ابو القاسم فضل الحق

أبو القاسم فضل الحق

–

دكا

بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: احمد لطفی سید · علی المیرغنی · دا بوشينغ · مولوی عبد الحق · محمد الأمين المثقب

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ابو القاسم فضل الحق (26 اکتوبر 1873ء – 27 اپریل 1962ء)، جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہیں، بنگالی وکیل اور مدبر تھے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء کی قراردادِ لاہور کے محرک۔1 انھیں یہ انوکھی حیثیت بھی حاصل تھی کہ وہ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری تھے۔2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 26 اکتوبر 1873ء کو ضلع بکرگنج کے ستوریا میں اپنے ننھیال میں ایک بنگالی مسلمان قاضی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد قاضی محمد واجد باریسال بار کے وکیل تھے۔2 قانون کی تربیت کے بعد وہ بنگال قانون ساز کونسل میں آگے بڑھے، جس کے لیے وہ 1913ء میں پہلی مرتبہ ڈھاکہ سے منتخب ہوئے، اور بنگال کے وزیر تعلیم اور کلکتہ کے میئر رہے۔2

    سیاسی زندگی

    بنگال کے وزیر اعظم کی حیثیت سے انھوں نے ایک عوامی اتحاد کی قیادت کی جس کی حکومت نے کرایہ دار کسانوں کے قرضوں میں تخفیف اور اراضی مدت سے متعلق قوانین بنائے، اور مارچ 1940ء میں انھوں نے قراردادِ لاہور پیش کی جس میں ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کی خودمختار ریاستوں کا مطالبہ تھا۔2 تقسیم کے بعد وہ مشرقی بنگال کے ایڈووکیٹ جنرل، پھر 1954ء میں مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ — جن کی حکومت مرکز نے چند ہفتوں میں برطرف کر دی — پاکستان کے وزیر داخلہ (1955ء–1956ء) اور مشرقی پاکستان کے گورنر (1956ء–1958ء) رہے۔2 انھوں نے بنگالی مسلمان طلبہ کے لیے کالج اور ہاسٹل قائم کیے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے قیام میں حصہ لیا۔2 کسی متن میں ان کا مسلک درج نہیں؛ انگریزی مضمون انھیں صرف ایک بنگالی مسلمان خاندان میں پیدا ہونے والا بتاتا ہے، اور وکی ڈیٹا میں صرف اسلام درج ہے۔23

    وفات

    ان کا انتقال 27 اپریل 1962ء کو ڈھاکہ میں ہوا اور وہ خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی کے ساتھ ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہیں۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا
    Buried in
    دكا
    Predecessor of
    خواجہ ناظم الدین

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حسین شہید سہروردی· محمد علی بوگرہ· خواجہ ناظم الدین· دكا· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین محمد ارشاد

    ماخذ

    1. A. K. Fazlul Huq — Urdu Wikipedia
    2. A. K. Fazlul Huq — English Wikipedia
    3. A. K. Fazlul Huq — Wikidata Q3242246
    4. A. K. Fazlul Huq — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابو القاسم فضل الحق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/a-k-fazlul-huq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حسین شہید سہروردی

    بنگالی مدبر (1892ء–1963ء)، غیر منقسم بنگال کے آخری وزیر اعظم (1946ء–1947ء) اور پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم (1956ء–1957ء)۔ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی، مشرقی پاکستان میں متحدہ محاذ کی قیادت کی، اور خواجہ ناظم الدین کے بعد بنگال کے وزیر اعظم بنے؛ بیروت میں انتقال ہوا اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