امین احسن اصلاحی

أمين أحسن الإصلاحي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

لاهور

بھارتی اور پھر پاکستانی عالم و مفسر (1904ء–1997ء) جن کا تعلق ضلع اعظم گڑھ کے بمہور سے تھا، حمید الدین فراہی کے ممتاز ترین شاگرد اور ان کے نظریۂ نظمِ قرآن کے حامل۔ 1922ء میں مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے فارغ ہوئے اور صحافت سے وابستہ رہے، پھر 1925ء سے فراہی سے درس کے لیے وقف ہو گئے، دائرہ حمیدیہ قائم کیا، جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں شامل رہے اور 1958ء میں اس سے علاحدہ ہو گئے، 1980ء میں اپنی اردو تفسیر «تدبر قرآن» مکمل کی اور لاہور میں انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · teacher · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: الأكوع محمد بن علي · حبیب بورقیبہ · مصطفی الزرقا · عیسیٰ یوسف آلپتکین · منظور نعمانی

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    امین احسن اصلاحی (1904ء – 15 دسمبر 1997ء) بھارتی و پاکستانی عالم دین اور مفسر قرآن تھے، مدرسۃ الفراہی کے جلیل القدر عالم اور امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص، جن کی اردو تفسیر «تدبر قرآن» فکر فراہی کی نمائندہ ہے۔12

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    امین احسن کی پیدائش 1904ء میں اعظم گڑھ کے گاؤں موضع بمہور میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی۔1 دس سال کے ہوئے تو 9 جنوری 1915ء کو مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں داخل کر دیا گیا، جہاں آٹھ سال میں پورے نصاب کی تعلیم مکمل کی — عربی، قرآن، حدیث، فقہ اور کلامی علوم — اور 1922ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں فارغ ہو کر صحافت سے وابستہ ہو گئے: سہ روزہ «مدینہ» بجنور کے نائب مدیر، بچوں کے ہفت روزہ «غنچہ» کے مدیر، اور مولانا عبد الماجد دریابادی کی نگرانی میں نکلنے والے ہفت روزہ «سچ» میں شریک کار رہے۔1

    تلمیذیت فراہی

    1925ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرسۃ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے؛ فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ ان کے طریقۂ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی، اور 1930ء میں استاد کی وفات تک ان سے درس لیتے رہے۔13 فراہی کی وفات کے بعد حدیث کی تعلیم عبد الرحمن محدث مبارکپوری سے حاصل کی، اور 1936ء میں فکر فراہی کی اشاعت کے لیے دائرہ حمیدیہ قائم کر کے ماہنامہ «الاصلاح» جاری کیا جو 1939ء تک نکلتا رہا۔21

    جماعت اسلامی اور تدبر قرآن

    جماعت اسلامی کی تشکیل 26 اگست 1941ء کو ہوئی؛ مولانا اصلاحی تاسیسی اجتماع میں شریک نہ ہوئے مگر ارکان میں شامل کیے گئے اور مولانا مودودی اور ارکان شورٰی کے ہاں اس قدر اعتماد حاصل ہوا کہ مودودی کے جانشین کی حیثیت حاصل ہو گئی؛ بعض اختلافات کی بنا پر 18 جنوری 1958ء کو آپ جماعت سے علاحدہ ہو گئے۔1 اس کے بعد تفسیر «تدبر قرآن» کی تصنیف میں مصروف رہے، جو انھوں نے اپنے بیان کے مطابق اپنی زندگی کے 55 سال اس پر صرف کر کے اگست 1980ء میں مکمل کی، اور یکم محرم 1401ھ کو ادارہ تدبر قرآن و حدیث قائم کیا جس کے صدر وہ اور ناظم خالد مسعود مقرر ہوئے۔1

    وفات

    مولانا اصلاحی کا انتقال لاہور میں پیر کے دن 15 شعبان 1418ھ بمطابق 15 دسمبر 1997ء کو ہوا۔34

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    حمید الدین فراہی
    Died in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· عاصمہ جہانگیر

    ماخذ

    1. Amin Ahsan Islahi — Urdu Wikipedia
    2. Amin Ahsan Islahi — English Wikipedia
    3. Amin Ahsan Islahi — Arabic Wikipedia
    4. Amin Ahsan Islahi — Wikidata Q4746302
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “امین احسن اصلاحی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amin-ahsan-islahi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.