حسن بن مات مونس

حسن بن مات مونس

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

مكة المكرمة

کیلنتن کی 1915ء کی بغاوت کے رہنما (1853ء–1915ء)، اصل نام حسن بن مات مونس، جو ٹوک جانگوت کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے کیلنتن اور مکہ میں دینی تعلیم حاصل کی، پاسیر پوتیہ کے لوگوں کی قیادت کرتے ہوئے نئے برطانوی ٹیکسوں سے انکار کیا، ساتھیوں کے ساتھ چند دن پاسیر پوتیہ کی آزادی کا اعلان کیا، اور 1915ء میں برطانوی اور ہندوستانی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الرزاق البيطار · أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا · احمد بمبا

مکان میں

مكة المكرمة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حسن بن مات مونس (1853ء–1915ء)، جو ٹوک جانگوت یعنی «لمبی داڑھی والے بزرگ» کے نام سے مشہور ہیں، کیلنتن کے دینی استاد اور کسان تھے جنہوں نے 1915ء میں پاسیر پوتیہ میں نئی برطانوی انتظامیہ اور اس کے ٹیکسوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی اور لڑائی میں مارے گئے۔ ان کے بارے میں اردو ویکیپیڈیا پر کوئی مضمون نہیں ہے، اس لیے یہ تحریر انگریزی اور ملایہ مضامین اور وکی ڈیٹا پر مبنی ہے۔ 1 2 3

    پس منظر

    وہ پاسیر پوتیہ کے کامپونگ جیرام میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد پانگلیما مونس کیلنتن کے محل میں سپہ سالار تھے۔ انہوں نے کیلنتن اور مکہ میں دینی تعلیم حاصل کی اور سیلات کے فن میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ 1909ء کے معاہدے کے بعد کیلنتن سیام سے برطانیہ کے پاس چلا گیا، تو برطانوی افسر انچک لطیف نے موروثی مقامی سردار انگکو بیسار جیرام کی جگہ پاسیر پوتیہ کی انتظامیہ سنبھالی اور زمین، فی کس اور پیداوار پر نئے ٹیکس سختی سے نافذ کیے۔ 1 2

    بغاوت اور ان کی موت

    انگکو بیسار، ٹوک جانگوت، حاجی سعید، چیہ ساہاک اور پنگولو آدم نے برطانیہ سے عدم تعاون کا عہد کیا اور پورے ضلع میں ٹیکس سے انکار پھیل گیا۔ جب سارجنٹ سلیمان 29 اپریل 1915ء کو انہیں گرفتار کرنے آیا تو انہوں نے تسلیم ہونے سے انکار کیا اور جھڑپ میں سلیمان مارا گیا۔ باغیوں نے پاسیر پوتیہ پر قبضہ کر کے اس کی آزادی کا اعلان کیا اور انگکو بیسار کو حکمران اور ٹوک جانگوت کو وزیر اعظم بنا کر حکومت قائم کی۔ سلطان نے انہیں غدار قرار دیا اور ان کے خلاف پہلے برطانوی اور پھر ہندوستانی فوج بھیجی گئی؛ وہ لڑائی میں مارے گئے — ملایہ مضمون ان کی موت 25 مئی 1915ء کو کامپونگ پوپوہ میں بتاتا ہے، جبکہ انگریزی مضمون کا متن 25 جون 1915ء کا آخری حملہ بیان کرتا ہے۔ ان کی لاش کوتا بھارو لائی گئی، محل کے سامنے لٹکائی گئی اور پھر پاسیر پیکان میں دفن کی گئی۔ 1 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Traveled to
    مكة المكرمة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    دار الندوة· الكعبة· المسجد الحرام· عبادة الأصنام في الجاهلية ومراسمها· مناصب قريش في مكة· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· تدبير أبي جهل لضرب النبي بحجر وهو ساجد· أبو طالب يجمع بني هاشم وبني المطلب

    ماخذ

    1. Tok Janggut — English Wikipedia
    2. Tok Janggut — Malay Wikipedia
    3. Tok Janggut — Wikidata Q7813447
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسن بن مات مونس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tok-janggut/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    دار الندوة

    The council house founded by Qusayy on the north side of the mosque of the Kaaba, with its door into the mosque; Quraysh deliberated its grave matters and married off its daughters there.