مصطفی الزرقا

مصطفى الزرقا

–

حلب

سوری فقیہ اور قانونی عالم (1904ء–1999ء)، حلب میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ دمشق اور اردن کی جامعات میں مدنی قانون اور شریعت کے استاد رہے، حلب سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور دو بار وزیر رہے؛ ان کی مشہور کتاب «المدخل الفقہی العام» ہے اور انھیں 1984ء میں الدراسات اسلامیہ کا شاہ فیصل عالمی انعام ملا۔ ان کا انتقال ریاض میں ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · عالم · writer · سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: حبیب بورقیبہ · الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · لیوپولڈ سیدار سینگور · عیسیٰ یوسف آلپتکین

مکان میں

حلب

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مصطفی احمد الزرقاء (1904ء – 3 جولائی 1999ء) ایک سوری فقیہ و قانون دان تھے جنھوں نے اسلامی فقہ کو جدید قانون کی زبان میں از سر نو پیش کیا۔ حلب میں حنفی علما کے خاندان میں پیدا ہوئے، دمشق و اردن کی جامعات میں مدنی قانون و شریعت پڑھائے، حلب سے پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور وزارت عدل و وزارت اوقاف سنبھالیں۔ ان کی کتاب «المدخل الفقہی العام» فقہی مطالعات کی معیاری درسی کتاب بنی اور 1984ء میں انھیں الدراسات اسلامیہ کا شاہ فیصل عالمی انعام ملا۔ ویکیپیڈیا میں ان پر واحد مضمون عربی مضمون ہے؛ یہ صفحہ اسی اور ان کے ويكيڈاتا اندراج پر قائم ہے۔12

    خاندان اور تعلیم

    وہ حلب میں 1322ھ/1904ء میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے: ان کے والد احمد الزرقا «شرح القواعد الفقہیہ» کے مصنف تھے اور دادا محمد الزرقا، دونوں حلب کے بڑے حنفی علما میں سے تھے؛ یوسف القرضاوی نے اس خاندان کو علم کی «سنہری زنجیر» کہا۔1

    بچپن میں مکاتب میں قرآن حفظ کیا اور والد و دادا سے حنفی فقہ اور مجلہ الاحکام العدلیہ کے قواعد پڑھے؛ احمد المكتبی الشافعی، محمد الحنيفی، مؤرخ و محدث محمد راغب الطباخ وغیرہ سے بھی تعلیم پائی اور دمشق میں محدث بدر الدین الحسنی کے دروس میں حاضر ہوئے۔ پہلا بکلوریا علوم و ادب میں پورے سوریہ میں اول درجے سے پاس کیا، 1929ء میں دمشق جا کر ریاضی و فلسفہ میں دوسرا بکلوریا لیا، 1933ء میں قانون و ادب دونوں کلیات سے اول درجے میں فارغ ہوئے، اور 1947ء میں جامعہ فؤاد اول (موجودہ جامعہ قاہرہ) سے اسلامی شریعت کا ڈپلوما حاصل کیا۔1

    قانونی و سیاسی زندگی

    1934ء سے 1943ء تک حلب میں قومی اور فرانسیسی مخلوط عدالتوں کے سامنے وکالت کی۔ 1954ء اور 1961ء میں دو قانون ساز ادوار کے لیے حلب سے سوری پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور 1956ء و 1962ء میں دو آئینی حکومتوں میں وزارت عدل و وزارت اوقاف ان کے سپرد ہوئیں۔ انھوں نے 1952ء کے سوری احوال شخصیہ قانون کے مسودے اور وحدت کے دور کے مصر و سوریہ کے متحدہ قانون کے مسودے کی تیاری میں حصہ لیا۔1

    تدریس

    حلب کے مدرسہ خسرویہ میں پڑھایا، پھر 1944ء سے ساٹھ کی دہائی کے وسط تک جامعہ دمشق میں مدنی قانون و شریعت کے پروفیسر رہے اور کلیہ شریعہ کی تاسیس و نصاب سازی میں حصہ لیا۔ 1971ء سے 1989ء تک جامعہ اردنیہ میں فقہ و قانون کے پروفیسر رہے اور عرب لیگ کے اعلیٰ عربی مطالعات کے ادارے میں خطبات دیے۔ ان کے شاگردوں میں محدث عبد الفتاح ابو غدہ، محمد الملاح، عبد الرحمن رافت الباشا، محمد فوزی فيض الله اور ان کے صاحبزادے، اسلامی معاشیات کے ماہر محمد انس الزرقا شامل ہیں۔1

    وہ 1978ء سے رابطہ عالم اسلامی کی اسلامی فقہ اکیڈمی اور 1984ء سے جدہ کی بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے فعال رکن رہے، کویتی فقہی انسائیکلوپیڈیا کی نگرانی میں حصہ لیا (جس کے لیے کویت کی وزارت اوقاف نے 1966ء میں انھیں ماہر مقرر کیا تھا) اور اردن میں آل البیت فاؤنڈیشن کے رکن رہے۔1

