ابو الاعلیٰ مودودی

أبو الأعلى المودودي

–

لاهور

پاکستانی عالم و مفکر (1903–1979)، جو ہندوستان کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوا۔ اس نے 1941 میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی اور 1972 تک اس کی پاکستانی جماعت کی قیادت کی، حاکمیتِ الٰہی اور شریعت پر قائم اسلامی ریاست کی دعوت دی؛ بار بار قید ہوا، 1953 میں سزائے موت سنائی گئی مگر عوامی دباؤ پر رہا ہو گیا۔ اس نے درجنوں کتابیں لکھیں جن میں سرِ فہرست اس کی تفسیر «تفہیم القرآن» ہے؛ امریکا میں وفات پائی اور لاہور میں دفن ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · سیاست دان · theologian
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الله الموسوي الشيرازي · الأكوع محمد بن علي · امادو ہامپاتے با · باوا محی الدین

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ابو الاعلیٰ مودودی (25 ستمبر 1903 – 22 ستمبر 1979) پاکستانی عالم اور سیاسی مفکر تھے، جنہوں نے 1941 میں برطانوی ہندوستان میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی اور 1947 سے 1972 تک پاکستان میں اس کی قیادت کی۔ 1

    انگریزی مضمون ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ کا قول نقل کرتا ہے کہ وہ «جدید اسلام کے سب سے باقاعدہ مفکر» تھے، اور ان کی کتابوں — بالخصوص چھ جلدوں کی تفسیر «تفہیم القرآن» — نے انہیں معاصر اسلامی احیائی علماء میں سب سے بااثر بنا دیا، جن کی تحریریں جنوبی ایشیا سے عرب دنیا، ایران اور ترکی تک پڑھی گئیں۔ 1

    وہ 1979 میں خدمتِ اسلام کے لیے شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ کے پہلے وصول کنندہ بنے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تربیت

    وہ شہر اورنگ آباد (ریاستِ حیدرآباد) میں پیدا ہوئے، وکیل احمد حسن کے تین بیٹوں میں سب سے چھوٹے تھے؛ خاندان خود کو چشتی سلسلے کی نسل بتاتا تھا اور ان کا لقب خواجہ قطب الدین مودود چشتی سے ماخوذ ہے۔ 1

    نو برس کی عمر تک ان کی تعلیم گھر پر والد اور ان کے مقرر کردہ اساتذہ کے ذمے رہی — عربی، فارسی، فقہ اور حدیث، منطق سمیت — اور عربی مضمون کے مطابق والد نے انہیں قرآن و فقہ پڑھائی اور امام مالک کی مؤطا حفظ کرائی۔ 1 2

    وہ ذہین بچے تھے: گیارہ برس کی عمر میں قاسم امین کی «المرأۃ الجدیدۃ» کا عربی سے اردو ترجمہ کیا، شبلی نعمانی کے قائم کردہ اورنگ آباد کے اورینٹل ہائی اسکول اور پھر حیدرآباد کے ایک روایتی دارالعلوم میں پڑھے؛ 1919 میں والد کا انتقال ہوا تو سولہ برس کی عمر میں ان کی باقاعدہ تعلیم ختم ہو گئی۔ 1 2

    دہلی میں انہوں نے انگریزی و جرمن سیکھی اور مغربی فلسفہ، عمرانیات اور تاریخ پانچ برس گہرائی سے پڑھی، اور جمعیت علمائے ہند کے ارکان کی تحریک پر درسِ نظامی پڑھ کر روایتی علوم کی اجازتیں حاصل کیں، اگرچہ انہوں نے خود کو رسمی معنوں میں «عالم» کہنے سے پرہیز کیا۔ 1

    جماعتِ اسلامی کی بنیاد اور پاکستان

    وہ پندرہ برس کی عمر میں لکھنے لگے، سترہ برس میں اردو ہفت روزے «تاج» کے مدیر بنے، «الجامعۃ» (1924–1927) کی ادارت کی، اور 1932 سے «ترجمان القرآن» نکالا جس میں ان کے سیاسی خیالات پختہ ہوئے۔ اقبال سے 1938 کی ملاقات کے بعد وہ پٹھان کوٹ اور پھر 1939 میں لاہور آئے۔ 1

    اگست 1941 میں انہوں نے لاہور میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ جماعت نے تقسیمِ ہند کی مخالفت کی، مگر 1947 میں تقسیم کے بعد تحریک نئی سرحدوں پر بٹ گئی اور مودودی نے 1972 تک پاکستانی جماعت کی امارت کی۔ 1

    پاکستان میں انہوں نے قرآن و سنت پر قائم آئین کا مطالبہ کیا؛ 1948 میں پہلی بار قید ہوئے، اور 1953 میں احمدیوں کے خلاف تحریک میں حصے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی، مگر سخت عوامی دباؤ پر دو برس بعد رہا ہو گئے۔ 1964 اور 1967 میں پھر قید ہوئے؛ 1970 کے انتخاب میں جماعت صرف چار قومی نشستیں جیت سکی، تو 1971 میں وہ فعال سیاست سے الگ اور 1972 میں امارت سے مستعفی ہو گئے۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں بزرگ سیاست دان کا درجہ دیا اور ان سے مشورہ کیا، اور انہوں نے ضیاء اور اس کے نفاذِ اسلام کے پروگرام کی حمایت کی۔ 1

