ایک نظر میں
- کردار
- writer · ethnographer · مؤرخ
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
موجز
امادو ہامپاتے با (1901 – 15 مئی 1991) مالی کے فولانی مصنف، مورخ اور ماہرِ بشریات تھے، جو باندیاگارا میں پیدا ہوئے جب یہ علاقہ فرانسیسی سوڈان کہلاتا تھا۔ 1 2
بچپن میں ان کی تربیت دو دھاروں میں ہوئی: تیرنو بوکار کے قرآن اسکول میں — جو تیجانی صوفی سلسلے کے بزرگ تھے اور با عمر بھر ان کے شاگرد رہے — اور فرانسیسی استعماری اسکول میں۔ 1 3
انہوں نے اپنی زندگی مغربی افریقہ کی زبانی روایت کو جمع کرنے، لکھنے اور اس کا دفاع کرنے میں گزاری، اور یہی پیغام یونیسکو تک لے گئے، جہاں ان کا یہ قول مشہور ہوا کہ افریقہ میں کسی بزرگ کی موت ایک کتب خانے کے جل جانے کے برابر ہے۔ 1
زندگی اور پیشہ
وہ باندیاگارا کے ایک اشرافی فولانی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ والد کی وفات کے بعد والدہ کے دوسرے شوہر تیجانی امادو علی تیام نے ان کی پرورش کی۔ 1 3
تیرنو بوکار کے قرآن اسکول کے بعد وہ باندیاگارا اور جینے کے فرانسیسی اسکولوں میں پڑھے، 1915 میں اسکول سے بھاگ کر والدہ کے پاس کاٹی جا پہنچے، اور 1921 میں گورے کے اساتذہ اسکول میں داخلے سے انکار کی سزا کے طور پر انہیں اواگادوگو میں کلرک مقرر کیا گیا۔ 1
1922 تا 1932 وہ اپر وولٹا میں اور 1932 تا 1942 باماکو میں استعماری انتظامیہ میں رہے؛ 1933 میں چھ ماہ کی چھٹی لے کر اپنے روحانی مرشد تیرنو بوکار سے ملنے گئے۔ 1
1942 میں وہ ڈاکار کے فرانسیسی ادارۂ افریقہ میں مقرر ہوئے اور پندرہ برس نسلیاتی تحقیق اور روایات جمع کرنے میں گزارے؛ اسی تحقیق سے ان کی کتاب «ماسینا کی فولانی سلطنت» (1955) بنی۔ 1 3
مالی کی آزادی (1960) پر انہوں نے باماکو میں انسانی علوم کا ادارہ قائم کیا، یونیسکو میں ملک کی نمائندگی کی، 1962 تا 1970 اس کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن رہے اور 1966 میں افریقی زبانوں کی یکساں املا بندی میں حصہ لیا۔ 1
1971 میں وہ ابیجان منتقل ہو گئے تاکہ عمر بھر کا جمع کیا ہوا زبانی روایت کا ذخیرہ مرتب کریں اور اپنی یادداشتیں لکھیں، جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔ 1
تصانیف
ان کی اہم کتابوں میں «ماسینا کی فولانی سلطنت» (1955)، اپنے استاد کی سیرت «تیرنو بوکار کی زندگی اور تعلیمات» (1957؛ انگریزی میں «روحِ رواداری»)، کہانی «کائیدارا» (1969)، ناول «وانگرین کی عجیب قسمت» (1973) — جسے انگریزی مقالے کے مطابق 1974 میں افریقہ کا بڑا ادبی انعام ملا — اور «ایک مسلم کی نظر سے یسوع» (1976) شامل ہیں۔ 1 3
عقیدہ و نسبت
یہ حصہ مآخذ میں درج ان کے عقیدے اور نسبت کو بیان کرتا ہے؛ یہ میوزیم کا فیصلہ نہیں۔
ان کی پہلی تعلیم تیرنو بوکار کے قرآن اسکول میں ہوئی، جنہیں انگریزی مقالہ تیجانی سلسلے کے بزرگ بتاتا ہے؛ 1933 میں وہ انہی «روحانی مرشد» سے ملنے گئے اور بعد میں ان کی سیرت لکھی۔ 1
ان کی سیرت کے انگریزی ناشر «ورلڈ وزڈم» نے ویکیپیڈیا سے مستقل طور پر لکھا ہے کہ «نوجوانی ہی سے مسٹر با ایک غیر معمولی مالی صوفی استاد تیرنو بوکار کے شاگرد و مرید تھے»۔ 3
انہی شہادتوں کی بنا پر میوزیم ان کی نسبت صوفی درج کرتا ہے؛ کسی ماخذ نے ان کا فقہی مسلک نہیں بتایا، اس لیے کوئی مسلک درج نہیں۔ 1 3
وفات
المراجع
- انگریزی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 1347089651)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 76542242)؛ ویکی ڈیٹا مد Q452299؛ ورلڈ وزڈم کی مصنف صفحہ۔ ان کے لیے اردو ویکیپیڈیا پر کوئی مقالہ موجود نہیں۔
ماخذ
- Amadou Hampâté Bâ — English Wikipedia
- Amadou Hampâté Bâ — Wikidata Q452299
- Amadou Hampâté Bâ — World Wisdom author page
- Amadou Hampâté Bâ — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “امادو ہامپاتے با”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amadou-hampate-ba/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.