ایک نظر میں
- کردار
- عالم · theologian · فلسفی · writer
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عبد الحلیم محمود (12 مئی 1910ء – 17 اکتوبر 1978ء) ایک مصری عالم تھے جو مارچ 1973ء سے اپنی وفات تک الازہر کے شیخ رہے۔ الازہر اور سوربون سے تعلیم پائی، جہاں ان کی ڈاکٹریٹ ابتدائی زاہد و متکلم الحارث المحاسبی پر تھی؛ ان کی ساٹھ سے زائد تصانیف ہیں جن میں سے بہت سی تصوف و فلسفے پر ہیں، اور الازہر میں نفسیات کی تدریس و کلیہ اصول الدین کی عمادت کے بعد وہ اس کی انتظامیہ میں ترقی پاتے گئے۔ وہ شیخ الازہر کے عوامی مقام کی بحالی، مصری قانون میں شریعت کے نفاذ کی حمایت، اور تصوف پر اپنی کثیر تحریروں کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں، جن کی بنا پر انھیں «چودھویں صدی ہجری کا غزالی» کہا گیا۔12
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 2 جمادی الاول 1328ھ مطابق 12 مئی 1910ء کو محافظہ الشرقیہ کے مرکز بلبیس کی بستی السلام کے نواحی گاؤں ابو احمد میں پیدا ہوئے، ایک ایسے خاندان میں جو نیکی و تقویٰ کے لیے مشہور تھا؛ ان کے والد نے الازہر میں تعلیم پائی تھی مگر مکمل نہ کر سکے۔ قرآن حفظ کیا اور 1923ء میں الازہر میں داخل ہوئے، 1932ء میں عالمیہ کی سند لی۔ پھر اپنے خرچ پر فرانس گئے اور 1940ء میں سوربون سے الحارث المحاسبی پر اسلامی فلسفے میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔21
واپسی پر کلیہ لغت عربیہ میں نفسیات پڑھائی، 1964ء میں کلیہ اصول الدین کے ڈین بنے، مجمع البحوث الاسلامیہ کے رکن پھر امین عام ہوئے جسے انھوں نے از سر نو منظم کیا، 1970ء میں الازہر کے وکیل (نائب) بنے، پھر وزیر اوقاف و شؤون الازہر ہوئے۔2
شیخ الازہر کا دور
ان کی تقرری کا فیصلہ 22 صفر 1393ھ / 27 مارچ 1973ء کو جاری ہوا۔ کم ہی لوگوں کو ان کی کامیابی کی توقع تھی: تھوڑے عرصے میں الازہر نے ان کی قیادت میں اپنا وقار بحال کیا، اس کے ادارے غیر معمولی وسعت سے بڑھے اور ہر عوامی مسئلے پر الازہر کا موقف و بیان آنے لگا۔ جولائی 1974ء میں ایک نئے صدارتی فیصلے نے منصب کے اکثر باقی اختیارات وزیر اوقاف کو منتقل کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے فوراً استعفیٰ دے دیا، دفتر جانے و تنخواہ لینے سے انکار کیا اور پنشن کی تصفیہ طلب کی۔ بحران اس وقت ختم ہوا جب صدر انور السادات نے فیصلہ جاری کر کے صورتحال بحال کر دی: شیخ الازہر کو امام اکبر قرار دیا گیا، دینی و قرآنی علوم کے تمام معاملات میں ان کی رائے کو حتمی حیثیت دی گئی اور وزیر کے برابر درجہ و تقدم دیا گیا؛ ان کی وفات کے بعد منصب کو وزیر اعظم کے برابر قرار دیا گیا۔2
انھوں نے منصب کو کھل کر استعمال کیا۔ جب وزیر عائشہ راتب سے منسوب احوال شخصیہ قانون کا مسودہ الازہر سے رجوع کیے بغیر تیار ہوا تو انھوں نے اسلام کی تعلیمات سے انحراف کے خلاف مضبوط عوامی بیان جاری کیا، اسے حکام، اراکین پارلیمان و صحافت کو بھیجا، اور حکومت نے اعلان کیا کہ قانون میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں۔ جب پوپ شنودہ سوم نے مسلمان و مسیحی طلبہ کے لیے مشترکہ دینی کتب کی تجویز دی اور وزیر تعلیم ان کی رائے لینے آیا تو انھوں نے غصے سے جواب دیا کہ اگر الازہر سے ایسی کتب کا مطالبہ ہوا تو ان کا جواب استعفیٰ ہوگا۔2
آراء
