر کو مٹانے والی مالی سزا کو اتلاف، تغییر اور دوسرے کو مالک بنانے میں تقسیم کرتے ہیں۔ 24 دیکھیے: کیا تعزیر میں مال لینا یا تلف کرنا جائز ہے؟
خاتمہ
عجائب گھر میں موجود ایڈیشن
جو یہاں ذکر نہیں ہوا
دیانات میں دھوکے کی فصلیں (ص43-47)، جن میں فرقوں اور بدعات پر گفتگو ہے، اور حدود و تعزیر کی فصل (ص47-49) کی تفصیل یہاں نہیں دی گئی۔
تعلقات
- About
- الحسبة
- Rules on
- تسعیر (حاکم کا بازار میں قیمت مقرر کرنا)· الاحتكار
- Mentions
- الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر· عمر بن الخطاب
- Described
- حسبہ اور بازار کا محتسب
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الموطأ 1898 — يحيى عن مالك: بلغه أن عمر بن الخطاب قال لا حكرة في سوقنا، فلا يعمد رجال بأيديهم فضول من أذهاب فيحتكروه على الناس، وأيما جالب جلب على عمود كبده فذلك ضيف عمر· الموطأ 1899 — مالك عن يونس بن يوسف عن سعيد بن المسيب: مر عمر بحاطب بن أبي بلتعة وهو يبيع زبيبا له بالسوق، فقال له: إما أن تزيد في السعر، وإما أن ترفع من سوقنا· کتاب الخراج (ابو یوسف)· تفسیر القرآن الکریم (درسی سلسلہ)· الشرطة في خلافة علي· التجارة في الإسلام· مشورة علي لعمر في القضاء· آخر حج لعمر واستخلاف علي على المدينة
ماخذ
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 1
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 6
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 5
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 7
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 9
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 11
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 12
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 15
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 16
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 17
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 63
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 18
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 19
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 20
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 21
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 22
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 23
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 39
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 40
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 26
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 27
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 49
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 50
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 51
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 59
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 64
- ابن تیمیہ، الحسبۃ فی الاسلام او وظیفۃ الحکومۃ الاسلامیہ (دار الکتب العلمیہ، بیروت) , p. 2
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الحسبۃ فی الاسلام”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/al-hisba-fi-al-islam/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON