عمر پاشا وریونی دوم

عمر باشا فريوني الثاني

–

عثمانی۔البانوی زمیندار اور سیاست دان (1839-1928)، بیرات، فیئر اور میزیکے کے وریونی خاندان سے۔ ان کا نام شہرِ فیئر سے جڑا ہے — جسے متضاد روایات کے مطابق ان کے والد یا خود انہوں نے قائم کیا — 1878 کی لیگ آف پریزرن سے، اور البانوی مجلسِ وصایتِ عالیہ سے، جہاں وہ دسمبر 1921 سے بکتاشی برادری کے نمائندے کے طور پر بیٹھے۔ یہ یونانی جنگِ آزادی کے عثمانی سپہ سالار، ان کے ہم نام دادا عمر وریونی (وفات 1828 کے بعد) سے الگ شخص ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · جماعت علی شاہ · محمد خليل البنكلاني · وردة اليازجي · حاجی زین العابدین تاغییف

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عمر پاشا وریونی دوم (1839-1928) البانوی سیاست دان اور زمیندار تھے، فیئر کے وریونی خاندان کے آخری بڑے بے: انہوں نے 1878 میں لیگ آف پریزرن میں شرکت کی، البانوی تعلیم کی سرپرستی کی، آزادی کے اعلان کی شام اسماعیل کمالی کے قافلے کی میزبانی کی، اور دسمبر 1921 سے البانوی ریجنسی کونسل میں بکتاشی جماعت کے نمائندے کے طور پر بیٹھے۔ 1 2

    نام کی وضاحت

    یہ ریکارڈ عمر وریونی ’’دوم‘‘ (1839-1928) کا ہے، جو اپنے دادا اور ہم نام عمر وریونی (متوفی 1828) سے الگ ہے — وہ عثمانی کماندار جو یونانی جنگِ آزادی میں الامانا، گراویا اور میسولونگی کے محاصروں میں لڑا۔ البانوی اور ترک ویکیپیڈیا میں صرف ’’عمر وریونی‘‘ کے نام سے شائع مضامین اس بڑے کے ہیں، جبکہ اس شخص کے مضامین میں ’’دوم‘‘ کا عدد آتا ہے اور ویکی ڈیٹا میں بھی دونوں کے اندراج الگ الگ ہیں۔ 2 1 3

    زندگی

    المانوی مضمون کے مطابق وہ کھرمان پاشا وریونی اور گیلیے خانم کے بیٹے تھے اور جوانی میں سلطان عبد العزیز کے حجاب (کامرلان) رہے۔ فیئر کی بنیاد کے بارے میں ماخذ مختلف ہیں: انگریزی، ترک اور فرانسیسی مضامین کہتے ہیں کہ انہوں نے 1864 میں اپنے بیٹے کھرمان پاشا کے ساتھ اسے بسایا — حالانکہ اسی کھرمان کی تاریخیں 1889-1955 دی گئی ہیں، جو 1864 کے شریکِ بانی کے لیے ناممکن ہے — جبکہ البانوی مضمون بانی کو ان کا باپ کھرمان قرار دیتا ہے اور عمر کو 1877 میں شہر کی جدید تعمیر کا سہرا دیتا ہے۔ یہ اختلاف یہاں منسوب کر کے درج ہے۔ 1882 میں انہیں پریویزا میں گرفتار کر کے در دانیال جلاوطن کیا گیا۔ وہ الباسان کے نارمل اسکول (1909) کے مالی معاونین میں تھے؛ 25 نومبر 1912 کو اسماعیل کمالی کا قافلہ فیئر میں ان کے کناک میں رکا، اور ان کے بیٹے سامی بے ولورہ اسمبلی کے نمائندوں میں تھے۔ 2 1 4

    بکتاشی نشست اور وفات

    دسمبر 1921 میں وہ ریجنسی کونسل میں بکتاشی جماعت کے نمائندے منتخب ہوئے — البانوی مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے عاکف پاشا الباسانی کی جگہ لی — اور ان کی رکنیت مارچ 1922 (البانوی مضمون: استعفیٰ 3 اکتوبر 1922) تک رہی۔ ان کے اعداد میں درج شدہ صوفی قدر اسی بکتاشی نسبت پر مبنی ہے، جس کی تصدیق تین آزاد ماخذ (انگریزی، البانوی، ترک) کرتے ہیں؛ کسی ماخذ نے ان کا کوئی سنی فقہی مکتب نہیں بتایا۔ ان کی وفات 1928 میں فیئر میں ہوئی۔ 1 2 5

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1359543421)؛ البانوی ویکیپیڈیا «عمر پاشا وریونی دوم» (نظرثانی 2995398)؛ ترک ویکیپیڈیا (نظرثانی 36547947)؛ فرانسیسی ویکیپیڈیا (نظرثانی 209172341)؛ ویکی ڈیٹا Q719844۔
    • درج شدہ اختلافات: فیئر کی بنیاد اور کھرمان سے نسب کی سمت؛ ریجنسی رکنیت کا اختتام (مارچ 1922 / اکتوبر 1922)؛ 1921-22 کی وزارتِ عظمیٰ صرف فرانسیسی مضمون میں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    بکتاشیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نعیم فراشری· بکتاشیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Omer Pasha Vrioni II — English Wikipedia
    2. Omer Pasha Vrioni II — Albanian Wikipedia
    3. Omer Pasha Vrioni II — Wikidata Q719844
    4. Omer Pasha Vrioni II — French Wikipedia
    5. Omer Pasha Vrioni II — Turkish Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمر پاشا وریونی دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/omer-vrioni-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نعیم فراشری

    البانوی شاعر (1846ء–1900ء) جنھیں البانیہ کا قومی شاعر اور اس کی قومی بیداری کی نمایاں ادبی آواز سمجھا جاتا ہے، اور وہ تینوں فراشری بھائیوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے فراشر کی بکتاشی تکیہ میں ابتدائی تعلیم پائی اور «بکتاشی دفتر» (1896ء) لکھی جس کے آغاز میں ان کے بکتاشی عقیدے کا اعلان تھا۔ استنبول میں وہ وزارتِ تعلیم کے معائنہ و سنسر کمیشن کے صدر رہے اور اس عہدے سے البانوی کتابوں پر پابندی میں نرمی کی۔