عبد القدیر خان

عبد القدير خان

–

پاکستانی جوہری طبیعیات دان اور دھات کاری کے انجینئر، جو 1936ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے اور 2021ء میں اسلام آباد میں وفات پائی۔ وہ 1952ء میں پاکستان ہجرت کر آئے، مغربی یورپ کی جامعات سے تربیت پائی، اور 1976ء میں کاہوٹا میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز — بعد میں خان ریسرچ لیبارٹریز — قائم کیں، جنھوں نے پاکستان کا سینٹری فیوج یورینیم افزودگی پروگرام بنایا۔ 2004ء میں ان سے جوہری پھیلاؤ کے نیٹ ورک پر تفتیش ہوئی اور انھوں نے ٹیلی ویژن پر اعتراف کیا؛ صدر مشرف نے انھیں معاف کر دیا اور وہ برسوں نظر بند رہے۔ ان کا جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ فیصل مسجد میں ادا کیا گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سائنس دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی حسن موینی · علي يافعي · کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی · لامین ڈیاک

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد القدیر خان ایک پاکستانی جوہری طبیعیات دان اور دھات کاری کے انجینئر تھے، جو 1 اپریل 1936ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے اور 10 اکتوبر 2021ء کو اسلام آباد میں وفات پائی۔ وہ 1952ء میں بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجروں میں سے تھے، اور انھوں نے مغربی یورپ کی تکنیکی جامعات کے دھات کاری شعبوں سے تربیت پائی، جہاں انھوں نے دھاتی آمیزوں کے مرحلہ وار تحولات اور یورینیم کی دھات کاری پر کام کیا۔ انھوں نے کاہوٹا میں وہ لیبارٹری قائم کی جس نے پاکستان کا یورینیم افزودگی پروگرام بنایا، اور وہ پاکستان میں قومی علامت بن گئے۔ 1

    افزودگی پروگرام

    اپریل 1976ء میں خان پاکستان کے ایٹم بم پروگرام کے افزودگی شعبے سے وابستہ ہوئے۔ ان کی تجویز پر یہ کام پاکستان جوہری توانائی کمیشن سے الگ کیا گیا، اور انھوں نے کاہوٹا میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز قائم کیں — جو بعد میں خان ریسرچ لیبارٹریز کہلائیں — جنھوں نے گیس سینٹری فیوج کے ذریعے افزودہ یورینیم تیار کیا، ان ڈیزائنوں کی بنیاد پر جو انھوں نے نیدرلینڈز کے یورینکو افزودگی کنسورشیم میں دیکھے تھے۔ اسی پروگرام پر وہ بنیاد قائم ہوئی جس پر پاکستان نے 1998ء میں جوہری آلات کے ٹیسٹ کیے۔ 1 2

    پھیلاؤ، اعتراف اور معافی

    اس بات کے شواہد کہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی اور ڈیزائن ان کے نیٹ ورک سے دوسرے ممالک تک پہنچے، جنوری 2004ء میں مشرف انتظامیہ کی تفتیش کا سبب بنے؛ 4 فروری 2004ء کو خان نے ٹیلی ویژن پر اعتراف کیا، اور صدر پرویز مشرف نے اگلے دن انھیں معاف کر دیا۔ وہ برسوں نظر بند رہے اور 2009ء میں عدالتی حکم سے آزاد ہوئے۔ وہ 2001ء سے 2004ء تک صدراتی سیکریٹریٹ کے سائنس مشیر رہے، اور 2012ء میں انھوں نے مختصر مدت کے لیے سیاسی تحریک «تحریک تحفظ پاکستان» بنائی، جو 2013ء میں ختم ہو گئی۔ 1

    ذاتی زندگی اور وفات

    انھوں نے 1963ء میں ہینڈرینا ریٹرنک سے شادی کی، جو ہالینڈ کی شہری تھیں، اور یہ جوڑا 1975ء میں پاکستان میں آباد ہوا۔ انگریزی مضمون کے مطابق انھوں نے مضبوط مذہبی رجحان قائم رکھا اور مسلمان برادریوں کے مسائل پر اخبارات میں کالم لکھے۔ اگست 2021ء میں وہ کووڈ-19 کے باعث اسپتال داخل ہوئے اور 10 اکتوبر 2021ء کو 85 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات پائی۔ ان کا جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ فیصل مسجد میں ادا کیا گیا اور وہ اسلام آباد کے H-8 قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1

    ماخذ

    1. Abdul Qadeer Khan — English Wikipedia
    2. Abdul Qadeer Khan — Urdu Wikipedia
    • Abdul Qadeer Khan — Arabic Wikipedia
    • Abdul Qadeer Khan — Wikidata Q310773
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد القدیر خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-qadeer-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