ایک نظر میں
- کردار
- خلیفہ
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عبدالمجید ثانی (29 مئی 1868 تا 23 اگست 1944) آخری عثمانی خلیفہ، ترکیہ کی مجلسِ کبیرِ ملی کے واحد منتخب کردہ خلیفہ، اور 1926 سے وفات تک عثمانی خاندان کے سربراہ تھے۔ سلطان عبدالعزیز کے فرزند، 19 نومبر 1922 سے 3 مارچ 1924 کو خلافت کے خاتمے تک خلیفہ رہے، اور آخری عثمانی دور کے اہم ترین مصوروں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ 1
ان کی تاریخِ پیدائش انگریزی مضمون کے اندر ہی منقسم ہے: معلوماتی خانہ 29/30 مئی 1868، مقدمہ 29 مئی اور ابتدائی زندگی کا متن 30 مئی 1868 دولمہ باغچہ محل دیتا ہے۔ یہ ریکارڈ 29 مئی اختیار کرتا ہے، جو ترکی مضمون اور ویکی ڈیٹا کی بھی قراءت ہے۔ 2 3
ولی عہدی اور خلافت
عبدالمجید دولمہ باغچہ محل میں سلطان عبدالعزیز اور خیرانِدل قادن کے ہاں پیدا ہوئے، والد کی معزولی اور 1876 میں وفات کے بعد جوانی کا بیشتر حصہ محلوں کی نظربندی میں گزارا اور یہ برس مصوری، موسیقی اور زبانوں میں صرف کیے۔ جب ان کے چچازاد محمد ششم 4 جولائی 1918 کو سلطان بنے تو عبدالمجید ولی عہد ہوئے۔ سلطنت کے خاتمے اور محمد ششم کی معزولی (1 نومبر 1922) کے بعد مجلسِ کبیرِ ملی نے 19 نومبر 1922 کو انھیں خلیفہ منتخب کیا؛ انھوں نے «خلیفۃ المسلمین» کا لقب اختیار کیا اور توپ قاپی محل میں بیعت کی رسم ادا ہوئی۔ 1
ان کا دور شروع سے کشیدہ رہا: انھوں نے سربراہِ مملکت کا درجہ اور وظیفے میں اضافہ مانگا، قدامت پسند ارکان اور آغا خان و سید امیر علی کے کھلے خط نے خلافت کی حمایت جمع کی، اور انقرہ حکومت نے اسے سیاسی چیلنج سمجھا۔ 3 مارچ 1924 کو مجلس نے قانون 431 کے ذریعے خلافت ختم کر کے خاندان کو جلاوطن کر دیا؛ عبدالمجید اسی رات استنبول سے روانہ ہو گئے۔ 1
جلاوطنی اور فن
پہلے سوئٹزرلینڈ میں رہے، جہاں انھوں نے خلافت کے خاتمے کو خلافِ شریعت اور تمام مسلمانوں کی رضا کے بغیر غیر مشروع قرار دیا، پھر اکتوبر 1924 سے نیس اور آخر میں پیرس، جہاں پیرس کی عظیم مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے۔ 1926 میں محمد ششم کی وفات کے بعد ایک خاندانی اجلاس نے انھیں خاندان کا سربراہ تسلیم کیا۔ جلاوطنی میں انھوں نے مصوری کی، موسیقی ترتیب دی اور بارہ جلدوں پر مشتمل یادداشتیں لکھیں۔ مصور کی حیثیت سے وہ عثمانی فنکاروں کی انجمن کے صدر رہے؛ حرم کے مناظر اور اہلیہ شہسوار کی گوئٹے کے «فاؤسٹ» پڑھتی ہوئی تصویر جیسی تصانیف 1917 کی ویانا نمائش میں پیش ہوئیں۔ 1 2
وفات
مصادر
- مذکورہ بالا معرف ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔
تعلقات
- Child of
- عبد العزيز
- Successor of
- السلطان وحيد الدين (محمد السادس)
- Born in
- إسطنبول
- Buried in
- بقيع الغرقد
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
یوسف عزالدین· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا
ماخذ
- Abdülmecid II — English Wikipedia
- Abdülmecid II — Turkish Wikipedia
- Abdülmecid II — Wikidata Q203768
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبدالمجید ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdulmecid-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.