عبادی بانو بیگم

عبادي بانو بيغوم (بي أما)

–

دلهي

ہندوستانی مجاہد آزادی (1850ء–1924ء) جو ’بی اماں‘ کے نام سے مشہور ہیں، محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ۔ بیوگی کے بعد انھوں نے اپنے زیورات رہن رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی، خلافت کمیٹی میں شامل ہوئیں، 1917ء کے مسلم لیگ اجلاس میں پُرجوش تقریر کی اور وفات تک تحریک خلافت اور آزادی کے لیے ملک بھر کا دورہ کر کے خواتین کو متحرک کرتی اور چندہ جمع کرتی رہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: علی حاجی اکوشا · بدرالدین الحسنی · دلی فواد پاشا · جماعت علی شاہ · لیلیٰ ساز

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی و ذاتی زندگی

    ان کی سن پیدائش ذرائع میں مختلف ہے: انگریزی اور اردو مقالوں کی پیشانی 1850ء دیتی ہے 12، دونوں کے متن 1839ء دیتے ہیں — انگریزی امروہہ میں اور اردو رام پور میں 12 — اور ویکی ڈیٹا 1853ء دیتا ہے 3۔ ان کی شادی ریاست رام پور کے اہم ملازم عبد العلی خان سے ہوئی؛ ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہوئے 1۔ شوہر کی کم عمری میں وفات کے بعد انھوں نے اپنے زیورات رہن رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی اور خود رسمی تعلیم نہ ہونے کے باوجود انھیں بریلی کے انگریزی میڈیم اسکول میں بھیجا 1۔ ان کے بیٹے محمد علی جوہر اور شوکت علی تحریک خلافت کے سرکردہ رہنما بنے 2۔

    تحریک آزادی میں حصہ

    وہ خلافت کمیٹی کی سرگرم رکن تھیں؛ 1917ء میں اینی بیسنٹ اور ان کے دو بیٹوں کی رہائی کی تحریک میں شامل ہوئیں اور گاندھی نے انھیں خطاب کی ترغیب دی کیونکہ وہ خواتین کی حمایت جیت سکتی تھیں 1۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے 1917ء کے اجلاس میں ان کی تقریر نے اہل امت کو جھنجوڑ دیا 2۔ جب ان کے دونوں بیٹے جیل میں تھے تو انھوں نے تحریک خلافت کے لیے ملک بھر کا دورہ کیا اور اس کی روح رواں رہیں 2۔ انھوں نے خلافت کے لیے چندہ جمع کیا اور بیگم حسرت موہانی و دیگر خواتین کے ساتھ صرف خواتین کے اجتماعات سے خطاب کر کے تلک سوراج فنڈ کے لیے عطیات کی اپیل کی 1۔ ان کا مشہور نعرہ تھا کہ محمد علی کی اماں کہتی ہے بیٹا خلافت کے لیے جان دے دو 2۔ وہ وفات تک تحریک میں سرگرم رہیں 1۔

    وفات و ورثہ

    ان کا انتقال نومبر 1924ء میں ہوا: اردو مقالہ مالک رام کی ’تذکرہ ماہ و سال‘ کے حوالے سے اور ویکی ڈیٹا 12 نومبر بتاتے ہیں 23، جبکہ انگریزی مقالہ 13 نومبر بتاتا ہے 1۔ 14 اگست 1990ء کو پاکستان پوسٹ نے ’آزادی کے علمبردار‘ سلسلے میں ان کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا 1۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    انگریزی مقالے کا متن خود انھیں مسلمان قرار دیتا ہے، یعنی سیاست میں سرگرم اولین مسلمان خواتین میں سے 1، اور اردو مقالہ انھیں خلافت تحریک اور مسلم لیگ کے 1917ء اجلاس کے سیاق میں پیش کرتا ہے 2؛ ویکی ڈیٹا ان کے لیے کوئی مذہب درج نہیں کرتا 3۔ کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا؛ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    محمد علی جوہر· شوکت علی
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    شوکت علی· محمد علی جوہر· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي

    ماخذ

    1. Abadi Bano Begum — English Wikipedia
    2. Abadi Bano Begum — Urdu Wikipedia
    3. Abadi Bano Begum — Wikidata Q42896051
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبادی بانو بیگم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abadi-bano-begum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    شوکت علی

    ہندوستانی سیاست دان (1873ء–1938ء)، تحریک خلافت کے رہنما اور محمد علی جوہر کے بڑے بھائی۔ جامعہ علی گڑھ سے تعلیم پائی اور سترہ سال سرکاری ملازمت کی، بھائی کے «ہمدرد» اور «کامریڈ» کی اشاعت میں مدد کی، 1919ء میں قید کے دوران خلافت کانفرنس کے آخری صدر منتخب ہوئے اور 1921ء سے 1923ء تک پھر قید رہے۔ نہرو رپورٹ کی مخالفت کی، گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے، بھائی کی وفات کے بعد بیت المقدس میں عالمی مسلم کانفرنس منعقد کی، 1936ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور دہلی میں وفات تک مرکزی اسمبلی کے رکن رہے۔