علی حاجی اکوشا

علي حاجي الأكوشي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

علی حاجی اکوشا (1847–1930) اکوشا کے داغستانی عالم اور فقیہ تھے، جو وہاں کی جامع مسجد کے قاضی بنے اور 1918 میں شمالی قفقاز و داغستان کے شیخ الاسلام منتخب ہوئے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی صدارت کی جس نے داغستان پر سفید فوج کے حملے کی مزاحمت کی، اور وسطی داغستان میں ان کے مریدوں کی بڑی تعداد تھی۔ انہوں نے ابتدا میں شریعت کی امید پر بالشویکوں کی حمایت کی، پھر ان کی مذہب دشمن پالیسی کی مخالفت کی؛ سوویت نظام نے 1928 میں ان کے بہت سے پیروکاروں اور بیٹوں کو سزائے موت دی، اور اس کے کچھ عرصے بعد اکوشا میں ان کا انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · mystic · qadi
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · جماعت علی شاہ · عمر پاشا وریونی دوم · بدرالدین الحسنی · لیلیٰ ساز

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور عہد

    وہ 1847 میں گاؤں اکوشا میں پیدا ہوئے، جو اس وقت اکوشا دارگو اتحاد کے تحت تھا۔ ان کے والد ممّا اکوشا کی جامع مسجد کے مؤذن (بودون) تھے، اور علی نے پہلے والد سے پھر مقامی مدرسے میں تعلیم پائی۔ بعد میں انہوں نے اس زمانے کے معروف ترین داغستانی علماء کے ہاں پڑھا، جن میں طریقہ کے شیخ عبدالرحمن حاجی السغوری، حاجیلا علی الاقوشی اور الیاس بن محمد الجودقاری شامل ہیں؛ روسی مضمون عبدالرحمن بن محمد از کاکا شورا، ابراہیم از اندی اور دازی از گوبدن کا اضافہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انہوں نے آوار، عربی اور قوموق زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ 1 2

    انہوں نے تعلیم کے لیے داغستان چھوڑنے کا ارادہ کیا، مگر السغوری نے انہیں وطن ہی میں رہ کر نام کمانے پر آمادہ کیا۔ 1890 میں اکوشا کی جامع مسجد کے امام کی سفارش پر وہ ان کے جانشین کے طور پر مسجد کے قاضی بنے؛ انگریزی مضمون میں اس جانشینی کی دو متعارض روایات ہیں: کہ وہ غاجیلا علی کی ریٹائرمنٹ اور جانشین نامزدگی پر آئے، یا ان کی وفات پر۔ اسی سال انہوں نے حج کیا، جس کے بعد سبز عمامہ باندھنا شروع کیا اور نام کے ساتھ «حاجی» جوڑا۔ تمیر خان شورا، دارگین اور قایطاغو تاباساران کے اضلاع میں ان کے بے شمار مرید تھے، جن میں ان کا بڑا احترام تھا، اور پورے داغستان سے علماء اور عوام متنازع مسائل کے فیصلے کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ 1 2

    اکوشا کی مقامی روایت ہے کہ دیربنت کے ایک تاجر نے، جس کے خاندان کی جائیداد انہوں نے شریعت کے مطابق تقسیم کی تھی، انعام میں ایک چراگاہ (قوتان) پیش کی تو انہوں نے یہ جان کر انکار کر دیا کہ دولت ناجائز طریقے سے جمع ہوئی تھی، اور کہا کہ یہ خاندان کی نہیں بلکہ عوام کی ہے؛ اور ان کے بیٹے محمد یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک مقامی عہدیدار کو اس وقت تک حج کی اجازت دینے سے انکار کیا جب تک وہ لی ہوئی رشوتیں واپس نہ کر دے۔ وہ روسی شاہی حکومت کے ناقد اور 1913–1914 کی داغستانی تحریک کے حامی تھے؛ حکومت پر تنقید، اسلام کی تشہیر اور غیر مسلموں کی مذمت پر انہیں تین برس قید کی سزا ہوئی۔ اس کے باوجود نومبر 1914 میں انہوں نے دیربنت اسٹیشن پر شہنشاہ نکولس دوم کے استقبال میں شرکت کی، جو پہلی جنگ عظیم کی قفقازی مہم کے معائنے کے لیے جا رہے تھے۔ 1 2

