شبلی نعمانی

شبلي النعماني

–

ہندوستانی مسلمان عالم، مورخ اور شاعر (1857–1914): علی گڑھ میں سولہ برس عربی و فارسی کے استاد، لکھنؤ میں ندوۃ العلما کی محرک شخصیت، اور اعظم گڑھ میں دار المصنفین کے بانی؛ انہیں اردو تاریخ نگاری کا باپ کہا جاتا ہے؛ «سیرت النبی» (جسے شاگرد سلیمان ندوی نے مکمل کیا)، «الفاروق» اور «شعر العجم» کے مصنف اور علم کلام جدید کے منصوبے کے حامل۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · مؤرخ · writer · شاعر
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الحميد الزهراوي · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شبلی نعمانی (3 جون 1857 – 18 نومبر 1914) برطانوی ہند کے ایک مسلمان عالم، شاعر، فلسفی، مورخ، ماہر تعلیم، مصنف، خطیب اور مصلح تھے، اور مستشرقین کے ناقد بھی۔ 1 انہیں اردو تاریخ نگاری کا باپ کہا جاتا ہے، اور TDV انسائکلوپیڈیا انہیں برصغیر کا پہلا جدید مسلمان مورخ قرار دیتی ہے جنہوں نے روایتی تاریخی نقطہ نظر کو جدید تاریخ نگاری سے جوڑا۔ 1 2 وہ علی گڑھ اور ندوہ دونوں تحریکوں سے وابستہ رہے، علی گڑھ میں سولہ برس درس دیا، لکھنؤ میں دار العلوم ندوۃ العلما کی قیادت کی، اور اعظم گڑھ میں دار المصنفین کی بنیاد رکھی۔ 1 2 ان کا اصل نام محمد تھا؛ «شبلی» لقب صوفی ابو بکر شبلی کے نام پر ملا، اور نسبت «نعمانی» امام اعظم نعمان بن ثابت، ابو حنیفہ، سے ماخوذ ہے۔ 2 1

    زندگی

    وہ اعظم گڑھ کے قریب بندول میں پیدا ہوئے — ویکی ڈیٹا اور اردو مضمون کے معلوماتی خانے کے مطابق 3 جون 1857 کو، جبکہ انگریزی مضمون اور اردو متن 4 جون بتاتے ہیں — ایک مسلم راجپوت گھرانے میں، جس کے جد شیوراج سنگھ نے نسلوں پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ 3 4 1 انہوں نے گھر پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے روایتی اسلامی تعلیم حاصل کی؛ اردو معلوماتی خانہ احمد علی سہارن پوری کو بھی ان کے اساتذہ میں شمار کرتا ہے۔ 1 4 انہوں نے نوجوانی میں حج کیا — اردو متن کے مطابق 1876 میں، TDV کے مطابق 1877 میں — اور وکالت کا امتحان پاس کر کے کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔ 4 2

    1882 میں انہوں نے علی گڑھ کی محمدن اینگلو اورینٹل کالج میں عربی پڑھانا شروع کیا اور سولہ برس فارسی و عربی کے استاد رہے؛ وہیں تھامس آرنلڈ سے ملاقات ہوئی جن سے فرنچ سیکھی، اور 1883 میں اعظم گڑھ میں ایک قومی کالج قائم کیا۔ 2 1 4 1892 میں آرنلڈ کے ساتھ شام، ترکی اور مصر کا سفر کیا؛ استنبول میں سلطان عبد الحمید ثانی نے انہیں مجیدی تمغہ دیا اور قاہرہ میں محمد عبدہ سے ملاقات ہوئی۔ 1 2 1894 میں ندوۃ العلما کے تاسیسی اجلاس میں شریک ہوئے اور اسی سال «شمس العلما» کا خطاب ملا۔ 2 سر سید کی وفات (1898) کے بعد علی گڑھ چھوڑا، حیدر آباد ریاست کے محکمہ تعلیم میں مشیر بنے — وہاں کی عثمانیہ یونیورسٹی نے ان کی پالیسی سے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا — اور 1905 میں لکھنؤ جا کر دار العلوم ندوۃ العلما کی علمی قیادت سنبھالی۔ 1 2 اصلاحات پر روایتی علما کی مخالفت کے باعث 3 مارچ 1913 کو استعفیٰ دیا؛ شاگردوں نے ان کی واپسی کے لیے تین ماہ تک درس کا بائیکاٹ کیا۔ 2

