ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · activist · writer · شاعر
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
1878ء میں رام پور میں ایک مالدار خاندان میں پیدا ہوئے جس کی جڑیں نجیب آباد میں تھیں؛ پانچ برس کے تھے کہ والد عبد علی خان کا انتقال ہو گیا، اور والدہ عبادی بانو بیگم، جو بی اماں کے نام سے معروف تھیں، نے بیٹوں کی تعلیم اور ان کی بعد کی جدوجہد کو آگے بڑھایا 1۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی میں پڑھے، پھر 1898ء میں انگلینڈ جا کر آکسفورڈ کے لنکن کالج میں جدید تاریخ کی تعلیم حاصل کی 12۔ واپسی پر ریاست رام پور کے ڈائریکٹر تعلیم اور پھر بڑودہ کی سول سروس میں رہے، اور بڑے برطانوی و ہندوستانی اخبارات کے لیے لکھتے رہے 1۔
صحافت
1911ء میں کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ «کامریڈ» جاری کیا، جس نے جلد بین الاقوامی پھیلاؤ اور اثر حاصل کر لیا؛ 1912ء میں دہلی منتقل ہو کر 1913ء میں اردو روزنامہ «ہمدرد» نکالا 1۔ اردو سوانح کے مطابق ان کی تحریریں ہندوستان کے اندر اور باہر شوق سے پڑھی جاتی تھیں، اور «ہمدرد» بے باک اظہار کی ضرب المثل بن گیا 3۔ انھوں نے علی گڑھ کی محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی توسیع کے لیے کام کیا اور 1920ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں شریک رہے 1۔
خلافت اور کانگریس
1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی اجلاس میں شریک ہوئے اور 1918ء میں اس کے صدر رہے، 1928ء تک اس میں سرگرم رہے 1۔ 1919ء میں عثمانی خلافت کے مستقبل کے بارے میں لیگ کے وفد کے ساتھ انگلینڈ گئے؛ برطانوی انکار پر خلافت کمیٹی اور تحریک وجود میں آئی 1۔ 1921ء میں شوکت علی، ابو الکلام آزاد، حکیم اجمل خان، مختار احمد انصاری اور گاندھی جی کے ساتھ وسیع اتحاد بنایا؛ خلافت کانفرنس کی تقریر پر گرفتار ہو کر دو سال قید رہے، اور پھر کراچی سینٹرل جیل میں ڈھائی سال کی سزا پائی 1۔ 1923ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے، مگر عدم تعاون تحریک کے خاتمے پر اختلافات کے باعث ان کی مدت چند ماہ ہی رہی 1۔
تحریک خلافت کے خاتمے سے مایوس ہو کر «ہمدرد» دوبارہ جاری کیا، کانگریس چھوڑ دی، نہرو رپورٹ کی مخالفت کی اور جناح کے چودہ نکات کی حمایت کی 1۔
لندن، وفات اور تدفین
ذیابیطس کے مریض اور قیدوں سے کمزور ہو چکے تھے کہ 1930ء میں لندن کی پہلی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے؛ برطانوی حکومت سے ان کے منسوب الفاظ تھے کہ وہ زندہ ہندوستان واپس نہیں آئیں گے جب تک ملک آزاد نہ ہو جائے، اور یہ کہ کسی اجنبی ملک میں مرنا پسند کریں گے بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو 1۔ 4 جنوری 1931ء کو لندن میں فالج سے انتقال ہوا اور اقربا، احباب اور عقیدت مندوں کی پسند سے بیت المقدس میں، قبۃ الصخرہ کے قریب مدرسہ خاتونیہ میں دفن ہوئے 13۔
مسلک جیسا کہ ذرائع گواہی دیتے ہیں
مضامین ایک مسلم سیاسی رہنما پیش کرتے ہیں جس کا مقدمہ خلافت اور ہندوستان کے مسلمانوں کا دفاع تھا: عربی مضمون انھیں ہندوستانی مسلم رہنما، سیاست دان، صحافی اور شاعر کہتا ہے 2، اور انگریزی و عربی مضامین کے معلوماتی خانے ان کا مذہب اسلام دیتے ہیں 12؛ وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 4۔ کوئی پڑھا ہوا ماخذ ان کے لیے فقہی مکتب، سلسلہ یا فرقہ نام نہیں لیتا، اور میوزیم کا ڈیٹا ریکارڈ یہی کہتا ہے۔
انھوں نے «جوہر» تخلص سے اردو شاعری بھی کی؛ اردو مضمون ان کی غزلیں اور مجاہدانہ روح کی نظمیں نقل کرتا ہے 3۔ انڈیا پوسٹ اور پاکستان پوسٹ نے 1978ء میں ان کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے، اور ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں جامعات، کالج اور محلے ان کے نام پر ہیں 1۔
مآخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذی وجودات،
data/source/میں درج۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نام لینا چاہیے۔
تعلقات
- Child of
- عبادی بانو بیگم
- Sibling of
- شوکت علی
- Buried in
- القدس
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
دلهي· عبادی بانو بیگم· شوکت علی· المسجد الأقصى· الحرم القدسي الشريف· قبة الصخرة· مسجد عمر· حائط البراق (الحائط الغربي)
ماخذ
- Muhammad Ali Jauhar — English Wikipedia
- Muhammad Ali Jauhar — Arabic Wikipedia
- Muhammad Ali Jauhar — Urdu Wikipedia
- Muhammad Ali Jauhar — Wikidata Q3241714
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد علی جوہر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-ali-jauhar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.