    انقلاب اور خانہ جنگی

    فروری انقلاب کے بعد علی حاجی نے فروری اور پھر اکتوبر انقلاب اور زار ازم کے خاتمے کی حمایت کی، اس امید پر کہ بالشویک شمالی قفقاز میں شریعت کی اجازت دیں گے۔ انقلابی رسول قایت بیکوف کی اہلیہ تاخو عبداللہ یوا کے مطابق جون 1917 میں پاراول میں ان کی ملاقات داغستانی بالشویک رہنماؤں جلال الدین قورقماسوف اور مہاچ داہادایف سے ہوئی — یہ ملاقات، ان کے بقول، قایت بیکوف اور نِجنی جنگوتائے کے ممّا حاجی نے ترتیب دی تھی، جو علی حاجی کے مرید تھے — اور انہوں نے حاضرین سے «شریعت کی فتح» کے لیے دونوں کی حمایت کی اپیل کی؛ ان کے سیکرٹری سلیمان حاجی اشتراکیوں کی حمایت کے آغاز کو جون 1918 سے جوڑتے ہیں۔ 1

    جنوری 1918 میں تمیر خان شورا میں داغستان کے علماء اور افسروں کے اجتماع میں شمالی قفقاز و داغستان کے شیخ الاسلام کے لقب کے لیے انتخاب ہوا۔ امیدوار علی حاجی، صالتا کے اوزون حاجی اور گوتسو کے نجم الدین تھے؛ داغستان سوشلسٹ گروپ کی حمایت اور سرپرستی سے علی حاجی منتخب ہوئے۔ داہادایف نے انہیں لکھا کہ بالشویک لوگوں کو شریعت کے مطابق زندگی گزارنے سے نہیں روکتے، اور 20 مئی 1918 کو علی حاجی نے جواباً لکھا: «بالشویک اس کے خلاف نہیں کہ ہم شریعت کے مطابق زندگی گزاریں اور وہ غلطی سے لیے گئے ہتھیار واپس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اگر وہ اسلام پر دست درازی کریں تو میں سب سے پہلے پورے عوام کو جنگ کی دعوت دوں گا۔» 1927 میں اشتراکی علی بیک تاخو گودی نے اعتراف کیا کہ وہ وعدے عوام کو جیتنے کے لیے کیے گئے جھوٹ تھے۔ 1 2

    سفید حملے کی مزاحمت

    جنوبی روس کی مسلح افواج نے مئی 1919 میں داغستان پر حملہ کر کے شمالی قفقاز کی پہاڑی جمہوریہ ختم کر دی۔ اپریل 1919 میں علی حاجی پہلے ہی اوزون حاجی کے ساتھ مشترکہ طور پر داغستان و چیچنیا کو دینیکین کی رضاکار فوج سے آزاد کرانے کا منصوبہ بنا چکے تھے، اور 1919 کے موسم گرما میں وہ داغستان میں دینیکین مخالف بغاوت کے اصل محرک بنے، جس کا صدر دفتر لیواشی میں تھا اور جس کے باغی اس زمانے کے صحافوں میں «علی حاجی کے آدمی» کہلاتے تھے۔ سفید مقرر کردہ گورنر میکائل خلیلوف نے پہلے انہیں یہ پیشکش کر کے سودے بازی کی کوشش کی کہ انحراف کی صورت میں وہ شیخ الاسلام کا لقب برقرار رکھ سکیں گے، اور انکار پر 15 جولائی 1919 کو ان پر اسلام سے انحراف کا الزام لگا کر باقاعدہ لقب سے محروم کر دیا۔ 1 2

