قضية أسارى بدر

قضية أسارى بدر

رمضان 2 ھ

المدينة المنورة

The aftermath decision over the seventy Badr captives: the consultation in which Abu Bakr advised ransom and Umar advised execution, the ransom terms (1000–4000 dirhams, or teaching ten boys to write), the executions of al-Nadr and Uqba, and the exegetical comments in 8:67-68 and 47:4.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

battles

پڑھنے کی سطحاسے بچوں کے حصے میں پڑھیں

بدر کے بعد قریب ستر قریشی قیدیوں کا معاملہ: فدیے بمقابلہ سخت سزا کی مشورت، پھر فدیا؛ جس کے پاس فدیا نہ ہو وہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھاتا۔

بدر کے بعد قریب ستر قریشی قیدیوں کا معاملہ: نبی نے قیدیوں کو صحابہ میں تقسیم کیا اور بھلائی کی وصیت کی، اور کتاب بتاتی ہے کہ وہ قیدیوں کو روٹی دیتے اور خود کھجور پر قناعت کرتے۔ اس نے مشورہ کیا: ابو بکر نے فدیا تجویز کیا اور عمر نے گردنیں کا کہا؛ نبی نے ابو بکر کی رائے پسند کی اور فدیا لیا — ایک ہزار سے چار ہزار درحم؛ جس کے پاس نہ ہو وہ آزاد کیا گیا کہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھائے۔ بلا فدیا فضل کیا گیا بعض پر؛ ابو العاص کو زینب کے بھیجے فدیے — خدیجہ کا ہار — پر آزاد کیا گیا اس شرط پر کہ وہ اسے جانے دے، تو وہ ہجرت کر آئی۔ اور مشورے پر عتاب انفال 67–68 میں نازل ہوا، پھر آیت محمد فضل یا فدیے کا حکم آئی۔

کہانی گو (10–12) مہم جوؤں کا متن پڑھتے ہیں، پھر طالبِ علم کے متن کی طرف بڑھتے ہیں۔

بدر کے بعد قریب ستر قریشی قیدیوں کا معاملہ: فدیے بمقابلہ قتل کی مشورت، پھر فدیا، دو قیدیوں کی سزائے موت اور فیصلے پر قرآنی تبصرہ۔ نبی نے قیدیوں کو صحابہ میں تقسیم کیا اور بھلائی کی وصیت کی؛ کتاب بتاتی ہے کہ وہ قیدیوں کو روٹی دیتے اور خود کھجور پر قناعت کرتے۔ اس نے ابو بکر اور عمر سے مشورہ کیا: ابو بکر نے فدیا تجویز کیا، عمر نے گردنیں مارنے کا کہا؛ نبی نے ابو بکر کی رائے پسند کی اور فدیا لیا — ایک ہزار سے چار ہزار درحم؛ جس کے پاس نہ ہو وہ آزاد کیا گیا کہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھائے۔ بلا فدیا فضل کیا گیا مطلب بن حنطب، صیفی اور ابو عزہ جمحی پر؛ ابو العاص کو زینب کے بھیجے فدیے — خدیجہ کا ہار — پر آزاد کیا گیا اس شرط پر کہ وہ اسے جانے دے، تو وہ ہجرت کر آئی۔ نبی نے سہیل کے سامنے کے دانت نکالنے کی تجویز انکار کی، مثلے سے بچتے ہوئے؛ اور عمرو بن ابی سفیان کا تبادلہ مکہ میں قید سعد بن نعمان سے ہوا۔ نضر بن حارث کو صفراء میں علی کے ہاتھ سے اور عقبہ بن ابی معیت کو عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے سزائے موت دی گئی۔ مشورے پر عتاب انفال 67–68 میں نازل ہوا، پھر آیت محمد 4 فضل یا فدیے کا حکم آئی۔ علی بتاتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب سے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث قید ہوئے۔

خلاصہ

بدر کے بعد قریش کے تقریباً ستر قیدیوں کے معاملے پر غور ہوا: قتل یا فدیے کی مشورت، پھر فدیہ لینا، دو قیدیوں کا قتل، اور اس فیصلے پر قرآنی تبصرہ 1۔

