منظور نعمانی

منظور النعماني

–

بھارتی عالم (1905ء–1997ء) جن کا تعلق سنبھل سے تھا، دیوبندی محدث اور «معارف الحدیث» کے مصنف۔ 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوئے، ندوۃ العلماء میں چار سال حدیث کی تدریس کی، جماعت اسلامی کے بانی رکن اور نائب امیر رہے، پھر 1942ء میں الگ ہو کر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گئے، اور دار العلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ اور رابطۂ عالم اسلامی کے رکن رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · teacher
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · حبیب بورقیبہ · مصطفی الزرقا · لیوپولڈ سیدار سینگور

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد منظور نعمانی (15 دسمبر 1905ء – 4 مئی 1997ء) بھارت کے نامور عالم دین، مبلغ، محقق، مناظر اور مصنف تھے جن کا تعلق سنبھل سے تھا اور جو اپنی کتاب «معارف الحدیث» کے لیے مشہور ہیں۔12 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوئے، ندوۃ العلماء میں حدیث کی تدریس کی، جماعت اسلامی کے بانی رکن رہے، پھر 1942ء میں اس سے الگ ہو کر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گئے۔1

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    15 دسمبر 1905ء (18 شوال 1323ھ) کو سنبھل میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد صوفی محمد حسین تاجر اور زمیندار تھے۔2 اپنے شہر اور دار العلوم مئو کی تعلیم کے بعد دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور 1927ء میں دورۂ حدیث میں اعلیٰ نمبروں سے فارغ ہوئے، جہاں انھوں نے انور شاہ کشمیری سے حدیث پڑھی۔21 پھر تین سال امروہہ میں اور چار سال دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تدریس کی، اور 1934ء میں بریلی سے ماہنامہ «الفرقان» جاری کیا۔2

    جماعت اسلامی اور اس کے بعد

    اگست 1941ء میں جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ابو الاعلیٰ مودودی کے بعد نائب امیر منتخب ہوئے؛ 1942ء میں مودودی سے اختلافات کے بعد ایک گروہ کے ہمراہ الگ ہو کر سنبھل واپس آ گئے۔12 اس کے بعد وہ اور ابو الحسن علی ندوی محمد الیاس کاندھلوی اور ان کی تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گئے، اور نعمانی نے الیاس صاحب کے ملفوظات ان کی آخری علالت کے زمانے (1943ء–44ء) سے جمع کیے۔12 1943ء سے دار العلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ کے رکن رہے اور رابطۂ عالم اسلامی کے بھی رکن تھے۔1

    تصانیف و وفات

    ان کی تصانیف میں «اسلام کیا ہے»، «دین و شریعت»، «معارف الحدیث»، «ملفوظاتِ مولانا محمد الیاس» اور 1984ء کی تنقیدی کتاب «خمینی اور انقلابِ ایران» شامل ہیں۔2 4 مئی 1997ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا اور عیش باغ میں دفن ہوئے؛ وکیڈیٹا وفات 5 مئی دیتا ہے۔23

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    الديوبندية

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اشرف علی تھانوی· حسین احمد مدنی· کفایت اللہ دہلوی· محمود حسن دیوبندی· محمد الیاس کاندھلوی· محمد زکریا کاندھلوی· عبیداللہ سندھی· سید سلیمان ندوی

    ماخذ

    1. Manzoor Nomani — Urdu Wikipedia
    2. Manzoor Nomani — English Wikipedia
    3. Manzoor Nomani — Wikidata Q6753547
    4. Manzoor Nomani — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “منظور نعمانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/manzoor-nomani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اشرف علی تھانوی

    ہندوستانی حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی (1863ء–1943ء) جن کا تعلق تھانہ بھون سے تھا اور جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ اپنے قصبے میں آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا۔ ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں، جن میں «بیان القرآن» اور «بہشتی زیور» سب سے مشہور ہیں۔