    دینیکین افواج کی شکست کے بعد 19 اکتوبر 1919 کو لیواشی میں ایک غیر معمولی اجتماع نے بغاوت کی ہم آہنگی کے لیے شمالی قفقاز و داغستان کی سلامتی کونسل بنائی، جس کے چیئرمین علی حاجی ہوئے۔ کونسل کو کمیونسٹ پارٹی کی داغستانی کمیٹی اور نوری پاشا و قاظم بے جیسے عثمانی افسروں کی حمایت حاصل تھی، اور ہر فریق اسے اپنے مقاصد کی طرف موڑنا چاہتا تھا۔ 7 فروری 1920 کو جب بالشویکوں نے کونسل پر قبضہ کیا اور سلطان سعید قازبیکوف ان کی جگہ آیا تو انہیں اعزازی چیئرمین بنا دیا گیا؛ 30 مارچ 1920 کو سلامتی کونسل کی فوج نے تمیر خان شورا میں ان کے اعزاز میں پریڈ کی۔ 3 اپریل 1920 کو انہوں نے بالشویکوں سے کہا کہ قفقاز میں مستقل امن صرف پہاڑی اقوام کی آزادی تسلیم کرنے سے ممکن ہے؛ بالشویکوں نے یہ خیال قبول نہ کیا اور داغستان میں سوویت اقتدار قائم ہو گیا۔ 1 2

    سوویت دور

    علی حاجی ابتدا میں تعاون کرتے رہے: انہوں نے نجم الدین غوتسوی کی سوویت مخالف بغاوت کے خلاف تحریک چلانے سے انکار کیا، اس موقف پر کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑنا نہیں چاہیے، اور 1921 میں قورقماسوف کے حلقے سے ملنے والے داغستانی وفد میں شریک ہوئے — لینن نے انہیں ذاتی گھڑی بھیجی، جو خاندان نے کرغیزستان جلاوطنی تک سنبھال رکھی، جہاں وہ رہن رکھ کر گم ہو گئی۔ جب سوویت ریاست نے کلیسا کو ریاست سے الگ کیا، شرعی عدالتیں ختم کیں، علماء کو ووٹ کے حق سے محروم کیا اور «بے خدا پنج سالہ منصوبہ» شروع کیا تو ان کا رویہ بدل گیا۔ وہ بڑے جلوس اور اپنے مریدوں کے ساتھ داغستان میں پھرتے اور سوویت پالیسی کے خلاف تقریریں کرتے؛ قرابوداخقند میں انہوں نے مجمع سے کہا: «پارٹی میں شامل نہ ہو، اور اگر کوئی روٹی مانگے تو نہ اسے دو اور نہ سپاہیوں کو دو۔» اپنے مریدوں کے ذریعے انہوں نے گوبدن میں سوویت اسکولوں کو شدید سکڑایا — 1925–26 کے تعلیمی سال کے اختتام تک پانچ اسکول اور 225 طلبہ سے ایک اسکول اور 49 طلبہ رہ گئے — جبکہ وہاں کے دینی اسکول طلبہ لیتے رہے؛ اور اکوشا میں، جیسا کہ گاؤں کی پارٹی تنظیم کے سیکرٹری کی بیٹی نے یاد کیا، عملاً دو اقتدار تھے: شیخ کی سربراہی میں شرعی اقتدار، اور کمیونسٹ، جو تقریباً زیرِ زمین کام کرتے تھے۔ 15 اکتوبر 1925 کو انہوں نے اکوشا کے لوگوں سے کہا: «ہم مسلمانوں کو سوویت اسکولوں کی نہیں بلکہ مدارس کی ضرورت ہے، جہاں ہمارے بچے عربی علم اور شریعت کے قوانین سیکھیں۔» 1 2

    ترکی میں جلاوطن دو داغستانی شیوخ، محمد مدنی اور کیکونی کے شرف الدین، نے انہیں خاندان سمیت ترکی آنے کی دعوت دی، جیسا کہ وہ خانہ جنگی سے پہلے بھی دے چکے تھے؛ انہوں نے وطن، رشتہ داروں اور مریدوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ 1 2