تقسیم اور وصیت

نبی نے قیدی صحابہ میں تقسیم کیے اور ان کے ساتھ بھلائی کی وصیت کی؛ کتاب روایت کرتی ہے کہ صحابہ اپنے قیدیوں کو روٹی دیتے اور خود کھجور پر گزارا کرتے 2۔

مشورہ

نبی نے ابو بکر اور عمر سے مشورہ کیا: ابو بکر نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا تاکہ مسلمان مضبوط ہوں اور شاید اللہ انہیں ہدایت دے، عمر نے گردنیں مارنے کا مشورہ دیا؛ نبی نے ابو بکر کی رائے کو ترجیح دی اور فدیہ لیا 3 4۔

فدیے کی شرائط

فدیہ ایک ہزار سے چار ہزار درہم تک تھا؛ جس کے پاس فدیہ نہ ہوتا وہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھانے کی شرط پر رہا کیا جاتا 3۔ مطلب بن حنطب، صیفی بن ابی رفاعہ اور ابو عزہ الجمحی کو بغیر فدیے کے احسان کے طور پر چھوڑا گیا 3۔ ابو العاص بن الربیع کو زینب کے بھیجے ہوئے فدیے پر چھوڑا گیا، وہ ہار جو خدیجہ کے پاس تھا، اس شرط پر کہ زینب کو بھیج دیں، تو وہ ہجرت کر گئیں 3۔ نبی نے سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت نکالنے کی تجویز مسترد کی تاکہ مثلہ نہ ہو 3۔ عمرو بن ابی سفیان کا تبادلہ سعد بن النعمان سے ہوا جو مکہ میں قید تھے 3۔

دو قیدیوں کا قتل

نضر بن الحارث، جو معرکے میں مشرکین کے علمبردار تھے، صفراء میں علی کے ہاتھوں قتل ہوئے 5۔ عقبہ بن ابی معیط عرق الظبیہ میں عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوئے، اور کہا گیا کہ علی کے ہاتھوں 5 6۔

قرآنی تبصرہ

فدیہ لینے کی مشورت پر یہ عتاب نازل ہوا: «کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں خونریزی کرے» (الانفال 67–68)، پھر محمد کی آیت 4 آئی جو احسان یا فدیے کا حکم دیتی ہے؛ کتاب ابن الجوزی سے نقل کرتی ہے کہ عمر نے کہا کہ آیت ان کی رائے کے موافق نازل ہوئی 7 4۔

فدیہ اور عتاب (الرحیق المختوم ص230)

عتاب سورۃ الانفال میں فدیہ لینے پر نازل ہوا جو خونریزی سے پہلے لیا گیا تھا۔ فدیہ چار ہزار اور ایک ہزار درہم کے درمیان تھا، اور جس کے پاس فدیہ نہ ہوتا وہ مدینہ کے لڑکوں کو لکھنا سکھاتا (بدر کے بعد) 3۔

آپ کا انتخاب صرف اسی براؤزر میں محفوظ رہتا ہے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Occurred at
المدينة المنورة
Part of
غزوة بدر الكبرى
Had participant
محمد· أبو بكر الصديق· عمر بن الخطاب· النضر بن الحارث· عقبة بن أبي معيط· عاصم بن ثابت· سهيل بن عمرو· العباس بن عبد المطلب· مصعب بن عمير
Caused by
غزوة بدر الكبرى
Revealed in
القرآن 47:4· القرآن 8:67· القرآن 8:68

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

غزوة بدر الكبرى· مكة المكرمة· محمد· قريش· المدينة المنورة· غزوة أحد· الهجرة النبوية· عمر بن الخطاب

ماخذ

  1. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , pp.228-231
  2. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.229
  3. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.230
  4. تاريخ عمر بن الخطاب — ابن الجوزي
  5. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.228
  6. سنن أبي داود
  7. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , pp.230-231
  • السيرة النبوية — ابن هشام
  • محمد القائد الأعلى — عبد المجيد إبراهيم هندي
  • أسمى المطالب في سيرة علي بن أبي طالب: شخصيته وعصره — الجزء الأول
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قضية أسارى بدر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/badr-prisoners/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زمانہ

ادوار، زمانی خاکے، تاریخ میں یہ دن، اسلامی دنیا کا کوئی بھی سال۔
متعلقہ

غزوة بدر الكبرى

The first major battle between the Muslims of Medina and the Quraysh of Mecca, fought at the wells of Badr on 17 Ramadan 2 AH.