عباس کیارستمی

عباس كيارستمي

–

ایرانی فلم ہدایت کار، منظر نویس، شاعر و فوٹوگرافر، 1940 میں تہران میں پیدا ہوئے اور 2016 میں پیرس میں وفات پائی؛ انھوں نے کانون ادارے میں فلم شعبہ قائم کیا اور «دوست کا گھر کہاں ہے؟» (1987)، کوکر سہ فلم، «کلوز اپ» (1990)، «چیری کا ذائقہ» (1997) — کان میں پام ڈی اور جیتنے والی — اور «ہوا ہمیں اڑا لے جائے گی» (1999) بنائیں، پھر ایران سے باہر پہلی بار اٹلی میں «سرٹیفائیڈ کاپی» (2010) اور جاپان میں «لائک سم ون ان لو» (2012) فلمائیں؛ انھیں ایران کے عظیم ترین اور بااثر ترین فلم سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
film-director · screenwriter · producer · photographer · شاعر
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان · عبد الستار ایدھی · احمد کیتھراڈا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عباس کیارستمی ایرانی فلم ہدایت کار، منظر نویس، شاعر، فوٹوگرافر اور فلم پروڈیوسر تھے، جو 1970 سے سرگرم رہے اور چالیس سے زائد فلموں کی تیاری میں شامل رہے۔ 1 انھوں نے کوکر سہ فلم (1987–1994)، «کلوز اپ» (1990)، «ہوا ہمیں اڑا لے جائے گی» (1999) اور «چیری کا ذائقہ» (1997) پر تنقیدی پذیرائی حاصل کی — مؤخر الذکر نے کان فلم فیسٹیول میں پام ڈی اور جیتا — اور انھیں ایران کے عظیم ترین اور بااثر ترین فلم سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1 2 اس سجل کے لیے استعمال شدہ کوئی ماخذ ان کے ذاتی مذہب کی گواہی نہیں دیتا، اس لیے ان کے سجل میں ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ 1 3

    ابتدائی زندگی

    کیارستمی 22 جون 1940 کو تہران میں ایک فارسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1 2 ان کا پہلا فنی تجربہ مصوری تھا، جسے انھوں نے نو عمری کے اواخر تک جاری رکھا اور 18 برس کی عمر میں مصوری کا مقابلہ جیتا؛ انھوں نے تہران یونیورسٹی کے اسکول آف فائن آرٹس میں مصوری اور گرافک ڈیزائن میں تخصص کیا اور ٹریفک پولیس اہلکار کے طور پر کام کر کے اپنی تعلیم کا خرچ اٹھایا۔ 1 ساٹھ کی دہائی میں انھوں نے اشتہارات میں کام کیا، 1962 سے 1966 کے درمیان ایرانی ٹیلی ویژن کے لیے لگ بھگ 150 اشتہارات فلمائے، اور ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں فلموں کے کریڈٹ عنوانات بنانے اور بچوں کی کتابوں کی تصویریں بنانے لگے۔ 1

    کانون اور پہلی فلمیں

    1970 میں کیارستمی نے تہران میں بچوں اور نوجوانوں کی فکری نشوونما کے ادارے (کانون) میں فلم شعبہ قائم کرنے میں مدد کی؛ اس کی پہلی پروڈکشن اور ان کی پہلی فلم بارہ منٹ کی «روٹی اور گلی» (1970) تھی، جو ایک اسکول کے لڑکے اور جارح کتے کے تصادم کے بارے میں تھی۔ 1 2 یہ شعبہ ایران کے نمایاں ترین فلم اسٹوڈیوز میں سے ایک بن گیا۔ 1 ستر کی دہائی میں انھوں نے «مسافر» (1974)، تہران میں فٹبال میچ تک پہنچنے کے مصمم لڑکے کے بارے میں، اور «رپورٹ» (1977)، رشوت کے الزام میں ماخوذ ٹیکس اہلکار کے بارے میں، بنائیں، اور وہ ان چند ہدایت کاروں میں سے تھے جو 1979 کے انقلاب کے بعد ایران میں ہی رہے جب ان کے بہت سے ساتھی فرار ہو گئے۔ 1 بعد میں انھوں نے اس فیصلے کی وضاحت جڑ سے اکھڑے درخت کی مثال سے کی: «جب آپ زمین میں جڑیں رکھنے والے درخت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں تو وہ درخت پھل نہیں دے گا... میرا خیال ہے کہ اگر میں اپنا ملک چھوڑ دیتا تو میں اسی درخت جیسا ہوتا۔» 1

