اسماعیل بن موسیٰ منک

إسماعيل بن موسى منك

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

المدينة المنورة

زمبابوے کے مسلمان مبلغ اور عالم، جو مفتی منک کے نام سے معروف ہیں، 1975 میں سیلسبری (موجودہ ہرارے) میں پیدا ہوئے۔ وہ زمبابوے کے مفتی اعظم اور زمبابوے کی کونسل آف اسلامک اسکالرز کے شعبۂ فتویٰ کے سربراہ ہیں، اور اپنی مختصر پُرجوش تقاریر کے لیے دنیا بھر میں معروف ہیں جو ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے کئی زبانوں میں وسیع سامعین تک پہنچتی ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
واعظ · عالم
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    اسماعیل بن موسیٰ منک زمبابوے کے مسلمان مبلغ اور عالم ہیں، جو مفتی منک کے نام سے معروف ہیں۔ وہ 27 جون 1975 کو سیلسبری (موجودہ ہرارے) میں پیدا ہوئے۔ وہ زمبابوے کے مفتی اعظم اور زمبابوے کی کونسل آف اسلامک اسکالرز کے شعبۂ فتویٰ کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنی مختصر پُرجوش تقاریر کے لیے دنیا بھر میں معروف ہیں، اور اردن کے شاہی اسلامی اسٹرٹیجک مطالعات کے مرکز نے انہیں 2010 سے ہر سال دنیا کے 500 سب سے بااثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، مضمون کے مطابق 2026 کی اشاعت سمیت۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ گجراتی اصل کے ہندوستانی نژاد زمبابوی مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد سے تعلیم شروع کی، عربی مضمون کے مطابق نو برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور بارہ برس کی عمر میں عربی اور اردو سیکھی۔ پھر انہوں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے شریعت کی تعلیم حاصل کی اور گجرات، بھارت کے دار العلوم کانتھاریا میں فقہ حنفی میں تخصص کیا۔ 1 3

    کام اور دعوت

    وہ زمبابوے کی کونسل آف اسلامک اسکالرز (مجلس العلماء) کے مفتی اعظم اور اس کے شعبۂ فتویٰ کے سربراہ ہیں، «دار الأمہ» نامی ایک اسلامی تعلیمی مرکز کے مدیر ہیں، اور ہرارے کی ایک مسجد کے امام بھی ہیں۔ ان کی شہرت کی بنیاد انگریزی میں مختصر تقاریر اور اسباق ہیں جو یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے افریقہ اور دنیا بھر کے وسیع سامعین تک پہنچتے ہیں۔ 1 3

    انہوں نے دہشت گردی کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، اور 31 مارچ 2018 کو مسلمانوں سے کہا کہ وہ مسلمان–مسیحی تشدد سے بچیں، کیونکہ دونوں ایک ہی باپ آدم کی اولاد ہیں۔ 1

    کتابیں

    ان کے اقوال کا مجموعہ «موٹیویشنل مومنٹس» (Motivational Moments) 2018 میں شائع ہوا، اور اس کی دوسری اشاعت 2019 میں آئی۔ 1

    اعزازات

    انہیں 16 اپریل 2016 کو فلپائن اور ڈبلن کی آلڈرس گیٹ کالج سے سماجی رہنمائی میں اعزازی ڈاکٹریٹ ملی، اور 2015 میں کوچین ہیرالڈ کے KSBEA ایوارڈز میں سماجی رہنمائی کی عالمی قیادت کا ایوارڈ ملا۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    31 اکتوبر 2017 کو سنگاپور نے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی، کیونکہ اس کے نزدیک ان کی تعلیمات اس کے کثیر الثقافتی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ سنگاپور کی وزارتِ داخلہ نے انہیں «علیحدگی پسند اور تفرقہ انگیز» قرار دیا۔ زمبابوے کی مجلس العلماء نے اس پابندی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کثیر الثقافتی زمبابوے کا اثاثہ ہیں اور ان کی تقاریر پوری سننی چاہئیں، مختصر تراشے نہیں۔ نومبر 2018 میں ڈنمارک نے بھی ان کے داخلے پر دو سال کی پابندی لگا دی۔ 1 3

    ہفنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے ایک ویڈیو میں ہم جنس پرستوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ 2013 میں چھ برطانوی جامعات میں ان کی مجوزہ تقاریر کی سیریز طلبہ تنظیموں اور جامعات کے حکام کے تحفظات کے بعد منسوخ کر دی گئی۔ 1

    اثر و رسوخ

    ان کا اثر کتابوں سے زیادہ ڈیجیٹل میڈیا سے ہے: انگریزی میں مختصر تقاریر جو سوشل پلیٹ فارموں پر گردش کرتی ہیں۔ حاضرین کی تعداد پلیٹ فارم کے اعداد ہیں جو بدلتے رہتے ہیں؛ اکتوبر 2026 میں ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبر تقریباً 6.3 ملین ریکارڈ کیے گئے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    المدينة المنورة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· إمامة أبي بكر في مرض النبي

    ماخذ

    1. Ismail ibn Musa Menk — English Wikipedia
    2. Ismail ibn Musa Menk — Wikidata Q20677091
    3. إسماعيل بن موسى منك — ويكيبيديا العربية
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل بن موسیٰ منک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ismail-ibn-musa-menk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد القبلتين

    The Banu Salama mosque of Medina, named 'of the two qiblas' because the qibla was turned in it: Ibn Zabala reports that a man of Banu Salama reached them at dawn prayer with word of the change and they turned mid-prayer to the Kaaba — while al-Zamakhshari and the sira tradition make the change fall at zuhr when the Prophet had prayed two rak'as with his Companions, then turned to face the Mizab, the men and women exchanging places; Ibn Hajar reconciles the reports, and al-Majd notes that on Ibn Zabala's version Quba mosque would better deserve the name. Ibn Zabala ascribes the mosque to Banu Sawad ibn Ghanm of Banu Salama by al-Midhad, against al-Matari's ascription to Banu Haram.