کهندل خان

کهندل خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

هراة

قندھار کے بارکزئی سردار (1830–1839ء اور 1842–1855ء)، «دل برادران» میں سے ایک جنہوں نے قندھار کی امارت پر مشترکہ حکومت کی، اور کابل کے امیر دوست محمد خان کے سوتیلے بھائی۔ پہلی اینگلو افغان جنگ میں ایران جلاوطن ہوئے، پھر واپس آ کر قندھار دوبارہ حاصل کیا؛ 1855ء میں ہرات میں ان کی وفات سے جانشینی کا تنازع کھڑا ہوا جس سے دوست محمد کی قندھار فتح کی راہ ہموار ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: احمد اللہ شاہ · البيجوري إبراهيم بن محمد · آزردہ · بہادر شاہ ظفر · بلالی محمد

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    قندھار کے سردار

    کہندل خان قندھار کے بارکزئی سردار تھے، بارکزئی سردار پائندہ خان کے بیٹے — ان کی والدہ ہوتک قبیلے سے تھیں — اور کابل کے امیر دوست محمد خان کے سوتیلے بھائی۔1 وہ 1792ء میں قندھار میں پیدا ہوئے — مضمون میں 1792ء درج ہے اگرچہ 1793ء بھی رائج ہے — اور دو بار قندھار کے حکمران رہے: 1830ء سے 1839ء تک، پھر 1842ء سے 1855ء تک۔1 پشتو مضمون انہیں 1818ء سے 1855ء تک قندھار کی حکومت کا سربراہ بتاتا ہے، جو اس پورے عرصے کو شامل کرتا ہے جس میں انہوں نے اپنے سگے بھائیوں کے ساتھ مل کر شہر پر حکومت کی۔2

    دل برادران کی امارت

    محمود شاہ درانی کے زوال کے بعد کہندل اور ان کے سگے بھائیوں — پور دل خان، رحیم دل خان، مہر دل خان اور سید محمد خان — نے قندھار پر قبضہ کر کے اسے آزاد امارت بنا دیا، جبکہ ان کے سوتیلے بھائی کابل، ہرات اور پشاور پر قابض تھے۔1 «دل برادران» کے نام سے مشہور ان بھائیوں نے شہر کا انتظام آپس میں بانٹ لیا؛ کہندل، جو ان میں سب سے نمایاں سمجھے جاتے تھے، نے عدلیہ اور بازار کا محصول سنبھالا اور انہیں ہرات، کابل اور فارس کے دربار میں سفارتی مشنوں پر بھیجا گیا۔1 امارت نے برطانوی ہند سے تجارت کی، اپنے سکے ڈھالے اور ہرات سے طویل رقابت لڑی — فراہ شہر گنوایا، پھر 1837ء میں واپس لے لیا۔1

    جلاوطنی اور واپسی

    1839ء میں جب انگریزوں نے حملہ کر کے شاہ شجاع کو تخت پر بٹھایا تو پہلے بھائیوں کی حکومت کو تسلیم کیا گیا، مگر 1840ء میں کابل کے طلبی فرمان سے انکار کے بعد وہ فرار ہو کر فارس چلے گئے جہاں محمد شاہ قاجار نے ان کا استقبال کیا۔1 انگریزوں کے انخلا اور دوست محمد کی بحالی کے بعد وہ 1842ء میں قندھار واپس آئے اور امارت بڑھتی ہوئی کابل امارت کے پہلو بہ پہلو بارکزئی علاقے کی حیثیت سے قائم رہی۔1

    وفات اور جانشینی

    کہندل خان 21 اگست 1855ء کو ہرات میں وفات پا گئے اور وہیں کی جامع مسجد میں دفن ہوئے۔1 ان کی وفات سے دل برادران کے درمیان ہی جانشینی کا تنازع کھڑا ہو گیا؛ دوست محمد خان نے مداخلت کر کے قندھار فتح کر لیا، یوں بھائیوں کی سینتیس سالہ آزاد حکومت ختم ہوئی اور شہر کابل سے مل گیا۔1

    شناخت اور مذہب

    مشاورت کیے گئے کسی ماخذ میں کہندل خان کے لیے اپنے دور کے عام اسلام سے آگے کوئی فقہی مسلک یا مذہبی وابستگی درج نہیں، بلکہ انگریزی مضمون میں مذہب کا خانہ ہی موجود نہیں۔ اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج کیا گیا ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Sibling of
    دوست محمد خان
    Died in
    هراة
    Buried in
    هراة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    دوست محمد خان· هراة· احمد شاہ مسعود· شیر علی خان· وزیر اکبر خان

    ماخذ

    1. Kohan Dil Khan — English Wikipedia
    2. Kohandil Khan — Pashto Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “کهندل خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/kohandil-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    دوست محمد خان

    بارکزئی خاندان کے بانی اور افغانستان کے امیر (1826ء–1839ء، پھر 1843ء–1863ء)۔ انہوں نے کابل، قندھار اور ہرات کو ایک ریاست میں متحد کیا، پہلی اینگلو افغان جنگ میں معزول ہو کر ہندوستان جلاوطن ہوئے، 1843ء میں تخت واپس پایا اور 1863ء میں ہرات میں وفات تک حکمران رہے۔