سید سلیمان ندوی

سيد سليمان الندوي

–

بھارتی اور پھر پاکستانی عالم و مؤرخ (1884ء–1953ء) جن کا تعلق بہار کے دیسنہ سے تھا، شبلی نعمانی کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے؛ 1906ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے فارغ ہوئے اور وہیں مدرس رہے، استاد کی وفات کے بعد «سیرت النبی» مکمل کی، اعظم گڑھ میں دار المصنفین قائم کیا اور مجلہ «معارف» جاری کیا، آخر عمر میں اشرف علی تھانوی کے مرید و خلیفہ ہوئے، 1950ء میں کراچی منتقل ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · مؤرخ · writer · teacher
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید سلیمان ندوی (22 نومبر 1884ء – 22 نومبر 1953ء) بھارتی اور پھر پاکستانی عالم، مؤرخ اور سیرت نگار تھے، شبلی نعمانی کے ممتاز ترین شاگردوں میں سے۔12 انھوں نے استاد کی وفات کے بعد «سیرت النبی» مکمل کی، اعظم گڑھ میں دار المصنفین قائم کیا اور مجلہ «معارف» جاری کیا۔1

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    آپ ضلع پٹنہ کے قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے؛ آپ کے والد حکیم سید ابو الحسن صوفی منش انسان تھے۔1 ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھلواری شریف کی خانقاہ مجیبیہ میں ہوئی، پھر 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہو کر سات سال تعلیم حاصل کی اور شبلی نعمانی کے پسندیدہ شاگردوں میں شامل ہوئے۔12 1908ء میں ندوہ میں جدید عربی و الٰہیات کے مدرس مقرر ہوئے، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔21

    علمی خدمات

    شبلی نعمانی نے «سیرت النبی» کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کیا تو باقی جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔1 ان کی دیگر تصانیف میں «خطبات مدراس»، «سیرت عائشہ»، «عرب و ہند کے تعلقات»، «عربوں کی جہاز رانی»، «ارض القرآن»، «حیات شبلی» اور «اہل السنہ والجماعۃ» شامل ہیں۔12 استاد کی وصیت پر دار المصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ قائم کیا اور ماہنامہ «معارف» جاری کیا، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی ارکان میں سے تھے۔12

    روحانی نسبت

    آخر عمر میں آپ کا رجحان تصوف کی طرف ہوا: انگریزی مقالہ لکھتا ہے کہ آپ نے اشرف علی تھانوی سے گہرا روحانی تعلق قائم کیا اور ان کے مرید ہوئے، اور عربی مقالہ آپ کو تھانوی کے ممتاز تلامذہ و خلفا میں شمار کر کے «النقشبندی المجددي» لکھتا ہے۔23

    ہجرت و وفات

    جون 1950ء میں آپ ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی آ گئے، جہاں حکومت پاکستان نے آپ کو تعلیمات اسلامی بورڈ کا صدر مقرر کیا۔1 69 سال کی عمر میں 22 نومبر 1953ء کو کراچی ہی میں انتقال کیا؛ اردو مقالے کا مطلع وفات 23 نومبر لکھتا ہے مگر اس کا وفات والا حصہ 22 نومبر ہی دیتا ہے، اور اسی تاریخ کو اختیار کیا گیا ہے۔14

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    شبلی نعمانی· اشرف علی تھانوی
    Member of
    نقشبندیہ طریقہ· الديوبندية

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمود حسن دیوبندی· الديوبندية· اشرف علی تھانوی· چشتیہ طریقہ· عبد الماجد دریابادی· أحمد علي السهارنفوري· قاضی محمد· حمید الدین فراہی

    ماخذ

    1. Sulaiman Nadvi — Urdu Wikipedia
    2. Sulaiman Nadvi — English Wikipedia
    3. Sulaiman Nadvi — Arabic Wikipedia
    4. Sulaiman Nadvi — Wikidata Q4120083
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید سلیمان ندوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sulaiman-nadvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمود حسن دیوبندی

    ہندوستانی مسلمان عالم (1851-1920) جو شیخ الہند کے لقب سے مشہور ہیں۔ وہ دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں اس کے صدر المدرسین (1890-1915) رہے؛ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریکِ ریشمی رومال کی قیادت کی، گرفتار ہو کر مالٹا میں قید رہے (1916-1920)، اور رہائی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں شریک ہوئے اور جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی۔ ان کا اردو ترجمۂ قرآن ان کے شاگرد شبیر احمد عثمانی نے اپنے مشہور تفسیر کی صورت میں مکمل کیا۔