احمد شاہ مسعود

أحمد شاه مسعود

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

هراة → كابل

افغان عسکری قائد اور سیاست دان، سوویت قبضے (1979ء–1989ء) کے خلاف وادی پنجشیر کے ممتاز ترین مجاہد کمانڈر، جو شیر پنجشیر کے لقب سے معروف ہوئے۔ 1992ء سے اسلامی دولت افغانستان کے وزیر دفاع، انھوں نے 1996ء سے 9 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کے خودکش بمباروں کے ہاتھوں اپنے قتل تک طالبان کے خلاف متحدہ اسلامی محاذ (شمالی اتحاد) کی قیادت کی۔ وفات کے بعد انھیں افغانستان کا قومی ہیرو قرار دیا گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · سپہ سالار
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد الرحمن بدوي · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد شاہ مسعود (قریباً 1953ء – 9 ستمبر 2001ء) افغان عسکری قائد اور سیاست دان تھے، افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف وادی پنجشیر کے ممتاز ترین مجاہد کمانڈر، جو شیر پنجشیر کے لقب سے معروف ہوئے۔ وہ 1992ء سے اسلامی دولت افغانستان کے وزیر دفاع رہے، 1996ء سے طالبان کے خلاف متحدہ اسلامی محاذ — شمالی اتحاد — کی قیادت کی، اور 11 ستمبر کے حملوں سے دو روز قبل القاعدہ کے خودکش بمباروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ وفات کے بعد انھیں افغانستان کا قومی ہیرو قرار دیا گیا۔ ذرائع ان کی تاریخ پیدائش پر متفق نہیں: انگریزی مضمون صرف قریباً 1953ء دیتا ہے، اردو مضمون 2 ستمبر 1953ء، اور عربی مضمون اپنے آغاز اور معلوماتی خانے میں 2 جنوری 1953ء جبکہ اپنے متن میں 1953ء یا 1954ء دیتا ہے؛ یہ اختلاف ڈیٹا فائل میں درج ہے۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    مسعود بازارک کے گاؤں جنگلک، وادی پنجشیر میں ایک تاجک خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد دوست محمد خان شاہی افغان فوج میں کرنل تھے — یہ انیسویں صدی کے اسی نام کے امیر نہیں۔ والد کی تعیناتیوں کے ساتھ انھوں نے ہرات میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر کابل کے فرانسیسی افغان لیسہ استقلال میں داخل ہوئے جہاں انھیں فرانسیسی پر عبور حاصل ہوا۔ انھوں نے کابل کے پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں انجینئرنگ کی تعلیم شروع کی، اور وہیں وہ برہان الدین ربانی کی جمعیت اسلامی کی طلبہ تنظیم مسلم یوتھ سے وابستہ ہوئے۔ 1

    مزاحمت

    جولائی 1975ء میں مسعود نے صدر داؤد خان کی حکومت کے خلاف پنجشیر کی پہلی بغاوت کی قیادت کی؛ بغاوت ناکام ہوئی اور وہ پاکستان چلے گئے۔ 1978ء کے کمیونسٹ انقلاب اور 1979ء کے سوویت حملے کے بعد انھوں نے پنجشیر مزاحمت کو سوویت افغان جنگ کی مؤثر ترین مجاہد محاذوں میں سے ایک بنا دیا، اور 1980ء کی دہائی میں وادی پر سوویتوں کے پے در پے حملے ناکام بنائے۔ 1 3

    وزارت دفاع اور خانہ جنگی

    1992ء کے پشاور معاہدے کے تحت مسعود اسلامی دولت افغانستان کے وزیر دفاع اور اس کے مرکزی عسکری کمانڈر بنے، جبکہ حریف جنگجو سرداروں نے کابل پر حملے کیے اور دوسری خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ ان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سب سے بڑی تنقید، جیسا کہ انگریزی مضمون پیش کرتا ہے، فروری 1993ء کی افشار کارروائی ہے: افغانستان جسٹس پروجیکٹ کی ایک رپورٹ انھیں اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے کہ وہ اپنی افواج اور فصیلی اتحادی کی افواج کی جانب سے شہریوں کے خلاف مظالم روکنے میں ناکام رہے، اور یہ بھی درج ہے کہ اگلے دن ان کی بلائی ہوئی مجلس نے انھیں روکنے کا حکم دیا؛ جبکہ رائے گٹمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شاہدین کی رپورٹیں صرف اتحادی اتحاد افواج کو ملوث کرتی تھیں جو مسعود کی براہ راست کمان میں نہیں تھیں۔ 1

    شمالی اتحاد اور قتل

    1996ء میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مسعود — جو اسلام کی ان کی تعبیر کو مسترد کرتے تھے — دوبارہ مسلح مزاحمت کی طرف لوٹے اور شمالی اتحاد کے عسکری رہنما بنے، جس کے پاس 2000ء تک ملک کا صرف چھوٹا سا حصہ رہ گیا تھا۔ 9 ستمبر 2001ء کو خواجہ بہاؤالدین، صوبہ تخار میں صحافیوں کا روپ دھارے القاعدہ کے دو قاتلوں نے انٹرویو کے دوران کیمرے میں چھپا بم پھوڑ کر انھیں قتل کر دیا۔ وہ بازارک میں دفن ہوئے۔ طالبان کے زوال کے بعد صدر حامد کرزئی نے انھیں افغانستان کا قومی ہیرو قرار دیا۔ 1 2

    مذہبی ریکارڈ

    اردو مضمون کا متن کہتا ہے کہ مسعود نسلاً تاجک اور مسلکاً سنی تھے۔ انگریزی مضمون کا متن صرف یہ کہتا ہے کہ ان کا تعلق تاجک سنی مسلم پس منظر سے تھا — یہ خاندانی پس منظر کی تعبیر ہے — اور عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب اسلام سنی ایک ساختی قدر کے طور پر درج ہے، جبکہ اردو معلوماتی خانے میں عمومی اسلام درج ہے۔ عجائب گھر کے اس اصول کے تحت کہ مسلک اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد متن اس کا نام لیں، ایک اہل متن کافی نہیں، لہٰذا ان کا مذہب نامعلوم درج ہے اور شہادتیں ڈیٹا فائل میں محفوظ ہیں تاکہ مؤسس فیصلہ کر سکے۔ 1 2 3

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    هراة· كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· اشرف غنی· برہان الدین ربانی· دوست محمد خان

    ماخذ

    1. Ahmad Shah Massoud — English Wikipedia
    2. Ahmad Shah Massoud — Arabic Wikipedia
    3. Ahmad Shah Massoud — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد شاہ مسعود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-shah-massoud/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون

    The Mahdi's and Rashid's agents took Sijistan's atawa from Rutbil as strength allowed, posting their own men over the marches Islam had lost. Under al-Ma'mun at Khurasan the atawa came doubled, Kabul was opened, its king showed Islam and obedience, the governor's agent entered, the post-road was joined, and fresh myrobalan was sent him from it — and the land held steady for a time.