محمد بن عبد الکریم ختابی

محمد بن عبد الكريم الخطابي

–

القاهرة

مراکشی سیاسی و عسکری رہنما (1882–1963)؛ ملیلیہ میں قاضی رہے، پھر ریف بغاوت کے قائد بنے، 1921 میں انوال میں ہسپانویوں کو شکست دی اور جمہوریۂ ریف (1921–1926) کے صدر رہے؛ 1926 میں فرانسیسیوں کے سامنے ہتھیار ڈالے تو جزیرۂ ری یونین جلاوطن ہوئے، پھر 1947 سے قاہرہ میں مقیم رہے جہاں عرب مغرب آزادی کمیٹی کے سربراہ بنے اور وفات تک آزادی کی تحریکوں کی حمایت کرتے رہے؛ قاہرہ کے شہداء قبرستان میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · جرنیل
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · احمد لطفی سید · علاؤالدین خان · علی المیرغنی · عطیہ فیضی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد بن عبد الکریم ختابی (12 جنوری 1882 – 6 فروری 1963) مراکش کے سیاسی و عسکری رہنما اور جمہوریۂ ریف کے صدر تھے۔ انہوں نے اور ان کے بھائی محمد (امحمد) نے مراکش میں ہسپانوی و فرانسیسی نوآبادیات کے خلاف ریفی قبائل کے اتحاد کی بڑے پیمانے پر بغاوت کی قیادت کی؛ ان کی گوریلا حکمتِ عملی نے ہو چی منہ، ماؤ زیڈونگ اور چے گویرا کو براہِ راست متاثر کیا۔1 2 اردو مقالے کا خانۂ معلومات ان کی پیدائش 1882/1883 درج کرتا ہے۔1

    ابتدائی زندگی

    وہ اخدیر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد عبد الکریم خطابی بنی وریاغل قبیلے کے قاضی تھے۔ اخدیر و تطوان میں ابتدائی تعلیم کے بعد فاس کی مدارسِ عطارین و سفارین میں پڑھا اور جامعہ قرویین میں داخلہ لیا؛ عربی مقالے کے مطابق آخر میں اسپین کی جامعہ سلامنکا میں تین سال ہسپانوی قانون پڑھا۔2 3 ملیلیہ میں استاد، مترجم اور صحافی رہے، اور 1915 میں وہاں کے قاضی القضاة بنے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران جرمن ہمدردی کے الزام میں 1916 سے 1918 تک قید رہے، پھر فرار ہو کر دوبارہ قاضی بنے۔2 3

    ریف جنگ و جمہوریہ

    جون 1921 میں اباران اور پھر انوال میں ہسپانوی فوج کو فیصلہ کن شکست ہوئی؛ تین ہفتوں میں تیرہ ہزار ہسپانوی و نوآبادیاتی سپاہی مارے گئے، اور 18 ستمبر 1921 کو جمہوریۂ ریف قائم ہوئی جس کے وہ صدر بنے۔2 3 فرانسیسی مقالہ ان کی قائم کردہ ریاست کو سلفیت اور ترک اصلاحی تحریکوں سے متاثر جدید اصلاحی ریاست قرار دیتا ہے۔4 1925 میں فرانس پر حملے کے بعد فرانس و اسپین نے ڈھائی لاکھ سے زائد فوج جمع کی، اور 26 مئی 1926 کو انہوں نے فرانسیسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔2

    جلاوطنی اور وفات

    1926 سے 1947 تک جزیرۂ ری یونین جلاوطن رہے؛ 1947 میں فرانس منتقلی کے دوران مراکشی وطن پرستوں نے انہیں آزاد کرا کر قاہرہ پہنچایا، جہاں انہوں نے عرب مغرب آزادی کمیٹی کی سربراہی کی اور آزادی کی تحریکوں کی حمایت کی۔ 6 فروری 1963 کو قاہرہ میں وفات پائی اور وہیں شہداء قبرستان میں دفن ہوئے۔2 3

    حوالہ جات

    اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة
    Sibling of
    امحمد بن عبد الکریم خطابی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Wikipedia (Urdu): Abd el-Krim
    2. Wikipedia (English): Abd el-Krim
    3. Wikipedia (Arabic): Abd el-Krim
    4. Wikipedia (French): Abd el-Krim
    • Abd el-Krim — Wikidata Q202650
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد بن عبد الکریم ختابی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-el-krim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.