امحمد بن عبد الکریم خطابی

امحمد بن عبد الكريم الخطابي

–

ریفی عسکری قائد (1892–1967)؛ عبد الکریم خطابی کے چھوٹے بھائی، میڈرڈ میں کان کنی کی انجینئرنگ پڑھی، جمہوریۂ ریف کی فوج کے سپریم کمانڈر اور نائب صدر رہے، شفشاون، تطوان اور ورغہ کی مہمات کی قیادت کی؛ خاندان کے ساتھ ری یونین اور پھر قاہرہ جلاوطن رہے، مراکش واپس آئے تو رباط میں وفات پائی اور اخدیر میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي · علاؤالدین خان · علی المیرغنی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    امحمد بن عبد الکریم خطابی (1892 – 17 دسمبر 1967) ریفی عسکری و سیاسی رہنما اور عبد الکریم خطابی کے چھوٹے بھائی تھے؛ وہ جمہوریۂ ریف (1921–1926) کے اصل عسکری منصوبہ ساز، اس کی فوج کے سپریم کمانڈر اور نائب صدر تھے۔1 2 ہسپانوی مقالے کے مطابق بعض ماخذ ان کی پیدائش 1897 دیتے ہیں، مگر 1892 زیادہ مقبول ہے کیونکہ وہ بھائی سے دس سال چھوٹے تھے۔2

    تعلیم

    وہ اخدیر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد خطابی قبیلے کے قاضی تھے۔ قاضی نے دونوں بیٹوں کو جامعی تعلیم کے لیے بھیجا: محمد کو فاس میں قرویین میں شریعت پڑھنے، اور امحمد کو پہلے صویرہ اور پھر 1917 میں ہسپانوی وظیفے پر میڈرڈ کے اسکول آف مائنز میں۔ والد نے 1918 میں دونوں کو واپس بلا لیا؛ والد کی 7 اگست 1920 کو وفات کے بعد عبد الکریم نے کمان سنبھالی اور امحمد ان کے نائب بنے۔2

    ریف جنگ و جمہوریہ

    1919 سے انہوں نے بھائی کے ساتھ مل کر ہسپانوی پیش قدمی کے خلاف ریفی مزاحمت منظم کی اور 1921 کی جنگِ انوال میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 18 ستمبر 1921 کو جمہوریۂ ریف کے قیام پر وہ فوج کے سپریم سربراہ اور حکومت کے نائب صدر مقرر ہوئے؛ 1921 تا 1925 شفشاون کی فتح، تطوان کے محاصرے اور 1925 میں فرانسیسیوں کے خلاف ورغہ کی لڑائی کی قیادت کی۔1 2

    جلاوطنی اور وفات

    ستمبر 1925 کے الحسیمہ نزول کے بعد جمہوریہ ختم ہو گئی اور عبد الکریم نے 26 مئی 1926 کو ہتھیار ڈال دیے۔ خاندان 1947 تک جزیرۂ ری یونین جلاوطن رہا، پھر قاہرہ میں آباد ہوا۔ امحمد نے 1964 میں مراکش واپسی کا فیصلہ کر کے رباط میں سکونت اختیار کی، اور 17 دسمبر 1967 کو رباط میں دل کے دورے سے وفات پائی؛ اخدیر میں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔1 2

    حوالہ جات

    اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Sibling of
    محمد بن عبد الکریم ختابی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    القاهرة· محمد بن عبد الکریم ختابی

    ماخذ

    1. Wikipedia (French): M'hamed el-Khattabi
    2. Wikipedia (Spanish): M'hamed el-Khattabi
    • M'hamed el-Khattabi — Wikidata Q97961898
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “امحمد بن عبد الکریم خطابی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mhamed-el-khattabi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    القاهرة

    Capital of Egypt; al-Qahira was founded by the Fatimids in 969 CE beside Fustat and became home to al-Azhar.