عبدالمجید ثانی

عبد المجيد الثاني

–

إسطنبول → بقيع الغرقد

آخری عثمانی خلیفہ (19 نومبر 1922 تا 3 مارچ 1924)، واحد خلیفہ جو ترکیہ کی مجلسِ کبیرِ ملی کے منتخب کردہ تھے، اور 1926 سے وفات تک جلاوطنی میں عثمانی خاندان کے سربراہ۔ سلطان عبدالعزیز کے فرزند، 1918 سے ولی عہد رہے؛ خلافت کے خاتمے کے بعد سوئٹزرلینڈ اور فرانس میں رہے، اور آخری عثمانی دور کے اہم ترین مصوروں میں شمار ہوتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
خلیفہ
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · عمر فخرالدین ترکان · خالد ضیاء عشاقلی گل

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبدالمجید ثانی (29 مئی 1868 تا 23 اگست 1944) آخری عثمانی خلیفہ، ترکیہ کی مجلسِ کبیرِ ملی کے واحد منتخب کردہ خلیفہ، اور 1926 سے وفات تک عثمانی خاندان کے سربراہ تھے۔ سلطان عبدالعزیز کے فرزند، 19 نومبر 1922 سے 3 مارچ 1924 کو خلافت کے خاتمے تک خلیفہ رہے، اور آخری عثمانی دور کے اہم ترین مصوروں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ 1

    ان کی تاریخِ پیدائش انگریزی مضمون کے اندر ہی منقسم ہے: معلوماتی خانہ 29/30 مئی 1868، مقدمہ 29 مئی اور ابتدائی زندگی کا متن 30 مئی 1868 دولمہ باغچہ محل دیتا ہے۔ یہ ریکارڈ 29 مئی اختیار کرتا ہے، جو ترکی مضمون اور ویکی ڈیٹا کی بھی قراءت ہے۔ 2 3

    ولی عہدی اور خلافت

    عبدالمجید دولمہ باغچہ محل میں سلطان عبدالعزیز اور خیرانِدل قادن کے ہاں پیدا ہوئے، والد کی معزولی اور 1876 میں وفات کے بعد جوانی کا بیشتر حصہ محلوں کی نظربندی میں گزارا اور یہ برس مصوری، موسیقی اور زبانوں میں صرف کیے۔ جب ان کے چچازاد محمد ششم 4 جولائی 1918 کو سلطان بنے تو عبدالمجید ولی عہد ہوئے۔ سلطنت کے خاتمے اور محمد ششم کی معزولی (1 نومبر 1922) کے بعد مجلسِ کبیرِ ملی نے 19 نومبر 1922 کو انھیں خلیفہ منتخب کیا؛ انھوں نے «خلیفۃ المسلمین» کا لقب اختیار کیا اور توپ قاپی محل میں بیعت کی رسم ادا ہوئی۔ 1

    ان کا دور شروع سے کشیدہ رہا: انھوں نے سربراہِ مملکت کا درجہ اور وظیفے میں اضافہ مانگا، قدامت پسند ارکان اور آغا خان و سید امیر علی کے کھلے خط نے خلافت کی حمایت جمع کی، اور انقرہ حکومت نے اسے سیاسی چیلنج سمجھا۔ 3 مارچ 1924 کو مجلس نے قانون 431 کے ذریعے خلافت ختم کر کے خاندان کو جلاوطن کر دیا؛ عبدالمجید اسی رات استنبول سے روانہ ہو گئے۔ 1

    جلاوطنی اور فن

    پہلے سوئٹزرلینڈ میں رہے، جہاں انھوں نے خلافت کے خاتمے کو خلافِ شریعت اور تمام مسلمانوں کی رضا کے بغیر غیر مشروع قرار دیا، پھر اکتوبر 1924 سے نیس اور آخر میں پیرس، جہاں پیرس کی عظیم مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے۔ 1926 میں محمد ششم کی وفات کے بعد ایک خاندانی اجلاس نے انھیں خاندان کا سربراہ تسلیم کیا۔ جلاوطنی میں انھوں نے مصوری کی، موسیقی ترتیب دی اور بارہ جلدوں پر مشتمل یادداشتیں لکھیں۔ مصور کی حیثیت سے وہ عثمانی فنکاروں کی انجمن کے صدر رہے؛ حرم کے مناظر اور اہلیہ شہسوار کی گوئٹے کے «فاؤسٹ» پڑھتی ہوئی تصویر جیسی تصانیف 1917 کی ویانا نمائش میں پیش ہوئیں۔ 1 2

    وفات

    23 اگست 1944 کو پیرس میں دل کے دورے سے انتقال ہوا۔ ترکیہ نے وطن میں تدفین سے انکار کیا؛ ان کی میت دس برس پیرس کی عظیم مسجد میں رہی اور 30 مارچ 1954 کو مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ 1 2

    مصادر

    • مذکورہ بالا معرف ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    عبد العزيز
    Successor of
    السلطان وحيد الدين (محمد السادس)
    Born in
    إسطنبول
    Buried in
    بقيع الغرقد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    یوسف عزالدین· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا

    ماخذ

    1. Abdülmecid II — English Wikipedia
    2. Abdülmecid II — Turkish Wikipedia
    3. Abdülmecid II — Wikidata Q203768
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبدالمجید ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdulmecid-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    یوسف عزالدین

    عثمانی شہزادے، سلطان عبدالعزیز کے بڑے فرزند، اور 1909 سے وفات تک سلطنتِ عثمانیہ کے ولی عہد۔ بچپن میں چھپائے گئے کیونکہ شہزادوں کو تخت نشینی سے پہلے اولاد کی اجازت نہ تھی؛ محمد خامس کے عہد میں مشیر کے رتبے اور ولی عہدی تک پہنچے، مگر آخری برس اضطراب اور بدگمانی میں گزارے اور 1916 میں اپنی زنجرلی کویو حویلی میں خودکشی کر لی۔