عبد الفتاح ابو غدہ

عبد الفتاح أبو غدة

–

حلب → دمشق → القاهرة

شامی حنفی عالم، محدث اور محقق، جو 1917 میں حلب میں پیدا ہوئے اور 1997 میں ریاض میں وفات پائی۔ انہوں نے جامعہ دمشق اور سعودی جامعات میں تدریس کی، اور حدیث و فقہ حنفی کی اہم کتابوں کی ان کی تنقیدی اشاعتیں مدارس و جامعات میں معیاری نسخے بن گئیں؛ ان کی تصنیف و تحقیق کردہ کتابیں ستر سے زیادہ ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · muhaddith
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرحمن بدوي · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · آدم عبد اللہ عثمان · أحمد علي العصامي

مکان میں

حلبدمشقالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sunni-hanafi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الفتاح بن محمد بن بشیر بن حسن ابو غدہ الخالدی الحلبی شامی حنفی عالم، محدث اور محقق تھے، جو 17 رجب 1336ھ (9 مئی 1917ء) کو حلب میں پیدا ہوئے اور 16 فروری 1997ء کو ریاض میں وفات پائی۔ انہوں نے جامعہ دمشق اور سعودی جامعات میں تدریس کی۔ حدیث اور فقہ حنفی کی کلاسیکی کتابوں کی ان کی تنقیدی اشاعتیں مدارس و جامعات میں معیاری نسخے بن گئیں، اور ان کی تصنیف و تحقیق کردہ کتابیں ستر سے زیادہ ہیں۔ 1 2 3

    انگریزی مضمون انہیں اپنے پہلے ہی جملے میں «سنی حنفی مسلم عالم» کہتا ہے، اور ویکی ڈیٹا میں ان کا مذہب «اہل سنت» درج ہے؛ یوں دو مستقل ماخذ ان کے مسلک پر متفق ہیں۔ 1 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ حلب میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ان کے والد کپڑے کے تاجر اور متقی انسان تھے، اور خاندان اپنا نسب خالد بن ولید سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے حلب میں ابتدائی تعلیم پائی، پھر المدرسہ الخسرویہ (موجودہ ثانویہ شرعیہ) میں 1936 سے 1942 تک پڑھا۔ اس کے بعد مصر گئے اور جامعہ ازہر سے 1948 میں کلیۂ شریعہ اور 1950 میں کلیۂ لغت عربیہ کی سند حاصل کی۔ 2 1

    تدریس اور علمی کام

    1950 میں شام واپس آ کر وہ حلب کے علمی حلقوں میں نمایاں ہوئے اور اپنے ہی مدرسے میں پڑھایا۔ 1960 میں وہ جامعہ دمشق میں اصول فقہ، فقہ حنفی اور فقہ مقارن کے استاد بنے۔ انہوں نے 1961 کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا، اور صدر ناظم القدسی نے انہیں حلب کا مفتی مقرر کیا۔ جلاوطنی کے برسوں میں انہوں نے جامعہ ریاض کے کلیۂ شریعہ میں پڑھایا، سوڈان کے معہد ام درمان میں مہمان لیکچر دیے، اور بعد میں جامعہ جدہ میں تدریس کی۔ 1

