عیاض الدین احمد

عياض الدين أحمد

–

دكا

بنگلہ دیشی ماہرِ ارضیات اور سیاست دان (1 فروری 1931ء – 10 دسمبر 2012ء)، ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر اور شعبہ علومِ ارضی کے سربراہ، 2002ء سے 2009ء تک بنگلہ دیش کے صدر رہے اور 2006ء–2007ء میں نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر کا عہدہ بھی سنبھالا، حتیٰ کہ 11 جنوری 2007ء کی فوجی حمایت یافتہ ایمرجنسی کے بعد اس دوسرے عہدے سے مستعفی ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · teacher
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد کیتھراڈا

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عیاض الدین احمد (1 فروری 1931ء – 10 دسمبر 2012ء) بنگلہ دیشی ماہرِ ارضیات اور سیاست دان تھے جو 2002ء سے 2009ء تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر اور شعبہ علومِ ارضی کے سربراہ تھے، اور 2006ء–2007ء میں صدارت کے ساتھ ساتھ نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر کا عہدہ بھی سنبھالا، حتیٰ کہ جنوری 2007ء کی فوجی حمایت یافتہ ایمرجنسی نے یہ دوہرا انتظام ختم کر دیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    احمد نایا گاؤں، بکرم پور میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد مولوی محمد ابراہیم ایک مسلم عالم تھے۔ (عربی مقالہ ان کی تاریخ پیدائش 28 فروری 1931ء بتاتا ہے؛ یہاں انگریزی مقالے کی یکم فروری اختیار کی گئی ہے۔) انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے 1952ء اور 1954ء میں ارضیات کی ڈگریاں اور وسکونسن–میڈیسن یونیورسٹی سے 1958ء اور 1962ء میں ایم ایس اور پی ایچ ڈی حاصل کی۔ 1 2

    پیشہ اور صدارت

    ڈھاکہ واپس آ کر وہ پروفیسر، شعبے کے سربراہ، ڈین اور سلیم اللہ مسلم ہال کے پرووسٹ بنے۔ 1991ء سے 1993ء تک پبلک سروس کمیشن اور 1995ء سے 1999ء تک یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین رہے، اور 2002ء میں واحد امیدوار کے طور پر صدر منتخب ہوئے۔ 29 اکتوبر 2006ء کو انھوں نے نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر کا حلف بھی اٹھایا۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور سیاسی بحران کے بعد 11 جنوری 2007ء کو انھوں نے ایمرجنسی نافذ کی، چیف ایڈوائزر کے عہدے سے مستعفی ہوئے اور فخر الدین احمد کو یہ عہدہ سونپا؛ وہ خود 12 فروری 2009ء تک صدر رہے۔ 1

    وفات

    احمد 10 دسمبر 2012ء کو بنکاک کے بمرونگراڈ بین الاقوامی ہسپتال میں وفات پا گئے۔ ان کی میت ڈھاکہ لائی گئی، چار نمازِ جنازہ ادا کی گئیں، اور انھیں بنانی قبرستان میں دفنایا گیا۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف مصدر اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا مصدر نامزد ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Buried in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· جمیل الرضا چودھری· کمال حسین

    ماخذ

    1. Iajuddin Ahmed — English Wikipedia
    2. Iajuddin Ahmed — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عیاض الدین احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/iajuddin-ahmed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