    طریقہ کار اور تصانیف

    عربی مضمون ان کے طریقہ کار کا خلاصہ یوں کرتا ہے: فقہی و قانونی، مقاصدی و تجدیدی طریقہ، جو قدیم فقیہ کی دقت اور جدید قانون دان کی نظر کو جمع کرتا ہے — پرانی فقہ کو عصری قانونی صورت میں پیش کرنا، مدنی قوانین سے اس کا موازنہ، اور شریعت کے مقاصد و کلی قواعد کو مرکزی اہمیت دینا۔ مضمون ان کی مذہبی تعصب سے آزادی کا بھی ذکر کرتا ہے: حنفی نشوونما اور اس مسلک میں گہرے انہماک کے باوجود وہ خود کو ایسا مجتہد سمجھتے تھے جو کسی ایک مذہب میں محصور نہ ہو، جب زیادہ مضبوط دلیل یا بڑی مصلحت دوسرے مذہب میں ملے، اور انھوں نے ایسی «عمومی فقہ» کی دعوت دی جو تمام مذاہب کی دولت سے فائدہ اٹھائے۔1

    ان کی اہم ترین تصنیف چار جلدوں پر مشتمل سلسلہ «الفقہ الاسلامی فی ثوبہ الجدید» ہے: «المدخل الفقہی العام» دو جلدوں میں، «المدخل الی نظریۃ الالتزام العامہ فی الفقہ الاسلامی» اور «العقود المسماۃ: عقد البیع»۔ ان کا قانونی سلسلہ سوری مدنی قانون کی تین جلدوں پر مشتمل شرح ہے۔ دیگر تصانیف میں اوقاف کے احکام، استصلاح و مصالح مرسلہ، نقصان دہ فعل و اس کی ضمانت، انشورنس پر شرعی رائے، یونیسکو کے لیے لکھا گیا «الفقہ الاسلامی و مدارسہ»، شاگرد مجد مکی کے جمع کردہ اور یوسف القرضاوی کے مقدمے والے فتاویٰ، اور شعری دیوان «قوس قزح» شامل ہیں۔1

    مقام و اعزاز

    1404ھ/1984ء میں انھیں الدراسات اسلامیہ کا شاہ فیصل عالمی انعام ملا؛ مضمون کے مطابق یہ فقہی مطالعات میں ان کی خدمات اور خاص طور پر نظریۂ التزام پر ان کی کتاب کے اعتراف میں تھا۔ علی الطنطاوی نے انھیں «سنہری زنجیر» کا واسطۃ العقد کہا؛ یوسف القرضاوی نے انھیں فقہ مقارن اور قدیم و جدید کو جوڑنے والی ممتاز درسگاہ قرار دیا اور اپنے زمانے کے شام کے چار بڑے علما میں شمار کیا۔1

    اعتقاد کا ریکارڈ

    متحف ان کا انتماء «نامعلوم» درج کرتا ہے۔ عربی مضمون حنفی اسلام کو ان کے خاندان کا مسلک اور ان کی اپنی تربیت کے طور پر پیش کرتا ہے — والد و دادا حنفی علما کے سردار تھے، انھوں نے انہی سے حنفی فقہ پڑھی، اور طریقہ کار کا حصہ ان کی حنفی نشوونما کا ذکر کرتا ہوا زور دیتا ہے کہ وہ خود کو ایک مذہب میں محصور نہیں رکھتے تھے۔ خاندانی پس منظر اور تربیت ذاتی اقرار کے مترادف نہیں، اور کوئی دوسرا مصدر ان کے لیے کوئی مسلک نام لے کر نہیں بتاتا: ويكيڈاتا صرف اسلام دیتا ہے۔ حنفی تربیت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔12

    وفات

    ان کا انتقال ریاض میں ہفتہ 19 ربیع الاول 1420ھ مطابق 3 جولائی 1999ء کو عصر کی اذان کے بعد اس حال میں ہوا کہ وہ بیٹھے اپنے فتاویٰ کی تنقیح و تبویب کر رہے تھے۔1

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصدری ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی بعد کی ترجموں و ترمیموں کی تاریخ اور ہر تبدیلی کے مصدر کا نام درج ہونا ضروری ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    حلب
    Studied under
    بدرالدین الحسنی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر· نقل الملك الصالح إلى حلب وتسلط سعد الدين كمشتكين· مناقلة حلب من الموصل إلى سنجار· معركة أعزاز (١٠٣٠)· ملك الروم مدينة حلب· فتح حلب· وفاة الملك الظاهر غازي بن صلاح الدين· إعدام شيخ الحروفية نسيم الدين التبريزي بحلب سنة 820هـ

    ماخذ

    1. Mustafa al-Zarqa — Arabic Wikipedia
    2. Mustafa al-Zarqa — Wikidata Q12243342
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفی الزرقا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-al-zarqa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر

    Saladin moved his brother al-Adil from Egypt to govern Aleppo, and set his son al-Malik al-Aziz Uthman over Egypt in his place.