    کوکر سہ فلم اور «کلوز اپ»

    «دوست کا گھر کہاں ہے؟» (1987)، جو ہمسایہ گاؤں میں دوست کی کاپی لوٹانے کے جستجوئے آٹھ سالہ بچے کے بارے میں تھی، نے انھیں ایران سے باہر شناخت دلائی۔ 1 نقاد اسے «اور زندگی چلتی رہتی ہے» (1992) اور «زیتون کے درختوں کے درمیان سے» (1994) کے ساتھ کوکر سہ فلم میں شمار کرتے ہیں — شمالی ایران کے گاؤں کوکر کے نام پر — اور یہ تینوں فلمیں 1990 کے منجیل-رودبار زلزلے سے متعلق ہیں جس میں 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے، اور زندگی، موت، تبدیلی اور تسلسل کے موضوعات استعمال کرتی ہیں۔ 1 «کلوز اپ» (1990)، جو فلم ساز محسن مخملباف کا روپ دھارنے والے شخص کی نیم دستاویزی، نیم تمثیلی کہانی ہے، 2012 کے سائٹ اینڈ ساؤنڈ سروے میں ہمہ وقتی عظیم ترین 50 فلموں میں شامل ہوئی۔ 1 1995 اور 1996 میں انھوں نے جعفر پناہی کی «سفید غبارہ» کا منظرنامہ لکھا۔ 1

    «چیری کا ذائقہ» اور اس کے بعد

    «چیری کا ذائقہ» (1997)، خودکشی کے مصمم شخص کی ڈراما کہانی جو اپنے دفن کے لیے کسی کو تلاش کرتا ہے، نے کان میں پام ڈی اور جیتا، جو شوہی امامورا کی «دی ایل» کے ساتھ مشترکہ تھا۔ 1 2 دور دراز کرد گاؤں میں واقع «ہوا ہمیں اڑا لے جائے گی» (1999) نے وینس میں گرینڈ جیوری پرائز جیتا۔ 1 تہران میں گھومتی کار میں ڈیش بورڈ کیمروں سے فلمائی گئی «ٹین» (2002) کو ڈیجیٹل مائیکرو سنیما کی تجرباتی فلم کے طور پر سراہا گیا، اور «شیرین» (2008) میں نمایاں ایرانی اداکاراؤں اور جولیٹ بنوش کو خسرو و شیرین کی رومانوی کہانی پر مبنی فلم دیکھتے ہوئے فلمایا گیا۔ 1

    ایران سے باہر کام

    «سرٹیفائیڈ کاپی» (2010)، جو ٹسکنی میں جولیٹ بنوش کے ساتھ بنائی گئی — جنھوں نے اس پر کان میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا — کیارستمی کی پہلی فلم تھی جو ایران سے باہر فلمائی اور تیار ہوئی۔ 1 جاپان میں واقع و فلمائی گئی «لائک سم ون ان لو» (2012) ان کی آخری مکمل فیچر فلم تھی؛ ان کی آخری فلم «24 فریمز»، جو ان کی 24 ساکت تصاویر پر مبنی تھی، ان کی وفات کے بعد 2017 میں ریلیز ہوئی۔ 1 وہ کئی فیسٹیولز کی جیوریوں میں شامل رہے، جن میں کان 1993، 2002 اور 2005 شامل ہیں، اور 2005 اور 2014 میں کان کی جیوریوں کی صدارت کی۔ 1

