ایک نظر میں
- کردار
- عالم · teacher · activist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sunni-hanafi (مستند) · sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمود حسن دیوبندی (1851-1920)، جو «شیخ الہند» کے لقب سے مشہور ہیں، ہندوستان کے مسلمان عالم اور تحریکِ آزادی کے رہنما تھے۔ وہ دار العلوم دیوبند میں داخل ہونے والے پہلے طالب علم تھے، پھر وہاں مدرس بنے اور 1890 سے 1915 تک صدر المدرسین رہے۔ 1 2
انہوں نے برطانوی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریکِ ریشمی رومال چلائی؛ 1916 میں حجاز میں گرفتار ہوئے اور 1920 تک مالٹا میں قید رہے۔ رہائی کے بعد خلافت کمیٹی نے انہیں «شیخ الہند» کا لقب دیا، انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں حصہ لیا اور جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی۔ 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 1851 میں بریلی میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ذوالفقار علی دیوبندی بریلی کالج کے استاد، مدارس کے نائب انسپکٹر اور دار العلوم دیوبند کے بانیوں میں سے تھے۔ بچپن میں انہوں نے قرآن اور فارسی کی تعلیم حاصل کی، پھر دیوبند میں اپنے چچا مہتاب علی دیوبندی سے فارسی و عربی ادب پڑھا۔ 2 3
دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے محمود دیوبندی سے پڑھا، پھر میرٹھ جا کر محمد قاسم نانوتوی سے صحاحِ ستہ کی تعلیم حاصل کی، 1872 میں فراغت پائی اور 1873 میں دار العلوم کے پہلے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں دستارِ فضیلت سے نوازے گئے۔ تصوف میں وہ امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی کے مجاز تھے، اور ان کا سلسلہ چشتیہ صابریہ امدادیہ تھا۔ 2 1
دار العلوم اور ان کی تنظیمیں
1873 میں وہ دار العلوم دیوبند میں مدرس مقرر ہوئے اور 1890 میں صدر المدرسین بنے۔ انہوں نے 1878 میں «ثمرة التربیت» قائم کی، جس کی جگہ بعد میں 1909 میں «جمعیۃ الانصار» بنی، اور 1913 میں اپنے شاگرد عبید اللہ سندھی کے ساتھ «نظارة المعارف القرآنیة» قائم کی۔ 2
تحریکِ ریشمی رومال اور مالٹا کی قید
انہوں نے ہندوستان کے اندر اور افغانستان و ہند کے درمیان قبائلی علاقوں میں کام منظم کیا اور 1915 میں خود حجاز گئے، جہاں مکہ میں غالب پاشا اور انور پاشا سے ملاقاتیں ہوئیں۔ تحریک کے انکشاف پر دسمبر 1916 میں شریف حسین نے انہیں ان کے شاگردوں حسین احمد مدنی اور عزیر گل پشاوری سمیت گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا، اور وہ مالٹا کے قلعہ وردالا میں قید رہے۔ 2
رہائی، خلافت تحریک اور جامعہ ملیہ
مئی 1920 میں وہ رہا ہوئے اور 8 جون کو بمبئی پہنچے؛ خلافت کمیٹی نے انہیں «شیخ الہند» کا لقب دیا۔ انہوں نے عدم تعاون کی تحریک کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا اور طلبہ سے سرکاری تعلیمی ادارے اور نوکریاں چھوڑنے کو کہا۔ 29 اکتوبر 1920 کو انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگِ بنیاد رکھا؛ ان کی صدارتی تقریر ان کے شاگرد شبیر احمد عثمانی نے تیار کی تھی۔ نومبر 1920 میں وہ جمعیت علمائے ہند کے صدر منتخب ہوئے۔ 2
کتابیں
ان کی مشہور تصانیف میں اردو ترجمۂ قرآن ہے جسے ان کے شاگرد شبیر احمد عثمانی نے «تفسیر عثمانی» کی صورت میں مکمل کیا؛ «ادلۂ کاملہ» اور «ایضاح الادلہ»، جو حنفی مکتبِ فکر کے دفاع میں لکھی گئیں؛ «احسن القریٰ»؛ «الجہد المقل»؛ اور بخاری کے ابواب و تراجم پر «الابواب والتراجم» جو انہوں نے مالٹا کی قید میں شروع کی تھی۔ انہوں نے سنن ابی داؤد کی تصحیح و اشاعت بھی کی۔ 2 1
عقیدہ و نسبت
یہ حصہ ماخذوں میں درج ان کے عقیدے اور نسبت کی رپورٹ ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ انگریزی مضمون کے خانۂ معلومات میں ان کی طائفت سنی اور فقہی مذہب حنفی درج ہے؛ عربی مضمون کے خانۂ معلومات میں — جو مستقل طور پر مرتب کیا گیا ہے — «اہل سنت و الجماعت»، مذہب حنفی اور عقیدہ ماتریدی درج ہے؛ اردو مضمون بھی سنی اور حنفی بتاتا ہے۔ اس لیے عجائب گھر نے «سنی-حنفی» کی قدر دستاویزی بنیاد پر درج کی ہے، اور ماتریدی عقیدہ صرف اس نوٹ میں درج ہے۔ 2 3 1
دیوبندی تحریک سے ان کی نسبت ایک ادارہ جاتی و تحریکی نسبت کے طور پر درج ہے، اور چشتی سلسلے سے ان کی صوفیانہ نسبت امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی سے اجازت کی بنیاد پر درج ہے۔ 2 1
وفات و اثر
وہ 30 نومبر 1920 کو دہلی میں وفات پا گئے اور اپنی وصیت کے مطابق دیوبند کے قاسمی قبرستان میں اپنے استاد محمد قاسم نانوتوی کے پہلو میں دفن ہوئے۔ ان کے نام پر سہارنپور میں ایک طبی کالج اور دار العلوم دیوبند میں «شیخ الہند اکادمی» قائم ہے، اور 2013 میں حکومتِ ہند نے تحریکِ ریشمی رومال پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 2 4
ماخذ
- انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1394762463)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 71235900)؛ اردو ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 13230924)؛ ویکی ڈیٹا آئٹم Q6734521۔
تعلقات
- Taught
- اشرف علی تھانوی· حسین احمد مدنی· کفایت اللہ دہلوی· محمد الیاس کاندھلوی· عبیداللہ سندھی· ثناء اللہ امرتسری
- Died in
- دلهي
- Studied under
- رشيد أحمد الكنكوهي
- Member of
- الديوبندية· چشتیہ طریقہ
- Influenced
- شبير أحمد العثماني
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الديوبندية· اشرف علی تھانوی· محمد الیاس کاندھلوی· رشيد أحمد الكنكوهي· محمد زکریا کاندھلوی· حسین احمد مدنی· کفایت اللہ دہلوی· عبیداللہ سندھی
ماخذ
- Mahmud Hasan Deobandi — Urdu Wikipedia
- Mahmud Hasan Deobandi — English Wikipedia
- Mahmud Hasan Deobandi — Arabic Wikipedia
- Mahmud Hasan Deobandi — Wikidata Q6734521
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمود حسن دیوبندی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmud-hasan-deobandi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.