    فکر اور تصوف سے تعلق

    یہ حصہ ان کے اپنے بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    ان کا موقف تھا کہ انسانوں کو اللہ کی حاکمیت قبول کر کے انسانی قوانین پر شریعت کو مقدم رکھنا چاہیے، اور اس نظام کو انہوں نے «تھیوڈیموکریسی» کہا، کیونکہ اس کی حکمرانی پوری مسلم برادری پر مبنی ہوگی، علماء کی کسی مذہبی طبقاتی اجارہ داری پر نہیں۔ شریعت ان کے نزدیک محض سزاؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ «زندگی کا مکمل نظام» تھی۔ انہوں نے 1940 کی دہائی میں «اسلامی انقلاب» کی اصطلاح رائج کی، مگر اس کا عمل تعلیم و دعوت سے دلوں کی تدریجی تبدیلی تھا، اچانک یا پرتشدد تبدیلی کے وہ مخالف تھے۔ 1

    جوانی میں وہ دیگر احیاء پسندوں کی طرح تصوف کے ناقد تھے، حالانکہ خود دہلی کی فتح پوری مسجد کے ایک دیوبندی ادارے میں تصوف پڑھ کر 1926 میں اس کی اجازت لے چکے تھے۔ بڑھاپے میں ان کی تنقید صرف ان عوامی رسوم تک محدود رہی جو ان کے خیال میں شریعت سے آزاد تھیں، جبکہ شریعت کی پابند ابتدائی تصوف کی انہوں نے تعریف کی، اور تصوف کو ازسرِ نو یوں بیان کیا کہ یہ دین میں توجہ و اخلاق کا پیمانہ ہے۔ 1

    ایمان اور تعلق

    یہ حصہ ماخذ میں درج باتیں پیش کرتا ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    کوئی ماخذ مودودی کے لیے بطور ان کے اپنے کوئی فقہی مکتب بیان نہیں کرتا، اس لیے یہ بند «نامعلوم» رہتا ہے؛ وکی ڈیٹا ان کا دین صرف «اسلام» لکھتا ہے۔ ان کی تربیت کئی دائروں سے گزری — چشتی نسبت، دیوبندی ادارے کی تصوف کی اجازت، ابنِ تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے افکار کا اثر — اور عربی مضمون ان کے ماحول کو علمِ حدیث، حنفی مکتب اور صوفی سلسلوں کا امتزاج بتاتا ہے؛ اساتذہ، نسب، اثرات اور ماحول کسی شخص کے اپنے مکتب کی شہادت نہیں ہوتے، اور جماعتِ اسلامی کی بنیاد ایک سیاسی حقیقت ہے، مکتبی شہادت نہیں۔ 3 1 2

    کتابیں، وفات اور میراث

    انہوں نے اردو میں درجنوں کتابیں لکھیں جو بعد میں انگریزی، عربی اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئیں؛ سب سے مشہور «تفہیم القرآن» ہے، چھ جلدوں کی ترجمہ و تفسیر جو فروری 1942 میں شروع ہوئی۔ وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ کے قیام و انتظام میں بھی شریک رہے۔ 1

    گردے کی عمر بھر کی بیماری اور دل کے امراض کے بعد وہ علاج کے لیے امریکا گئے اور 22 ستمبر 1979 کو بفیلو، نیویارک میں پچھتر برس کی عمر میں وفات پائی؛ لاہور کے علاقے اچھرہ میں اپنی رہائش گاہ پر بے نشان قبر میں دفن ہوئے، جنازے کی نماز یوسف القرضاوی نے پڑھائی۔ 1

    انگریزی مضمون کے مطابق ان کے افکار نے ایرانی انقلاب کو متاثر کیا، حسن البنا اور سید قطب نے انہیں پڑھا، اور فلپ جینکنز کے حوالے سے بڑی معاصر اسلام پسند تحریکیں اپنے پروگرام انہی اور قطب کی تحریروں سے اخذ کرتی ہیں — یہ ان علماء کے احکام ہیں جو مضمون نقل کرتا ہے۔ 1

    ماخذ

    • انگریزی ویکیپیڈیا مضمون «Abu al-A'la Mawdudi» (نظرثانی 1380047326)؛ عربی ویکیپیڈیا مضمون «أبو الأعلى المودودی» (نظرثانی 76783744)؛ اردو ویکیپیڈیا مضمون «ابو الاعلیٰ مودودی» (نظرثانی 11804467)؛ وکی ڈیٹا Q369907۔
    • درج شدہ اختلاف: جائے وفات انگریزی مضمون کی روایت میں بفیلو ہے اور وکی ڈیٹا کا دعویٰ نیویارک کی طرف عام اشارہ کرتا ہے؛ انگریزی مضمون کا دیباچہ کعبہ کے پاس سرکاری جنازے کا ذکر کرتا ہے جبکہ اس کی وفات کی روایت جنازہ بفیلو اور تدفین لاہور بیان کرتی ہے — دونوں باتیں مضمون ہی کی روایت کے طور پر درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    لاهور
    Buried in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی· عاصمہ جہانگیر

    ماخذ

    1. Abul A'la Maududi — English Wikipedia
    2. Abul A'la Maududi — Arabic Wikipedia
    3. Abul A'la Maududi — Wikidata Q369907
    • Abul A'la Maududi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابو الاعلیٰ مودودی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abul-ala-maududi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.