ایک نظر میں
- دور
- عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
خلاصہ
جامع الازہر قاہرہ میں ہے، جسے فاطمیوں نے اپنی دعوت کے لیے مسجد کے طور پر قائم کیا۔ پھر وزیر یعقوب بن کلس نے سنہ 378ھ میں اسے ایک جامعہ میں بدل دیا جہاں علوم اور ادب پڑھائے جانے لگے۔ 1
دعوت سے علم تک
یہ جامع مسجد پہلے صرف فاطمی دعوت کے قیام کے لیے مخصوص تھی۔ پھر یہ مصر کے اہم ترین ثقافتی مراکز میں شامل ہو گئی، مسجد عمرو، مسجد ابن طولون اور مسجد الحاکم کے ساتھ۔ 1
مقریزی کے ہاں
مقریزی بیان کرتے ہیں کہ اس جامع کو «جامع القاہرہ» اور «الجامع الازہر» بھی کہا جاتا تھا، اور دونوں فاطمی محلات کے مجموعے کو «القصور الزاہرہ» کہا جاتا تھا۔ 2
مسبحی، داعی الدعاۃ کی مجالس کے بیان میں، کہتے ہیں کہ جامع القاہرہ المعروف بالجامع الازہر میں خواتین کے لیے ایک مجلس مخصوص تھی۔ 3
یومِ مولد کو جامع الازہر کا خطیب، جامع الانور (جامع الحاکم) کے خطیب کے بعد اور جامع الاقمر کے خطیب سے پہلے خطبہ دیتا تھا۔ 4
یہاں جو بیان نہیں ہوا
یہ صفحہ جامع کی تاسیس کا سال نہیں بتاتا؛ مقریزی کی کتاب کے مقامی نسخے میں اس کے بنانے کا سال نہیں ملا۔ سنہ 378ھ کا ماخذ صرف حسن ابراہیم حسن کی کتاب ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں جامع الازہر
جامع ازہر آج قاہرہ کی اہم ترین مساجد میں سے ایک ہے، اور اٹھارہویں صدی سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی دینی درسگاہ رہا ہے۔ اس نام کا تعلق شاید فاطمہ الزہراء سے ہو، مگر کسی قدیم دستاویز سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اسے سردار جوہر الکاتب الصقلی نے فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ کے لیے بنایا، تاکہ نئے شہر القاہرہ میں دربار اور لشکر کا قیام ہو۔ تعمیر کا آغاز 24 جمادی الاولیٰ 359ھ (4 اپریل 970ء) کو ہوا اور دو سال جاری رہی؛ 7 رمضان 361ھ (22 جون 972ء) کو اس کا افتتاح ہوا۔ 5
فاطمی اور ایوبی ادوار کی عمارات
جامع عمرو (فسطاط) اور جامع ابن طولون کی طرح ازہر اپنے محلے کا دینی مرکز تھا، جہاں جمعہ کی نماز ہوتی تھی؛ 380ھ/990ء کے بعد جامع الحاکمی کو بھی یہی امتیازات حاصل ہوئے۔ کئی فاطمی خلفاء نے اس میں اضافہ کیا، جن میں العزیز (365-386ھ/976-996ء) نے شمالی اور جنوبی پہلو کے ایوان بڑھائے، اور الحاکم (386-411ھ/996-1020ء) نے بھی اصلاحات کیں۔ 400ھ/1009-1010ء کا ایک وقف نامہ اس کے عملے اور عبادات کا بیان کرتا ہے، مگر تعلیم کا نہیں۔ وسیع صحن اور اس کے گرد برآمدے، قبلے کی دیوار پر پانچ محرابی ہال، اور جص سے آراستہ اینٹ کی دیواریں اسی عہد کی ہیں۔ ایوبی دور میں صلاح الدین نے محراب کی چاندی کی پٹی ہٹوائی، خطبہ اپنے لیے لیا، اور فرنگیوں کے کلیسا بنا لینے کے بعد جامع الحاکمی کو مسلمانوں کے استعمال میں واپس کیا؛ ازہر زوال پذیر ہوا اور اس کی عمارتیں نظرانداز ہوئیں۔ 6
مملوک دور اور بعد کی بحالی
