محمد یعقوب خان

محمد يعقوب خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كابل

افغانستان کے امیر 1879ء کے چند مہینوں کے لیے (21 فروری – 12 اکتوبر)، امیر شیر علی خان کے بیٹے اور دوست محمد خان کے پوتے۔ کم عمری میں ہرات کے گورنر مقرر ہوئے، والد کے خلاف بغاوت کی اور قید ہوئے؛ دوسری اینگلو افغان جنگ کے دوران والد کے جانشین بنے اور گندمک کا معاہدہ کیا جس سے افغانستان کے خارجہ تعلقات کا اختیار برطانیہ کو مل گیا؛ برطانوی ایلچی کاواگنری کے قتل کے بعد دستبردار ہوئے، ہندوستان جلاوطن کیے گئے اور 1923ء میں وفات تک وہیں رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: علی حاجی اکوشا · دلی فواد پاشا · سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے) · حسن رامی پاشا · جماعت علی شاہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد یعقوب خان بارکزئی 21 فروری سے 12 اکتوبر 1879ء تک افغانستان کے امیر رہے۔ وہ سابق حکمران شیر علی خان کے بیٹے اور بارکزئی خاندان کے بانی دوست محمد خان کے پوتے تھے۔ اپنی مختصر امارت میں انہوں نے برطانیہ کے ساتھ گندمک کا معاہدہ کیا، پھر دستبردار ہو کر ہندوستان جلاوطن کیے گئے، جہاں 1923ء میں وفات تک رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    یعقوب خان 1849ء میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کی جائے پیدائش غزنی کا قلعہ بتائی گئی ہے، جبکہ اردو مضمون کابل بتاتا ہے؛ دونوں بیانات متضاد ہیں اور یہاں کسی کو ترجیح نہیں دی گئی۔ ان کی والدہ قمر جان، سعادت خان مہمند کی بیٹی تھیں۔ 1863ء میں وہ صوبہ ہرات کے گورنر مقرر ہوئے، حالانکہ ابھی نوجوان تھے۔ 1 2

    بغاوت اور قید

    1870ء میں یعقوب خان نے اپنے والد شیر علی خان کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کیا۔ کوشش ناکام ہوئی اور 1874ء میں انہیں قید کر دیا گیا، اور وہ جنگ تک قید رہے۔ 1

    امارت اور گندمک کا معاہدہ

    دوسری اینگلو افغان جنگ 1878ء میں شروع ہوئی۔ شیر علی خان دارالحکومت سے فرار ہو گئے اور فروری 1879ء میں ملک کے شمال میں انتقال کر گئے، اور 21 فروری 1879ء کو یعقوب خان ان کے جانشین امیر بنے۔ مئی 1879ء میں وہ جلال آباد کے قریب واقع گاؤں گندمک گئے اور برطانوی ایلچی کاواگنری سے مذاکرات کیے؛ اس کے نتیجے میں گندمک کا معاہدہ ہوا جس کے تحت انہوں نے کچھ علاقے انگریزوں کو دیے، افغانستان کے خارجہ امور کا واحد اختیار برطانوی سلطنت کے حوالے کیا اور کابل میں برطانوی ایلچی کی رہائش قبول کی۔ 1 2

    دستبرداری، جلاوطنی اور وفات

    کاواگنری جولائی 1879ء میں کابل میں برطانوی ریذیڈنٹ بنے۔ ستمبر میں افغان فوجی جنہیں امیر نے تنخواہ نہیں دی تھی، بغاوت کر کے ریذیڈنسی پر حملہ آور ہوئے اور کاواگنری اور ان کے عملے کو قتل کر دیا۔ جنگ دوبارہ شروع ہوئی؛ برطانوی افواج واپس آئیں اور کابل پر قابض ہو گئیں۔ یعقوب خان نے 12 اکتوبر 1879ء کو دستبرداری اختیار کی، برطانوی کیمپ میں پناہ لی اور دسمبر میں ہندوستان بھیجے گئے۔ 1

    وہ بقیہ عمر ہندوستان میں جلاوطن رہے اور 15 نومبر 1923ء کو انتقال کر گئے۔ انگریزی مضمون ان کی وفات کی جگہ شملہ اور اردو مضمون دہلی بتاتا ہے؛ تدفین کابل میں ہونے کا ذکر صرف اردو مضمون میں ہے۔ 1 2

    ان سے منسوب ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے ایک برطانوی وائسرائے سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے حکمران ہونے کے بجائے ان کے خادم کی حیثیت سے گھاس کاٹنے اور باغ کی دیکھ بھال کو ترجیح دیں گے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Buried in
    كابل
    Child of
    شیر علی خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد ایوب خان· شیر علی خان· كابل· فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ

    ماخذ

    1. Mohammad Yaqub Khan — English Wikipedia
    2. Mohammad Yaqub Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد یعقوب خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-yaqub-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد ایوب خان

    بارکزئی شہزادے، مختصر عرصے کے لیے افغانستان کے امیر (12 اکتوبر 1879ء – 31 مئی 1880ء)، جو دوسری اینگلو افغان جنگ میں 27 جولائی 1880ء کو میوند کی جنگ میں برطانوی ہندی فوج کو شکست دینے پر «فاتحِ میوند» کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی سال ستمبر میں قندھار پر شکست کے بعد وہ برطانوی پنشنر کی حیثیت سے لاہور میں رہے اور 1914ء میں وہیں وفات پائی۔