نعیم فراشری

نعيم فراشري

–

إسطنبول

البانوی شاعر (1846ء–1900ء) جنھیں البانیہ کا قومی شاعر اور اس کی قومی بیداری کی نمایاں ادبی آواز سمجھا جاتا ہے، اور وہ تینوں فراشری بھائیوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے فراشر کی بکتاشی تکیہ میں ابتدائی تعلیم پائی اور «بکتاشی دفتر» (1896ء) لکھی جس کے آغاز میں ان کے بکتاشی عقیدے کا اعلان تھا۔ استنبول میں وہ وزارتِ تعلیم کے معائنہ و سنسر کمیشن کے صدر رہے اور اس عہدے سے البانوی کتابوں پر پابندی میں نرمی کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · مترجم
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: ابائی قنان باولی · عبد الرزاق البيطار · احمد عرابی · أحمد مدحت · عائشہ التیموریہ

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    جائزہ

    نعیم فراشری (25 مئی 1846ء – 20 اکتوبر 1900ء) البانوی مصنف، مؤرخ، شاعر اور مترجم تھے، جنھیں البانیہ کا قومی شاعر اور جدید البانوی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-ur} وہ خالد بے فراشری (1797ء–1859ء) اور امینہ (1814ء–1861ء) کے آٹھ بچوں میں چوتھے تھے، اور فراشر کے ایک دولت مند البانوی خاندان میں پیدا ہوئے جس کا تعلق بکتاشی سلسلے سے تھا۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq}{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} اپنے بڑے بھائی عبدل اور چھوٹے بھائی سامی کے ساتھ وہ البانوی قومی بیداری کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-ur}

    زندگی اور خدمات

    انھوں نے تعلیم کا آغاز فراشر کی بکتاشی تکیہ سے کیا، جہاں عربی، عثمانی ترکی اور فارسی سیکھی۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} والدین کی وفات کے بعد خاندان 1865ء میں یوآنینا منتقل ہوا، جہاں انھوں نے زوسیمایا اسکول میں تعلیم پائی اور 1870ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} وہ بیرات میں کلرک اور ساراندا میں کسٹم ڈائریکٹر رہے، اور 1879ء میں استنبول میں البانوی تحریروں کی اشاعت کی سوسائٹی کے بانیوں میں شامل ہوئے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq}{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} 1882ء سے وہ استنبول میں مقیم رہے اور وزارتِ تعلیم کے معائنہ و سنسر کمیشن کے صدر بنے، اور اس عہدے سے البانوی کتابوں پر پابندی میں نرمی کی۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq} بھائی سامی کے ساتھ مل کر انھوں نے کورچا کے البانوی اسکول کی نصابی کتابیں لکھیں، جس کا اجازت نامہ 1887ء میں ملا۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq} وہ 20 اکتوبر 1900ء کو استنبول میں وفات پا گئے اور اپنے بھائی عبدل کے پہلو میں مردیوین کوئے کی بکتاشی تکیہ میں دفن ہوئے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq}

    تصانیف

    انھوں نے چار زبانوں میں بائیس کتابیں لکھیں: پندرہ البانوی، چار ترکی، دو یونانی اور ایک فارسی میں۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} ان کی مشہور نظموں میں «گرمیوں کے پھول» (1890ء)، ملحمہ «کربلا» (1898ء؛ عربی اور اردو مضامین کی فہرست میں 1894ء درج ہے) اور «سکندر کی تاریخ» (1898ء) شامل ہیں۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-ur}{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq} ان کی «بکتاشی دفتر» کو انگریزی مضمون کی فہرست 1895ء اور رابرٹ ایلسی 1896ء بتاتے ہیں، اور اس کے آغاز میں ان کے بکتاشی عقیدے کا اعلان درج ہے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en}{cite:source/elsie-naim-frasheri}

    آراء و تنقید

    یہ حصہ ان باتوں کو پیش کرتا ہے جو مآخذ فراشری سے منسوب کرتے ہیں؛ یہ میوزیم کا اپنا فیصلہ نہیں ہے۔

    انگریزی مضمون صراحتاً کہتا ہے کہ «وہ خود بکتاشی تھے» اور انھیں «البانوی میں صوفی شاعری کے سب سے نمائندہ شاعر» قرار دیتا ہے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en} رابرٹ ایلسی ان کے «بکتاشی مذہب سے لگاؤ» کا ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ وہ امید رکھتے تھے کہ بکتاشی عقائد ایک دن پورے البانیہ کا مذہب بن جائیں گے۔{cite:source/elsie-naim-frasheri} انہی تین آزاد شہادتوں کی بنیاد پر میوزیم ان کے ریکارڈ میں ان کا عقیدہ «صوفی» (بکتاشی) درج کرتا ہے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en}{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-sq}{cite:source/elsie-naim-frasheri} ان کی تصویر 200 لیک کے نوٹ پر ہے اور البانیہ کا ایک تمغۂ امتیاز ان کے نام پر ہے۔{cite:source/wikipedia-naim-frasheri-en}

    حوالہ جات

    • ویکیپیڈیا (انگریزی)، "Naim Frashëri"، نظرثانی 1376878515 (26 ستمبر 2026ء) — source/wikipedia-naim-frasheri-en۔
    • ویکیپیڈیا (البانوی)، "Naim Frashëri"، نظرثانی 2940719 (13 اپریل 2026ء) — source/wikipedia-naim-frasheri-sq۔
    • ویکیپیڈیا (اردو)، «نعیم فراشری»، نظرثانی 11850274 (30 اگست 2026ء) — source/wikipedia-naim-frasheri-ur۔
    • رابرٹ ایلسی، «نعیم فراشری»، البانوی ادب (albanianliterature.net) — source/elsie-naim-frasheri۔
    • ویکی ڈیٹا، Q47007 — source/wikidata-naim-frasheri۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Sibling of
    عبدل فراشری· شمس الدین سامی فراشری
    Member of
    بکتاشیہ طریقہ
    Lived in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبدل فراشری· شمس الدین سامی فراشری· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى

    ماخذ

    • Naim Frashëri — Robert Elsie, Albanian Literature
    • Naim Frashëri — Wikidata Q47007
    • Naim Frashëri — English Wikipedia
    • Naim Frashëri — Albanian Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نعیم فراشری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/naim-frasheri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبدل فراشری

    البانوی عثمانی سیاست دان (1839ء–1892ء)، تینوں فراشری بھائیوں میں سب سے بڑے، اور لیگ آف پریزرین کے نمایاں سیاسی قائد، جو البانوی قوم پرستی کی بانی تحریک تھی۔ وہ پہلی عثمانی پارلیمنٹ میں یانینا کے نمائندے رہے، استنبول میں البانوی حقوق کے دفاع کی مرکزی کمیٹی قائم کی، لیگ کے وفود کی یورپی دارالحکومتوں میں قیادت کی، اور لیگ کی سرکوبی کے بعد انھیں سزائے موت سنائی گئی جو بعد میں مشقت کے ساتھ قید میں بدل دی گئی؛ وہ 1886ء میں رہا ہوئے۔