مملوک سلاطین کے عہد میں حالات بدلے۔ امیر عز الدین ایدمر الہلالی نے سلطان بیبرس کی مدد سے اس کی مرمت کرائی، اور بیبرس نے اس میں خطبہ پڑھنے کی بھی اجازت دی۔ کچھ اوقاف مدرسین کے وظیفے کے لیے مخصوص ہوئے۔ 702ھ/1302-1303ء کے زلزلے میں یہ متاثر ہوا، اور امیر سلار نے اس کی مرمت کی۔ اس کے بیرونی حصے سے تین مدارس متصل کیے گئے: امیر بیبرس کا مدرسہ (709ھ/1309ء)، امیر اکبغا عبد الواحد کا مدرسہ (740ھ/1339-1340ء)، اور خواجہ سرا جوہر الکنکبائی کا مدرسہ (جہاں وہ 844ھ/1440-1441ء میں دفن ہوئے)۔ جھکی ہوئی مینار کئی بار دوبارہ بنائے گئے۔ عثمانی دور میں تعلیم زوال پذیر ہوئی اور صوفی خانقاہیں پھیلیں؛ محمد علی کے دور میں اوقاف کا غلط استعمال ہوا اور قاہرہ کی بمباری میں جامع کو نقصان پہنچا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں کتخدا عبد الرحمن نے منبر، حوض اور بچوں کا مکتب بنوایا؛ انیسویں صدی میں صحن اور برآمدے 1890-1892ء میں دوبارہ بنے، اور عباس حلمی نے اپنے نام کا رواق بنوایا جو 1315ھ/1898ء میں کھولا گیا۔ 7
پناہ گاہ اور عوامی گھر
ازہر دوسری مساجد کی طرح پناہ گاہ بھی تھا؛ وبا، قحط یا جنگ کے وقت لوگ یہاں جمع ہو کر خدا سے دعا کرتے، اور غریب لوگ یہاں رات گزارتے، اور اس کے اوقاف قاہرہ سے گزرنے والے حاجیوں کی مدد کرتے۔ صوفیہ بھی یہاں جمع ہوتے تھے، اور عمر بن الفارض نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں گزارے۔ جدید دور میں یہ قومی اجتماعات کا مقام رہا، جیسے 1919ء میں اور نہرِ سویز کے علاقے میں برطانوی قبضے کے خلاف 1951-1952ء کی جدوجہد میں۔ 8
درمیانی اور بعد کے دور میں تعلیم
فاطمی دور میں اسماعیلی داعی علی بن القاضی النعمان نے ازہر میں اسماعیلی فقہ پڑھائی۔ ایوبی دور میں شیعہ تعلیم ختم کر دی گئی، اور مملوک دور میں ازہر اپنا مقام دوبارہ حاصل کر گیا۔ 665ھ/1266ء میں بیلبک الخازندار نے ایک وسیع مقصورہ بنوایا اور اس کے لیے رقم مقرر کی تاکہ فقہائے شافعیہ کی ایک جماعت وہاں پڑھائے؛ 761ھ/1359-1360ء میں حنفی فقہ کی تدریس شروع ہوئی، ساتھ ہی یتیموں کے لیے قرآن کا مکتب۔ 818ھ/1415-1416ء میں مقریزی نے 750 طلبہ گنے، جو صوبوں اور غیر ملکوں سے تھے، مغربیوں سے لے کر فارسیوں تک، اور رواقوں میں رہتے، فقہ، حدیث، تفسیر، نحو، وعظ اور ذکر پڑھتے۔ مملوک قاہرہ میں، جہاں ستر سے زیادہ مدارس تھے، ازہر ایک اہم مرکز تھا مگر کئی مراکز میں سے ایک۔ عثمانی دور علم کے زوال کا دور تھا؛ اسباب معاشی تھے، اوقاف کی زبوں حالی اور صوفی خانقاہوں کا غلبہ، اور تعلیم متون، شروح اور حواشی کو زبانی یاد کرنے تک محدود ہو گئی۔ 9
مابعد عہد وسطیٰ میں تعلیم اور نظامِ تدریس
عثمانی دور کے آخر میں علم کا مطلب ایک روایتی ذخیرے کو زبانی یاد کرنا تھا، جس میں تدریس کا کوئی طریقہ نہ تھا اور عمومی ثقافت نہ ہونے کے برابر تھی؛ حساب صرف ترکے کی تقسیم تک محدود تھا اور فلکیات نماز کے اوقات تک۔ وسطی دور میں جامع ازہر کا ناظر بلند مرتبہ شخص ہوتا تھا، اور ہر رواق اور ہر کلیہ کا اپنا سربراہ (شیخ یا نقیب) تھا۔ عثمانی دور سے ازہر کا شیخ (شیخ الازہر) ادارے کا سربراہ تھا جو حکومت کے سامنے جوابدہ تھا۔ علی پاشا مبارک کا 1875ء کا بیان پرانے رواج کو دکھاتا ہے: طلبہ چٹائیوں پر ایک گول حلقے میں بیٹھتے، استاد ایک ستون کے پاس نیچی کرسی پر ہوتا، ہر ستون کا ایک مقرر شیخ ہوتا اور 1872ء تک وہ کسی ایک فقہی مذہب کی ملکیت ہوتا۔ طالب علم محدود وظیفے پر گزارا کرتا، اکثر قرآن پڑھ کر یا نسخے نقل کر کے کچھ کماتا، اور اجازت نامہ لے کر نکلتا، کیونکہ کوئی حتمی امتحان نہیں تھا۔ 1293ھ (1876ء) میں 361 مدرسین اور 10,780 طلبہ میں سے شافعیہ کے 147 مدرس اور 5,651 طلبہ، مالکیہ کے 99 اور 3,826، حنفیہ کے 76 اور 1,278، اور حنابلہ کے 3 اور 25 تھے۔ 10
1872ء سے 1955ء تک اصلاح
بونا پارٹ کی مہم اور محمد علی کی جدید کاری کی کوششوں نے ازہر کو لاتعلق یا مخالف چھوڑا، اگرچہ نئے مصر کا فعال عنصر ازہریوں ہی میں سے اٹھا، جیسے رفاعہ طہطاوی، سعد زغلول اور محمد عبدہ۔ اصلاح کے لیے خدیوی اور بعد میں شاہی اقتدار درکار تھا۔ مراحل یہ تھے: 1872ء میں کورس کے اختتام پر سند؛ 1872ء میں دار العلوم، جو نئے مدارس کے اساتذہ تیار کرتا؛ 1895ء میں ایک مشاورتی کونسل جس کے روحِ رواں محمد عبدہ تھے؛ اور کئی معاہد کا الحاق۔ قانون 20 محرم 1314ھ (یکم جولائی 1896ء) نے آزاد یونیورسٹی کی جگہ تیس کبار علماء پر مشتمل کونسل بنائی۔ 1930ء کے قانون نے کبار علماء کی عدالت کو علماء کے طرزِ عمل کے فیصلے کا اختیار دیا، کونسل کو وسیع کیا، اور تین کلیات (شریعہ، اصول الدین اور عربی زبان) میں مدت مقرر کی، اور ان غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دیا جنہیں پورا قرآن حفظ کرنا ضروری نہ تھا۔ 1936ء کا قانون 1950ء کی دہائی میں تعلیم کا دستور رہا، جس میں اصول الدین کے لیے انگریزی یا فرانسیسی لازمی تھی، اور منطق، طب، کیمیا، حیوانیات، نباتیات، تاریخ اور جغرافیہ جیسے جدید مضامین شامل تھے۔ 1945ء میں دار العلوم جامعہ قاہرہ کی ایک کلیہ بنا؛ 1952ء میں سرکاری اسکولوں کے امیدوار قبول ہوئے؛ 1954ء میں خواتین کا شعبہ کھلا، اور 1955ء میں شرعی عدالتوں کے خاتمے نے کلیۂ شریعہ کا بڑا راستہ بند کر دیا۔ 11
طلبہ، مالیات اور کتب خانہ
1953ء میں کلیات میں 1603 شریعہ، 1655 عربی اور 707 اصول الدین کے طلبہ تھے؛ معاہد میں 12,398 ابتدائی، 6,559 ثانوی اور 3,703 ملحقہ حصوں میں، اور آزاد معاہد میں 2,458۔ اسی سال غیر ملکی طلبہ کی تعداد 4,586 تھی، جن میں سب سے زیادہ سوڈان سے (2,634)، پھر شام، لبنان، اردن اور فلسطین (724)، شمالی افریقہ اور لیبیا (267)، اور مشرقی افریقہ (309) تھے۔ قانون 15 (1927ء) تک ازہر براہِ راست بادشاہ کے تحت تھا؛ اس کا بجٹ 1919ء کے 136,000 پاؤنڈ سے بڑھ کر 1954ء میں 1,617,200 پاؤنڈ ہوا، جس میں سے صرف 94,380 پاؤنڈ اوقاف سے آئے۔ طلبہ کو خوراک اور رہائش کا وظیفہ ملتا تھا، جس سے ازہر غریب خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا واحد کھلا ادارہ رہا۔ مسجد کے کتب خانے میں 20,000 سے زیادہ مخطوطات تھے، اور 1930ء میں اس کا ماہانہ رسالہ شروع ہوا۔ 12
شیوخ الازہر
