شوکت علی

شوكت علي

–

دلهي

ہندوستانی سیاست دان (1873ء–1938ء)، تحریک خلافت کے رہنما اور محمد علی جوہر کے بڑے بھائی۔ جامعہ علی گڑھ سے تعلیم پائی اور سترہ سال سرکاری ملازمت کی، بھائی کے «ہمدرد» اور «کامریڈ» کی اشاعت میں مدد کی، 1919ء میں قید کے دوران خلافت کانفرنس کے آخری صدر منتخب ہوئے اور 1921ء سے 1923ء تک پھر قید رہے۔ نہرو رپورٹ کی مخالفت کی، گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے، بھائی کی وفات کے بعد بیت المقدس میں عالمی مسلم کانفرنس منعقد کی، 1936ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور دہلی میں وفات تک مرکزی اسمبلی کے رکن رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد اللہ ہارون · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور ملازمت

    1873ء میں ایک مالدار خاندان میں پیدا ہوئے جس کی جڑیں نجیب آباد میں تھیں، موجودہ اتر پردیش میں 1؛ اردو سوانح ان کی پیدائش رام پور میں 10 مارچ 1873ء بتاتی ہے 2۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم پائی، جہاں کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے، اور آگرہ و اودھ کے متحدہ صوبوں کی سول سروس میں سترہ سال ملازمت کی 1۔ اردو سوانح مزید بتاتی ہے کہ انھوں نے 1913ء میں آزادی کے مقدمے کے لیے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا اور انجمن خدام کعبہ قائم کی 2۔

    تحریک خلافت

    انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی محمد علی جوہر کی اردو ہفت روزہ «ہمدرد» اور انگریزی ہفت روزہ «کامریڈ» کی اشاعت میں مدد کی 1۔ 1919ء میں، جب وہ ایسے مواد کی اشاعت پر قید تھے جسے برطانوی حکومت نے بغاوت پر مبنی قرار دیا تھا، خلافت کانفرنس کے آخری صدر منتخب ہوئے؛ عدم تعاون تحریک کے دوران گاندھی جی اور انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت پر 1921ء سے 1923ء تک دوبارہ قید رہے، اور عقیدت مندوں نے انھیں اور ان کے بھائی کو «مولانا» کا خطاب دیا 1۔ عدم تشدد کے داعی کے طور پر معروف ہونے کے باوجود انھوں نے سچندر ناتھ سانیال جیسے ہندوستانی انقلابیوں کو بندوقیں بھی فراہم کیں 1۔

    بعد کی سیاست

    انھوں نے 1928ء کی نہرو رپورٹ کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کا مطالبہ کیا؛ 1930ء–1931ء میں لندن کی پہلی اور دوسری گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے، اور 1931ء میں بھائی کی وفات کے بعد بیت المقدس میں عالمی مسلم کانفرنس منعقد کی 1۔ 1936ء میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور مبلغ بنے؛ 1934ء سے 1938ء تک مرکزی اسمبلی کے رکن رہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے حمایت بنانے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا 1۔

    مسلک جیسا کہ ذرائع گواہی دیتے ہیں

    مضامین ایک مسلم سیاسی رہنما پیش کرتے ہیں: انگریزی مضمون انھیں تحریک خلافت کا ہندوستانی مسلم رکن کہتا ہے 1، عربی مختصر مضمون انھیں ہندوستانی مسلم رہنما کہتا ہے 3، اور وکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف اسلام دیتا ہے 4۔ کوئی پڑھا ہوا ماخذ ان کے لیے فقہی مکتب، سلسلہ یا فرقہ نام نہیں لیتا، اور میوزیم کا ڈیٹا ریکارڈ یہی کہتا ہے۔

    26 نومبر 1938ء کو دہلی کے کرول باغ میں انتقال ہوا اور جامع مسجد کے قریب دفن ہوئے 1۔ پاکستان پوسٹ نے 1995ء میں «رواد آزادی» سلسلے میں ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، اور ممبئی، لاہور اور رام پور میں سڑکیں ان کے نام پر ہیں 1۔

    مآخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذی وجودات، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    عبادی بانو بیگم
    Sibling of
    محمد علی جوہر
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبادی بانو بیگم· محمد علی جوہر· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي

    ماخذ

    1. Shaukat Ali — English Wikipedia
    2. Shaukat Ali — Urdu Wikipedia
    3. Shaukat Ali — Arabic Wikipedia
    4. Shaukat Ali — Wikidata Q3595825
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شوکت علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shaukat-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبادی بانو بیگم

    ہندوستانی مجاہد آزادی (1850ء–1924ء) جو ’بی اماں‘ کے نام سے مشہور ہیں، محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ۔ بیوگی کے بعد انھوں نے اپنے زیورات رہن رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی، خلافت کمیٹی میں شامل ہوئیں، 1917ء کے مسلم لیگ اجلاس میں پُرجوش تقریر کی اور وفات تک تحریک خلافت اور آزادی کے لیے ملک بھر کا دورہ کر کے خواتین کو متحرک کرتی اور چندہ جمع کرتی رہیں۔