انگریزی مضمون اکیڈمک کاموں (جوناثان براؤن، موشے البو و یورام میطال) کے حوالے سے ان کے دہرائے جانے والے موضوعات گنواتا ہے: علم و تعلیم کی اہمیت، اسلام کی روحانیت و فقہ کا امتزاج، اور مصر کی سیاست و معاشرے کی اسلام کے مطابق اصلاح کی ضرورت۔ وہ مصر کے مدنی قانون کو شریعت سے بدلنے کے مستقل حامی تھے اور کہتے تھے کہ چوری کی سزا (ہاتھ کاٹنا) خدا کا مقرر کردہ حکم ہے اور جہاں نافذ ہوا نظم قائم ہوا؛ ساتھ ہی انھوں نے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر سولہ سال مقرر کرنے کے فتوے کی حمایت کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ترقی یافتہ معاشروں نے یہی عمر رکھی ہے ہرچند شرعی روایت میں کوئی عمر مقرر نہیں۔ ان کے نزدیک اصلاح کی ابتدا علم سے ہوتی ہے، دینی ہو یا مادی؛ علم عبادت و جہاد کی ایک صورت ہے۔ 1971ء میں، سادات کے عہد میں، انھوں نے سعودی عرب کے شاہ فیصل کے ساتھ کمیونزم کے مقابلے کا معاہدہ کیا جس کا بجٹ چار کروڑ پاؤنڈ تھا۔3
تصوف
ان کی تصانیف ساٹھ سے زائد ہیں، جن کا بڑا حصہ تصوف و فلسفے پر ہے اور بعض فرانسیسی میں ہیں۔ ان میں «قضیۃ التصوف: المنقذ من الضلال»، «قضیۃ التصوف: المدرسہ الشاذلیہ» اور «المدرسہ الشاذلیہ الحدیثہ و امامها ابو الحسن الشاذلی» شامل ہیں، نیز الحارث المحاسبی، سہل التستری، ذو النون المصری، الفضیل بن عیاض، ابو بکر الشبلی اور ابو یزید البسطامی پر مطالعات بھی۔ انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ اپنی کثیر تحریروں و خطبات کے ذریعے تصوف کو زندہ کرنے کے لیے یاد کیے جاتے ہیں، سوڈانی صوفی شیخ محمد عثمان عبد البرہانی سے بے حد متاثر تھے جن کے علم نے تصوف کے بارے میں ان کے خیالات تشکیل دیے، اور انھوں نے تصوف کو ایک سائنسی طریقے کے طور پر پیش کیا جس کا جوہر ماورائی حقائق کی معرفت ہے اور جس کے تین ارکان ہیں: علم (شریعت کا علم)، جہاد (معاشرے کے مسائل میں شریک ہونا) اور عبودیت (خدا کی خالص بندگی)۔23
دیگر تصانیف
دیگر کتب میں «یورپ و اسلام»، «التوحید الخالص» یا «الاسلام و العقل»، «اسرار العبادات فی الاسلام»، «التفکیر الفلسفی فی الاسلام»، «القرآن و النبی»، فتاویٰ کی دو جلدیں اور کمیونزم پر فتاویٰ شامل ہیں۔2
اعتقاد کا ریکارڈ
متحف ان کا انتماء «نامعلوم» درج کرتا ہے اور یہ سوال ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں نمایاں ہے۔ ان کا مالکی فقہ صرف معلوماتی خانوں کے خاندان پر قائم ہے — انگریزی، عربی و اردو خانے سب اسے بغیر حوالے کے دیتے ہیں اور کوئی متن ان کے لیے کوئی مسلک نام لے کر نہیں بتاتا؛ سنی ہونا انہی خانوں، درجہ بندیوں اور ويكيڈاتا کی دینی قیمت سے ملتا ہے۔ ان کا تصوف تحریر و دعوت کے طور پر اور شیخ البرہانی سے تاثر کے طور پر آیا ہے، کسی متن میں شاگردی یا کسی سلسلے کی رکنیت ثابت نہیں۔ الازہر کا منصب انتماء کی شہادت نہیں۔324
وفات
مصادر
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصدری ادارے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کی بعد کی ترجموں و ترمیموں کی تاریخ اور ہر تبدیلی کے مصدر کا نام درج ہونا ضروری ہے۔
تعلقات
- Died in
- القاهرة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ
ماخذ
- Abd al-Halim Mahmud — Urdu Wikipedia
- Abd al-Halim Mahmud — Arabic Wikipedia
- Abd al-Halim Mahmud — English Wikipedia
- Abd al-Halim Mahmud — Wikidata Q2820946
- Abd al-Halim Mahmud — French Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الحلیم محمود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-al-halim-mahmud/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.