    شاعری، فوٹوگرافی اور اسلوب

    کیارستمی معروف فوٹوگرافر اور شاعر بھی تھے: ان کی 200 سے زائد نظموں کا دو لسانی مجموعہ «واکنگ ود دی ونڈ» ہارورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا، اور ان کے فوٹوگرافی کام میں «ان ٹائٹلڈ فوٹوگرافس» شامل ہے، جو زیادہ تر 1978 سے 2003 کے درمیان تہران میں لی گئی برفانی مناظر کی تصاویر ہیں۔ 1 ان کی فلموں کی پہچان بچے مرکزی کردار، دستاویزی طرز کی بیانیہ کاری، دیہی گاؤں کی کہانیاں، کاروں کے اندر مکالمے، مکالموں اور عنوانات میں فارسی شاعری، اور فکشن و دستاویزی عناصر کو ملانے والی ابہام پسندی ہے؛ انھوں نے کہا تھا: «ہم جھوٹ کے سوا سچ کے قریب کبھی نہیں پہنچ سکتے۔» 1 نقادوں نے ان کے سادہ، شاعرانہ اسلوب کا موازنہ ستیہ جیت رے، وٹوریو ڈی سیکا، ایرک رومر اور ژاک تاتی سے کیا ہے، اور بعض نے ان کے کام کو صوفی مفاہیم سے پڑھا ہے، جبکہ دیگر نقاد ان کی فلموں میں روحانیت کے اثر کو کم درجہ دیتے ہیں — یہ نقادوں کے درمیان ان کے موضوعات پر بحث ہے، جو یہاں اسی حیثیت میں درج ہے۔ 1

    ذاتی زندگی، وفات اور علاج کا تنازع — منسوب

    کیارستمی نے 1969 میں پروین امیر قلی سے شادی کی؛ ان کے دو بیٹے، احمد اور بہمن، ہوئے اور 1982 میں طلاق ہو گئی۔ 1 3 مارچ 2016 سے تہران میں ان کا معدے کی بیماری کا علاج ہوا، جون کے اواخر میں وہ پیرس کے اسپتال گئے، اور 4 جولائی 2016 کو 76 برس کی عمر میں وہیں وفات پا گئے، اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز میں شمولیت کی دعوت ملنے کے ایک ہفتے بعد؛ ان کی میت تہران لائی گئی اور انھیں ان کی وصیت کے مطابق لاواسان میں دفن کیا گیا۔ 1 2 یہ پیراگراف ان کے علاج کے تنازع کو اسی طرح پیش کرتا ہے جیسے مآخذ بیان کرتے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ ان کی وفات سے پہلے ان کے دوست محمد شیروانی نے ان کا یہ قول نقل کیا کہ ان کی طبی ٹیم کے بارے میں کہا: «انھوں نے اسے [میرے نظامِ ہضم کو] تباہ کر دیا»، اور ممکنہ طبی غلطی کی تحقیقات کے لیے مہم چلی؛ ان کے بڑے بیٹے احمد نے اس وقت کسی طبی غلطی کی تردید کی۔ 1 ان کی وفات کے نو دن بعد ان کے خاندان نے طبی بدسلوکی کی باقاعدہ شکایت درج کی، اور ایرانی میڈیکل کونسل کے سربراہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو طبی فائل کے لیے خط لکھا؛ بعد میں ایرانی میڈیکل کونسل نے، ایک متبادل ذریعے سے حاصل شدہ نقل کی بنیاد پر، اعلان کیا کہ ان کی موت ہیپرین نامی خون پتلا کرنے والی دوا کی زیادہ مقدار سے ہونے والے شدید دماغی پردے کے خون بہنے سے ہوئی، پیرس کے اسپتال کے عدم تعاون پر تنقید کی، اور تہران کی ایک عدالت نے ان کی ایرانی طبی ٹیم کو غفلت کے الزامات سے بری کر دیا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Directed
    طعم الكرز
    Wrote the screenplay of
    طعم الكرز

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    طعم الكرز

    ماخذ

    1. Abbas Kiarostami — English Wikipedia
    2. Abbas Kiarostami — Encyclopaedia Britannica
    3. Abbas Kiarostami — Wikidata Q55210
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عباس کیارستمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abbas-kiarostami/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    طعم الكرز

    Abbas Kiarostami's Palme d'Or winner about a Tehran man seeking someone to bury him if he dies by suicide — its dialogues turn on Islamic arguments over life and death.