    دار المصنفین اور وفات

    1914 میں انہوں نے اعظم گڑھ میں دار المصنفین قائم کیا اور اپنا بنگلہ، آم کا باغ اور کتب اس کے لیے وقف کیے؛ ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے کام مکمل کیا اور ادارے کا پہلا باضابطہ اجلاس ان کی وفات کے تین دن بعد 21 نومبر 1914 کو ہوا۔ 2 1 ان کا انتقال اعظم گڑھ میں 18 نومبر 1914 کو ہوا۔ 1 4

    فکر اور جائزے

    یہ جائزے ذرائع کی زبانی ہیں؛ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ TDV کے مطابق وہ ہند میں علم کلام جدید کی تحریک کے نمائندے تھے: ان کے نزدیک اصلاح کی بنیاد فقہ یا سیاست نہیں کلام تھا، اور نیا کلام دلیل کے ساتھ دل و وجدان کو بھی مطمئن کرے۔ 2 ان کے فقہی مسلک کے بارے میں ذرائع اس معیار پر متفق نہیں جو یہ عجائب گھر اختیار کرتا ہے: عربی مضمون کا معلوماتی خانہ انہیں حنفی و ماتریدی لکھتا ہے، انگریزی مضمون صرف «سنی» دیتا ہے اور اس کا متن انہیں دیوبندی مکتب کا حامی کہتا ہے، جبکہ TDV کوئی مسلک نہیں بتاتی اور ویکی ڈیٹا صرف اسلام لکھتا ہے؛ اس لیے اس ریکارڈ میں ان کا عقیدہ غیر مصنف رکھا گیا ہے۔ 5 1 2 3

    تصانیف

    اہم تصانیف (TDV کی تاریخوں کے ساتھ): «المامون» (1887)، «سیرت النعمان» (1891)، «عمر الفاروق» (1899)، «الغزالی» (1902)، «سوانح مولانا روم» (1902)، «شعر العجم» (1909–1919)، «علم الکلام» اور «الکلام»، «سفر نامہ روم و مصر و شام»، اور «سیرت النبی» جس کی پہلی دو جلدیں انہوں نے لکھیں اور باقی سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ 2 1

    حوالہ جات

    • اردو ویکیپیڈیا، «شبلی نعمانی»، نظرثانی 11800886۔ 4
    • انگریزی ویکیپیڈیا، "Shibli Nomani"، نظرثانی 1380888050۔ 1
    • عربی ویکیپیڈیا، «شبلي النعماني»، نظرثانی 73831110۔ 5
    • TDV اسلام انسائکلوپیڈیا، «شبلی نعمانی» (انیس احمد و م۔ سعید اوزروارلی، جلد 39، 2010)۔ 2
    • ویکی ڈیٹا، Q773259۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Taught
    حمید الدین فراہی· سید سلیمان ندوی
    Studied under
    أحمد علي السهارنفوري

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الديوبندية· نقشبندیہ طریقہ· امین احسن اصلاحی· اشرف علی تھانوی· أحمد علي السهارنفوري· حمید الدین فراہی· سید سلیمان ندوی

    ماخذ

    1. Shibli Nomani — English Wikipedia
    2. Şiblî Nu'mânî — TDV İslâm Ansiklopedisi
    3. Shibli Nomani — Wikidata Q773259
    4. Shibli Nomani — Urdu Wikipedia
    5. Shibli Nomani — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شبلی نعمانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shibli-nomani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الديوبندية

    Draft card for the Deobandi movement, the Sunni revivalist current that grew around the Dar al-Ulum of Deoband in nineteenth-century India; the page not yet checked.