ایک نظر میں
- کردار
- واعظ · عالم
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
اسماعیل بن موسیٰ منک زمبابوے کے مسلمان مبلغ اور عالم ہیں، جو مفتی منک کے نام سے معروف ہیں۔ وہ 27 جون 1975 کو سیلسبری (موجودہ ہرارے) میں پیدا ہوئے۔ وہ زمبابوے کے مفتی اعظم اور زمبابوے کی کونسل آف اسلامک اسکالرز کے شعبۂ فتویٰ کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنی مختصر پُرجوش تقاریر کے لیے دنیا بھر میں معروف ہیں، اور اردن کے شاہی اسلامی اسٹرٹیجک مطالعات کے مرکز نے انہیں 2010 سے ہر سال دنیا کے 500 سب سے بااثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، مضمون کے مطابق 2026 کی اشاعت سمیت۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ گجراتی اصل کے ہندوستانی نژاد زمبابوی مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد سے تعلیم شروع کی، عربی مضمون کے مطابق نو برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور بارہ برس کی عمر میں عربی اور اردو سیکھی۔ پھر انہوں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے شریعت کی تعلیم حاصل کی اور گجرات، بھارت کے دار العلوم کانتھاریا میں فقہ حنفی میں تخصص کیا۔ 1 3
کام اور دعوت
وہ زمبابوے کی کونسل آف اسلامک اسکالرز (مجلس العلماء) کے مفتی اعظم اور اس کے شعبۂ فتویٰ کے سربراہ ہیں، «دار الأمہ» نامی ایک اسلامی تعلیمی مرکز کے مدیر ہیں، اور ہرارے کی ایک مسجد کے امام بھی ہیں۔ ان کی شہرت کی بنیاد انگریزی میں مختصر تقاریر اور اسباق ہیں جو یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے افریقہ اور دنیا بھر کے وسیع سامعین تک پہنچتے ہیں۔ 1 3
انہوں نے دہشت گردی کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، اور 31 مارچ 2018 کو مسلمانوں سے کہا کہ وہ مسلمان–مسیحی تشدد سے بچیں، کیونکہ دونوں ایک ہی باپ آدم کی اولاد ہیں۔ 1
کتابیں
ان کے اقوال کا مجموعہ «موٹیویشنل مومنٹس» (Motivational Moments) 2018 میں شائع ہوا، اور اس کی دوسری اشاعت 2019 میں آئی۔ 1
اعزازات
انہیں 16 اپریل 2016 کو فلپائن اور ڈبلن کی آلڈرس گیٹ کالج سے سماجی رہنمائی میں اعزازی ڈاکٹریٹ ملی، اور 2015 میں کوچین ہیرالڈ کے KSBEA ایوارڈز میں سماجی رہنمائی کی عالمی قیادت کا ایوارڈ ملا۔ 1
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
31 اکتوبر 2017 کو سنگاپور نے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی، کیونکہ اس کے نزدیک ان کی تعلیمات اس کے کثیر الثقافتی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ سنگاپور کی وزارتِ داخلہ نے انہیں «علیحدگی پسند اور تفرقہ انگیز» قرار دیا۔ زمبابوے کی مجلس العلماء نے اس پابندی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کثیر الثقافتی زمبابوے کا اثاثہ ہیں اور ان کی تقاریر پوری سننی چاہئیں، مختصر تراشے نہیں۔ نومبر 2018 میں ڈنمارک نے بھی ان کے داخلے پر دو سال کی پابندی لگا دی۔ 1 3
ہفنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے ایک ویڈیو میں ہم جنس پرستوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ 2013 میں چھ برطانوی جامعات میں ان کی مجوزہ تقاریر کی سیریز طلبہ تنظیموں اور جامعات کے حکام کے تحفظات کے بعد منسوخ کر دی گئی۔ 1
اثر و رسوخ
ان کا اثر کتابوں سے زیادہ ڈیجیٹل میڈیا سے ہے: انگریزی میں مختصر تقاریر جو سوشل پلیٹ فارموں پر گردش کرتی ہیں۔ حاضرین کی تعداد پلیٹ فارم کے اعداد ہیں جو بدلتے رہتے ہیں؛ اکتوبر 2026 میں ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبر تقریباً 6.3 ملین ریکارڈ کیے گئے۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Lived in
- المدينة المنورة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· إمامة أبي بكر في مرض النبي
ماخذ
- Ismail ibn Musa Menk — English Wikipedia
- Ismail ibn Musa Menk — Wikidata Q20677091
- إسماعيل بن موسى منك — ويكيبيديا العربية
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل بن موسیٰ منک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ismail-ibn-musa-menk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.