جبرتی کی تاریخ میں 1100ھ (1690ء) سے شیوخ (مشیخہ) کے نام محفوظ ہیں۔ یہ منصب مذاہب کے درمیان کشمکش کا موضوع تھا، اور اس پر زمیندار طبقے کے لوگ، وہ نساخ جنہوں نے روزی کمائی، اور وہ علماء جنہوں نے شروح لکھیں، سب آئے۔ ان میں عبد الباقی الکلینی تھے جن کی تقرری جامع کے اندر ایک لڑائی کا سبب بنی؛ حسن العطار جو بونا پارٹ کے فرانسیسیوں سے ملے اور اصلاح کے حامی تھے؛ حسونہ النواوی جنہوں نے 1896ء کی اصلاح کی نگرانی کی اور 1899ء میں مستعفی ہوئے؛ سلیم البشری، آخری محدث، جو محمد عبدہ اور اصلاحات کے مخالف تھے؛ اور نہر سویز کے علاقے اور 1952ء کی بغاوت کے دوران مختصر مشیخوں کا سلسلہ، جن میں آخری عبد الرحمن تادی (مصدر کے مطابق) تھے، جنہیں جنوری 1954ء میں مقرر کیا گیا۔ 13
جائزہ
مقالہ ایک ملا جلا فیصلہ دیتا ہے۔ اصلاح نے کلیات اور غیر ملکی طلبہ کا معیار بلند کیا؛ لیکن ازہری اب بھی اپنے بیٹے سرکاری اسکولوں میں بھیجتے ہیں، سرکاری جامعات کے اساتذہ کے ساتھ برابری سے محروم ہیں، اور شرعی عدالتیں کھونے سے ان کا ایک بڑا راستہ بند ہو گیا؛ تعلیم زیادہ تر متون کو زبانی یاد کرنے تک محدود رہی، اور جدید مضامین ثانوی حیثیت میں رہے۔ اس کے حامی اس کی روایتی حلقوں میں دینی خدمت اور بیرونِ ملک اس کی ساکھ پر زور دیتے ہیں، جہاں بہت سے مسلمانوں کے لیے ازہر ہی مصر ہے؛ اس کے ناقدین، جن میں بعض مسلم اصلاح پسند بھی شامل ہیں، پوچھتے ہیں کہ کیا اس کی تعلیم بیسویں صدی کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ مقالہ 1955ء تا 1957ء کی ایک تحقیق ہے، اور جو حالات بیان کرتا ہے وہ اسی زمانے کے ہیں۔ 14
تعلقات
- Located in
- القاهرة
- Related to
- الدولة الفاطمية· يعقوب بن كلس
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
دار الحكمة بالقاهرة· خزانة السروج الفاطمية· داعي الدعاة· محاضر الديوان في القدح في أنساب العبيديين· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608
ماخذ
- تاريخ الإسلام السياسي والديني والثقافي والاجتماعي — حسن إبراهيم حسن , p.403
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.1032
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.1098
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.1194
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 862-863
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 863-864
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 864-865
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 865-866
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 866-868
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 868-869
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 869-870
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 870-871
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 871-872
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 872-874
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الجامع الأزهر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/al-azhar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.