    جبر و وفات

    دسمبر 1928 میں او جی پی یو کی داغستانی شاخ نے 66 افراد کے ایک مبینہ «انقلاب مخالف» گروہ کے خلاف مقدمہ کھولا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ علی حاجی اور ان کے بڑے بیٹے محمد نے اسے منظم کیا تھا۔ ان کے سوا تمام مبینہ ارکان گرفتار ہوئے؛ روسی مضمون 29 کو گولی مارنے اور باقیوں کو کیمپوں و جلاوطنی کی سزا دیتا ہے، انگریزی مضمون کئی کو سزائے موت اور باقیوں کو گولاگ یا داخلی جلاوطنی بتاتا ہے۔ ان کے بیٹوں کی سزائے موت والد کے خانہ جنگی کردار کے اعتراف میں تبدیل کر دی گئی۔ علی حاجی خود بڑھاپے — اسی برس سے زائد عمر — اور دارگین مسلمانوں میں ان کے مقام کی وجہ سے گرفتار نہ ہوئے۔ اس کے کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہوا، انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا کے مطابق 8 اپریل 1930 کو؛ روسی مضمون نوٹ کرتا ہے کہ تمام مطبوعات 1930 دیتی ہیں، مگر ان کے چھوٹے بیٹے الیاس نے بارہا لکھا کہ والد کا انتقال 1931 میں ہوا۔ انہیں اکوشا میں اپنے گھر میں دفن کیا گیا؛ ان کی بڑی لائبریری ضبط کر کے جلا دی گئی اور گھر ضبط کر کے اجتماعی فارم کا گودام بنا دیا گیا۔ ان کا پورا خاندان کرغیزستان جلاوطن ہوا۔ 1 2 3

    بحالی و یادگار

    جون 1989 میں علی حاجی اور مبینہ گروہ کے تمام ارکان کو بحال کر دیا گیا، کیونکہ سوویت حکام کو اس گروہ کے وجود کا کافی ثبوت نہ ملا۔ اس کے بعد اکوشا میں ان کی قبر اور گھر بحال ہوا اور گھر عجائب گھر بنا دیا گیا؛ ماخچ قلعہ کی ایک اہم شارع، ماخچ قلعہ و اکوشا کی مساجد اور ایک اسلامی یونیورسٹی ان کے نام پر ہیں، اور ان کی قبر زیارت گاہ بن گئی ہے۔ 2005 سے اکوشا ضلع میں ان کی یاد میں جمہوری سطح کا فری اسٹائل کشتی ٹورنامنٹ ہوتا ہے۔ محقق محمد عبداللہ یف نے 2013 میں ان کی زندگی پر مطالعہ شائع کیا: «داغستان کے شیخ الاسلام علی حاجی اکوشنسکی کی فتح و المیہ»۔ 1 2

    سیاسی خیالات

    شریعت اور اسلامی قانون کے مآخذ کے ماہر ہوتے ہوئے علی حاجی اعتدال پسند تھے اور سماجی انصاف، مساوات اور اشتراکیت سے ہمدردی ظاہر کرتے تھے۔ وہ اشتراکیت کو غریبوں کی بہتری کا ذمہ دار سمجھ کر اسے مثبت نظر سے دیکھتے تھے، مگر سوویت مذہب مخالف مہمات کے مخالف تھے۔ وہ قفقاز گیر اور اسلام گیر وحدت کے حامی تھے، شمالی قفقاز کے مسلمانوں کی ایک ریاست کے قیام کے خواہاں تھے، اور واحد غیر منقسم مسلم قوم کی بنیاد پر پہاڑی زندگی کی دینی بنیادوں کا تحفظ ان کے سیاسی پروگرام کا مرکزی مقصد تھا۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    حاجی ازون خیر

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نجم الدین غوتسنسکی· حاجی ازون خیر

    ماخذ

    1. Ali-Hajji of Akusha — English Wikipedia
    2. Ali-Hajji Akushinsky — Russian Wikipedia
    3. Ali-Hajji of Akusha — Wikidata Q4062222
    • Ali-Hajji Akushinsky — Ukrainian Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی حاجی اکوشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-hajji-of-akusha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نجم الدین غوتسنسکی

    نجم الدین غوتسنسکی (1859–1925)، داغستان کے گاؤں گوتسوب سے تعلق رکھنے والے آوار عالم تھے؛ 1917 میں شمالی قفقاز کی پہاڑی جمہوریہ کے مفتی بنے اور 1919 میں داغستان و چیچنیا کے امام تسلیم کیے گئے۔ وہ بالشویکوں کے خلاف بار بار بغاوتوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کہ 1925 میں گرفتار ہو کر روستوف-نا-دونو میں گولی مار کر ہلاک کیے گئے۔