    اخوان، قید اور جلاوطنی

    قاہرہ میں قیام (1944–1950) کے دوران ان کی ملاقات اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا سے ہوئی اور وہ جماعت میں شامل ہو گئے۔ مضمون کے مطابق وہ شامی اخوان کے مرشد عام عصام العطار کی پالیسیوں کے ناقد تھے، اور العطار کے ہٹنے کے بعد وہ مرشد عام بنے — اگرچہ مضمون خود سال کے بارے میں متضاد ہے (مقدمہ میں 1973 اور متن میں 1962)، اس لیے یہ تاریخ دوسری تصدیق کی محتاج ہے۔ انہوں نے 1966 کی بغاوت کی مخالفت کی، جس پر انہیں تدمر جیل میں گیارہ ماہ قید رکھا گیا، اور 1967 کی عام معافی میں رہا ہوئے۔ وہ سعودی عرب جلاوطن ہو گئے، 1976 سے 1983 تک شامی اخوان کے انسپکٹر جنرل رہے، پھر سیاست چھوڑ کر علم کی طرف پلٹ آئے۔ دسمبر 1995 میں وہ حکومت سے معاہدے کے تحت شام واپس گئے کہ سیاست سے دور رہیں گے۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    مضمون درج کرتا ہے کہ ان کے امام ذہبی اور ابن تیمیہ سے فکری اختلافات تھے۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے شیخ البانی کی صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث کی نئی درجہ بندی پر رد لکھا، جو اس دور کی مشہور علمی مناظرتوں میں سے ایک ہے۔ ان کے شاگرد محمود سعید ممدوح نے بھی البانی پر کئی رد لکھے۔ عجائب گھر اس علمی اختلاف کو دونوں مضامین میں درج شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور کسی فریق کا ساتھ نہیں دیتا۔ 1 4

    کتابیں اور تحقیقی اشاعتیں

    ان کی ستر سے زیادہ کتابوں میں سے مشہور تحقیقی اشاعتوں میں عبد الحی لکھنوی کی «الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل»، حارث محاسبی کی «رسالۃ المسترشدین»، شہاب الدین قرافی کی «الإحکام فی تمییز الفتاوی عن الأحکام»، ابن قیم کی «المنار المنیف فی الصحیح والضعیف» اور محمد زاہد کوثری کی «فقہ أہل العراق وحدیثہم» شامل ہیں۔ ان کی اپنی تصانیف میں «صفحات من صبر العلماء» خاص طور پر معروف ہے۔ 1

    شاگرد

    ان کے نمایاں شاگردوں میں محمد عوامہ، محمد تقی عثمانی — جنہوں نے ان کی وفات پر تعزیتی مضمون لکھا — سلمان حسینی ندوی، محمد عبد المالک اور محمد ابو الفتح البیانونی شامل ہیں۔ 1

    وفات

    شام میں انہیں دل کا دورہ اور آنکھوں کی تکلیف لاحق ہوئی۔ 1996 کے وسط میں وہ علاج کے لیے ریاض واپس گئے اور 16 فروری 1997 (9 شوال 1417ھ) کو وہیں وفات پائی۔ صدر حافظ الاسد نے ان کے خاندان سے تعزیت کی، مگر انہیں مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    حلب
    Lived in
    دمشق· القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد القادر الرهاوي· الناصر صاحب دمشق· ابن الحرستاني· شکری القوتلی· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)

    ماخذ

    1. Abd al-Fattah Abu Ghudda — English Wikipedia
    2. عبد الفتاح أبو غدة — ويكيبيديا العربية
    3. Abd al-Fattah Abu Ghudda — Wikidata Q11029119
    4. Muhammad Nasir al-Din al-Albani — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الفتاح ابو غدہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-al-fattah-abu-ghudda/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد القادر الرهاوي

    The hafiz Abu Muhammad Abd al-Qadir al-Rahawi al-Hanbali, traditionist of al-Jazira. He had been a slave of some people of Mosul, who freed him, and he came to love the discipline of hadith and heard a great deal. He was born in Jumada al-Akhira 536 in al-Ruha; he was then taken captive when Zengi conquered al-Ruha in 539, and the Harrani Banu Fahm bought him and set him free. He heard hadith in Isfahan, Hamadhan, Herat, Merv, Nishapur, Sijistan, Baghdad, Damascus and Egypt. He wrote and compiled, and his works include al-Arba'un al-mutabayina al-asanid wa-l-bilad, a feat that no one had achieved before him and that no traditionist can be expected to match after him, given the ruin of the lands. Abu Shama said he was a righteous man, awe-inspiring, ascetic, austere in his living, scrupulous and devout; Ibn Khalil said he was a retentive, firm hafiz, prolific in writing, with whom the transmission of hadith was closed. He died on Saturday, 2 Jumada al-Ula 612, at Harran.