فضل حسن عابد

فضل حسن عابد

–

دكا

براک کے بانی (27 اپریل 1936ء – 20 دسمبر 2019ء)۔ وہ شیل آئل کے مالیاتی افسر تھے؛ 1971ء کی جنگ آزادی کے بعد انھوں نے لندن کا فلیٹ بیچ کر 1972ء میں براک قائم کیا اور اسے دنیا کی سب سے بڑی ترقیاتی تنظیموں میں سے ایک بنا دیا، جو ایشیا اور افریقا میں تعلیم، صحت، مائیکرو فنانس اور انسانی حقوق کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ انھیں 2010ء میں برطانوی نائٹ کا خطاب ملا؛ ان کے اعزازات میں ریمن میگسیس ایوارڈ (1980ء)، ورلڈ فوڈ پرائز (2015ء) اور ییدان پرائز (2019ء) شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فضل حسن عابد (27 اپریل 1936ء – 20 دسمبر 2019ء) براک کے بانی تھے، جو دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہے۔ وہ بانیاچونگ میں ایک بنگالی مسلمان زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، گلاسگو یونیورسٹی میں بحری تعمیرات اور پھر لندن میں انتظامی حساب داری پڑھی، اور مشرقی پاکستان میں شیل آئل کے مالیاتی افسر رہے۔ 1970ء کے طوفان اور 1971ء کی جنگ آزادی کے بعد انھوں نے لندن کا فلیٹ بیچا، نئے آزاد بنگلہ دیش واپس آئے اور 1972ء میں براک قائم کیا، اور اگلی دہائیوں میں اسے ایک ایسی تنظیم بنا دیا جو بنگلہ دیش کے تمام 64 اضلاع اور پھر ایشیا و افریقا کے دس ممالک میں تعلیم، صحت، مائیکرو فنانس اور انسانی حقوق میں کام کرتی ہے۔ انھیں 2010ء میں برطانوی نائٹ کا خطاب ملا؛ ان کے اعزازات میں ریمن میگسیس ایوارڈ (1980ء)، ورلڈ فوڈ پرائز (2015ء) اور ییدان پرائز (2019ء) شامل ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ بانیاچونگ گاؤں میں، جو آج حبی گنج ضلع میں ہے، صدیق حسن اور سیدہ صوفیہ خاتون کے آٹھ بچوں میں سے ایک پیدا ہوئے؛ ان کے نانا سید معظم الدین حسین برطانوی دور کے آخری برسوں میں بنگال میں زراعت و تعلیم کے وزیر رہے تھے۔ انھوں نے پابنا اور ڈھاکہ کالج سے تعلیم مکمل کی، اٹھارہ برس کی عمر میں بحری تعمیرات پڑھنے گلاسگو یونیورسٹی گئے، پھر لندن میں چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس سے وابستہ ہو کر 1962ء میں اپنی پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کی۔ 1

    شیل، 1970ء کا طوفان اور جنگ آزادی

    وہ مشرقی پاکستان واپس آ کر شیل آئل سے منسلک ہوئے اور اس کے مالیات شعبے کے سربراہ بن گئے۔ اسی زمانے میں 1970ء کے تباہ کن بھولا طوفان نے تین لاکھ جانیں لیں؛ انھوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر ”ہیلپ“ نامی تنظیم بنائی جو منپورا جزیرے میں امداد و بحالی کا کام کرتی تھی، جس کی تین چوتھائی آبادی ہلاک ہو چکی تھی۔ جنگ آزادی شروع ہونے پر وہ برطانیہ چلے گئے، جہاں اپنے ملک کی آزادی کے لیے یورپی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے واسطے ”ایکشن بنگلہ دیش“ قائم کیا۔ 1

    براک کا قیام و ارتقا

    دسمبر 1971ء میں جنگ ختم ہونے پر انھوں نے لندن کا فلیٹ بیچا اور واپس آ کر اس کی رقم سے دیہی غریبوں کے حالات بہتر بنانے کا طویل المدت کام شروع کیا، جس کا آغاز شمال مشرقی بنگلہ دیش کے دور دراز علاقے سلا سے ہوا؛ یہی کام 1972ء میں براک بنا۔ براک بڑھ کر بنگلہ دیش کے تمام 64 اضلاع میں تعلیم، صحت، مائیکرو فنانس، مہارتوں، انسانی حقوق، زراعت اور کاروباری ترقی میں کام کرنے لگی اور 2002ء میں افغانستان سے بین الاقوامی بنی اور ایشیا و افریقا کے دس ممالک تک پھیل گئی۔ عابد نے اسے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (1972ء–2001ء) اور پھر اس کی گورننگ باڈی اور براک بینک و براک یونیورسٹی جیسے منسلک اداروں کے سربراہ کے طور پر وفات تک چلایا۔ 1 3

    عہدے اور اعزازات

    وہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کے رکن اور سربراہ رہے، جن میں عالمی بینک کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی، صحت تحقیق برائے ترقی کی بین الاقوامی کمیشن اور غرباء کی قانونی بااختیاری پر اقوامِ متحدہ کی کمیشن شامل ہیں۔ انھیں 2010ء میں آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ سینٹ جارج کا نائٹ کمانڈر بنایا گیا، وہ 2011ء میں وائز پرائز برائے تعلیم کے پہلے فاتح رہے، اور انھیں اولوف پالمے پرائز (2001ء)، ورلڈ فوڈ پرائز (2015ء) اور ییدان پرائز (2019ء) ملا، نیز آکسفورڈ، ییل، کولمبیا اور پرنسٹن جیسی جامعات سے اعزازی ڈاکٹریٹس ملیں۔ بنگلہ دیش نے انھیں موت کے بعد 2025ء میں یوم آزادی ایوارڈ دیا۔ 1 3

    وفات

    وہ نومبر 2019ء کے آخر میں سانس کی تکلیف اور جسمانی کمزوری کے باعث ہسپتال داخل ہوئے اور 20 دسمبر 2019ء کو ڈھاکہ میں 83 برس کی عمر میں وفات پا گئے، جہاں وہ دماغ کے سرطانی رسولی کا علاج کروا رہے تھے۔ آرمی اسٹیڈیم میں نمازِ جنازہ کے بعد انھیں 22 دسمبر کو ڈھاکہ کے بنانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 1 2

    مذہب پر نوٹ

    اس اندراج کے لیے پڑھے گئے ماخذ کہتے ہیں کہ عابد کا تعلق ”ایک بنگالی مسلمان گھرانے“ سے تھا، ان کے دفن سے پہلے نمازِ جنازہ کا ذکر کرتے ہیں، اور ویکی ڈیٹا پر ان کے مذہب کی قدر عام ”اسلام“ ہے جس میں کوئی مسلک مذکور نہیں؛ کوئی ماخذ خود ان کے لیے کوئی مسلک یا وابستگی نہیں بتاتا۔ اس لیے عجائب گھر کے ڈیٹا میں ان کا عقیدہ ”نامعلوم“ درج ہے اور ماخذ کی باتیں ان کے ریکارڈ کے عقیدے والے نوٹ میں من و عن محفوظ ہیں۔ 1 2

    مآخذ

    • اوپر حوالہ شدہ معرّف ماخذ کيانات، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام درج ہونا چاہیے جس نے ہر واقعہ تبدیل کیا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری· کمال حسین

    ماخذ

    1. Fazle Hasan Abed — English Wikipedia
    2. Fazle Hasan Abed — Wikidata Q3067732
    3. Fazle Hasan Abed — Arabic Wikipedia
    • Fazle Hasan Abed — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فضل حسن عابد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fazle-hasan-abed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