دوست محمد خان

دوست محمد خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

هراة

بارکزئی خاندان کے بانی اور افغانستان کے امیر (1826ء–1839ء، پھر 1843ء–1863ء)۔ انہوں نے کابل، قندھار اور ہرات کو ایک ریاست میں متحد کیا، پہلی اینگلو افغان جنگ میں معزول ہو کر ہندوستان جلاوطن ہوئے، 1843ء میں تخت واپس پایا اور 1863ء میں ہرات میں وفات تک حکمران رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: آزردہ · محمد بن أحمد أكنسوس · ملا مشک عالم · عمر ابن سعید · صفاء الدين عيسى البندنيجي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    دوست محمد خان بارکزئی (23 دسمبر 1792ء – 9 جون 1863ء) بارکزئی خاندان کے بانی اور افغانستان کے امیر تھے، 1826ء سے 1839ء تک اور پھر 1843ء سے وفات تک۔ انگریزی مضمون کے متن میں ان کی پیدائش کا سال 1792ء ہے؛ عربی مضمون اور قدیم انگریزی روایت 1793ء دیتی ہے، اور اختلاف ڈیٹا فائل میں درج ہے۔ 1 2

    اپنے عہد کے اختتام تک انہوں نے کابل، قندھار اور ہرات کی جدا ریاستوں کو ایک افغان ریاست میں متحد کر دیا تھا، جس کارنامے کو مضمون احمد شاہ درانی کے کام سے تشبیہ دیتا ہے۔ 1

    عروج اور پہلا دور

    وہ بارکزئی پشتونوں کے سردار پائندہ خان کے گیارہویں بیٹے تھے، جنہیں درانی بادشاہ زمان شاہ نے قتل کیا تھا۔ درانی خاندان کے زوال کے بعد 1826ء میں وہ کابل میں قائم ہوئے، پہلے سردارِ کابل کی حیثیت سے؛ 1834ء میں معزول درانی بادشاہ شاہ شجاع کی واپسی کی کوشش ناکام بنا کر انہوں نے امیر کا لقب، امیر المومنین کے خطاب کے ساتھ، اختیار کیا۔ مارچ 1823ء میں نوشہرہ کی جنگ میں افغان پہلے ہی وادیِ پشاور رنجیت سنگھ کی سکھ فوج سے ہار چکے تھے۔ 1

    برطانوی ہند، ایران اور روس کے درمیان توازن کی ان کی کوشش پہلی اینگلو افغان جنگ پر ختم ہوئی: انگریزوں نے 1839ء میں انہیں معزول کر کے شاہ شجاع کو بحال کیا، اور 1840ء میں انہوں نے خود کو حوالے کر دیا اور مسوری اور پھر کلکتہ میں جلاوطن رہے۔ 1 2

    بحالی اور اتحاد

    1841ء–1842ء کی افغان بغاوت، جس کی قیادت کابل میں ان کے بیٹے وزیر اکبر خان نے کی، نے برطانوی پوزیشن تباہ کر دی، اور دوست محمد رہا ہو کر اپریل 1843ء میں تخت پر واپس آئے۔ 1855ء میں انہوں نے انگریزوں سے عملی مفاہمت کی، قندھار واپس لیا، اور مئی 1863ء میں آخری بڑی ریاست ہرات فتح کی۔ 1 3

    ہرات فتح کرنے کے چند دن بعد 9 جون 1863ء کو وہیں وفات پا گئے اور خواجہ عبد اللہ کے مزار، گزر گاہ، میں دفن ہوئے۔ ان کے بعد بیٹے شیر علی خان جانشین ہوئے۔ 1

    مذہبی ریکارڈ

    کوئی متن ان کے مسلک کا نام نہیں لیتا۔ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ مذہب «سنی اسلام» دیتا ہے اور عربی مضمون کا خانہ «اہل السنہ والجماعہ»؛ دونوں ایک ہی شہادتی خاندان کی ساختہ قیمتیں ہیں، اور اردو مضمون کوئی مذہب نہیں دیتا۔ لہٰذا عجائب گھر کے دو ماخذوں کے اصول کے مطابق ریکارڈ «نامعلوم» رہتا ہے اور ساختہ شہادتیں ڈیٹا فائل میں محفوظ ہیں۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    شیر علی خان· وزیر اکبر خان
    Died in
    هراة
    Buried in
    هراة
    Sibling of
    کهندل خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    کهندل خان· هراة· احمد شاہ مسعود· محمد ایوب خان· محمد یعقوب خان· كابل· شیر علی خان· وزیر اکبر خان

    ماخذ

    1. Dost Mohammad Khan — English Wikipedia
    2. Dost Mohammad Khan — Arabic Wikipedia
    3. Dost Mohammad Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “دوست محمد خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/dost-mohammad-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    کهندل خان

    قندھار کے بارکزئی سردار (1830–1839ء اور 1842–1855ء)، «دل برادران» میں سے ایک جنہوں نے قندھار کی امارت پر مشترکہ حکومت کی، اور کابل کے امیر دوست محمد خان کے سوتیلے بھائی۔ پہلی اینگلو افغان جنگ میں ایران جلاوطن ہوئے، پھر واپس آ کر قندھار دوبارہ حاصل کیا؛ 1855ء میں ہرات میں ان کی وفات سے جانشینی کا تنازع کھڑا ہوا جس سے دوست محمد کی قندھار فتح کی راہ ہموار ہوئی۔