عبد العزیز بوتفلیقہ

عبد العزيز بوتفليقة

–

الجزائر

الجزائری سیاست دان اور سفارت کار، جو 1937 میں مراکش کے وجدة میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں قومی آزادی فوج میں لڑے، الجزائر کے وزیرِ خارجہ (1963–1979) اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر رہے، پھر تقریباً بیس برس (1999–2019) الجزائر کے صدر رہے یہاں تک کہ حراک احتجاج نے انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ 2021 میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القدیر خان · علی حسن موینی · علي يافعي · کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی

مکان میں

الجزائر

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد العزیز بوتفلیقہ (2 مارچ 1937 – 17 ستمبر 2021) الجزائری سیاست دان اور سفارت کار تھے، جو سولہ برس (1963–1979) اپنے ملک کے وزیرِ خارجہ رہے اور پھر تقریباً بیس برس (1999–2019) صدر رہے، یوں الجزائر کے سب سے طویل عرصہ حکمران بنے، یہاں تک کہ 2019 میں حراک احتجاج نے انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    بوتفلیقہ مشرقی مراکش کے شہر وجدة میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین تلمسان کے قریب واقع پہاڑوں سے ہجرت کر کے وہاں آئے تھے، اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ 1 3

    ایک زاویہ شیخ کے بیٹے ہونے کے ناتے وہ قرآن سے خوب واقف تھے، وجدة کے اسکولوں میں پڑھے، اور لڑکپن میں وہاں کے ایک قادری زاویے سے وابستہ رہے، جیسا کہ انگریزی مضمون بتاتا ہے۔ 1

    انقلاب اور وزارتِ خارجہ

    1956 میں انیس برس کی عمر میں وہ قومی آزادی فوج میں شامل ہوئے، ہواری بومدین کے قریبی ساتھی اور ان کے «وجدة گروپ» کے رکن بنے، اور 1960 میں جنوبی محاذ کی قیادت پر «عبد القادر المالی» کا لقب پایا۔ 3 1

    1962 میں آزادی کے بعد وہ وزیرِ کھیل بنے اور 1963 میں وزیرِ خارجہ مقرر ہوئے؛ اس منصب پر وہ 1978 میں بومدین کی وفات تک رہے، اور 1974–1975 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔ 1

    1983 میں مالیاتی عدالت نے انھیں سفارتی دور میں چھ کروڑ دینار غبن کرنے کا مجرم قرار دیا؛ صدارتی معافی ملنے کے بعد وہ چھ برس سوئٹزرلینڈ میں جلاوطن رہے اور 1989 میں واپس لائے گئے۔ 1

    صدارت

    1999 میں وہ صدر منتخب ہوئے اور 2004، 2009 اور 2014 میں دوبارہ منتخب ہو کر چار میعادیں پوری کیں؛ ان کے دور میں 2002 میں خانہ جنگی ختم ہوئی اور 2005 کے مصالحتی چارٹر کے تحت عام معافی دی گئی۔ 1

    2013 میں فالج کے حملے نے انھیں شدید کمزور کر دیا، چوتھی میعاد میں ان کی عوامی حاضری تقریباً ختم ہو گئی، اور وہ وزرا سے خط کتابت کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے۔ 1

    فروری 2019 میں پانچویں میعاد کی امیدواری کے اعلان پر ملک گیر حراک احتجاج پھوٹ پڑا؛ پہلے انہوں نے امیدواری واپس لی، پھر فوجی قیادت کے دباؤ پر 2 اپریل 2019 کو مستعفی ہو گئے۔ 3 1

    وفات

    بوتفلیقہ نے آخری برس دارالحکومت کے نواحی علاقے زرالدہ میں گوشہ نشینی میں گزارے اور 17 ستمبر 2021 کو وہیں دل کا دورہ پڑنے سے 84 برس کی عمر میں وفات پائی؛ حکومت نے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا اور انھیں العالیہ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترمیمات مؤرخ ہوں گی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کریں گی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    الجزائر

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حملة شارل الخامس على الجزائر (٩٤٨هـ/١٥٤١م)· دخول الجزائر تحت السيادة العثمانية (٩٢٥هـ/١٥١٩م)· دخول عروج بربروسة الجزائر (٩٢٢هـ/١٥١٦م)· أخذ حصن بينون (١٥٢٩م)· انتهاء نظام البايلربك في الجزائر (٩٩٥هـ/١٥٨٧م)· احتلال فرنسا الجزائر· مسعى قلج علي لضم المغرب (٩٨٩هـ/١٥٨١م)· احمد بن بیلا

    ماخذ

    1. Abdelaziz Bouteflika — English Wikipedia
    2. Abdelaziz Bouteflika — Wikidata Q57308
    3. Abdelaziz Bouteflika — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد العزیز بوتفلیقہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdelaziz-bouteflika/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حملة شارل الخامس على الجزائر (٩٤٨هـ/١٥٤١م)

    After the Truce of Nice (945/1538) Charles V landed before Algiers on 28 Jumada II 948/15 October 1541. Governor Hasan Agha al-Tushi answered his threat-letter — 'this land gives an invader only death' — then a storm tore up the siege camp, dashed the ships together and wrecked the powder; every assault failed and the emperor withdrew to Italy. Algiers' letter to Süleyman compared it to the rout of the People of the Elephant; a second letter asked for reinforcements and Khayr al-Din's restoration. João III's Ramadan 948 letter to Charles cited Ottoman-supplied Sa'di strength in evacuating Safi and Azemmour.