وزیر اکبر خان

وزير أكبر خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

بارکزئی شہزادے اور جنرل، امیر دوست محمد خان کے بیٹے؛ دسمبر 1842ء سے اپریل 1843ء تک کابل کے امیر اور وفات تک والد کے وزیر اور ولی عہد۔ 1837ء میں جمرود کی جنگ سے شہرت پائی اور پہلی اینگلو افغان جنگ میں کابل کی قومی جماعت کی قیادت کی، جس کی افواج نے جنوری 1842ء میں پسپا ہوتی برطانوی ہندی فوج کو تباہ کر دیا۔ 1847ء میں جلال آباد میں ہیضے سے وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1780عیسوی1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الغفار الأخرس · عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · عبد القادر دان طافا · أحمد الأكنصوسي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد اکبر خان بارکزئی (1816ء – 10 دسمبر 1847ء)، جو وزیر اکبر خان کے نام سے مشہور ہیں، بارکزئی شہزادے اور جنرل تھے، امیر دوست محمد خان کے بیٹے۔ وہ دسمبر 1842ء سے اپریل 1843ء تک کابل کے امیر رہے اور وفات تک والد کے وزیر اور ولی عہد رہے۔ ان کی پیدائش کا سال متنازع ہے: انگریزی مضمون کا متن اور عربی و اردو مضمون 1816ء دیتے ہیں، اس کا معلوماتی خانہ 1817ء، اور وفات کا سال بھی اسی طرح مختلف ہے (انگریزی مضمون میں 1847ء، عربی و اردو معلوماتی خانوں میں 1845ء)؛ دونوں اختلاف ڈیٹا فائل میں درج ہیں۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی اور جمرود

    وہ مزار شریف میں دوست محمد خان اور میرمن خدیجہ پوپلزئی کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی شہرت 1837ء میں جمرود کی جنگ سے شروع ہوئی، جہاں افغان افواج سکھ سلطنت سے قلعہ واپس نہ لے سکیں لیکن سکھ سردار ہری سنگھ نالوا مارا گیا؛ اردو مضمون اس لڑائی کو دونوں کے درمیان انفرادی مقابلے کے طور پر یاد کرتا ہے۔ 1 3

    پہلی اینگلو افغان جنگ

    1839ء–1842ء کی جنگ میں انہوں نے کابل میں اس برطانوی قبضے کے خلاف قومی جماعت کی قیادت کی جس نے ان کے والد کو معزول کیا تھا۔ الفنسٹن کی برطانوی ہندی فوج کو جنوری 1842ء میں کابل سے پسپائی کی اجازت ملی اور وہ درّوں میں تباہ ہو گئی؛ اسسٹنٹ سرجن ولیم برائیڈن، جو 13 جنوری 1842ء کو جلال آباد پہنچنے والے مشہور واحد زندہ بچ جانے والے تھے، اس تباہی کی دائمی تصویر بن گئے۔ اکبر خان نے مئی 1842ء میں بالا حصار پر قبضہ کیا اور والد کی بحالی تک کابل سنبھالے رکھا۔ 1 2

    امارت اور وفات

    وہ دسمبر 1842ء سے دوست محمد کی واپسی، اپریل 1843ء، تک امیر رہے، اور اس کے بعد وزیر اور ولی عہد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 10 دسمبر 1847ء کو جلال آباد میں ہیضے سے وفات پائی اور مزار شریف میں نیلی مسجد، حضرت علی کے مزار، میں دفن ہوئے۔ کابل کا سفارتی علاقہ، وزیر اکبر خان، آج بھی ان کے نام پر ہے۔ 1 2

    مذہبی ریکارڈ

    کوئی متن ان کے مسلک کا نام نہیں لیتا۔ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ مذہب «سنی اسلام» دیتا ہے؛ عربی مضمون کا خانہ اسلام عام طور پر دیتا ہے اور اردو مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں۔ لہٰذا عجائب گھر کے دو ماخذوں کے اصول کے مطابق ریکارڈ «نامعلوم» رہتا ہے اور واحد ساختہ شہادت ڈیٹا فائل میں محفوظ ہے۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    دوست محمد خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    کهندل خان· شیر علی خان· هراة· دوست محمد خان

    ماخذ

    1. Wazir Akbar Khan — English Wikipedia
    2. Wazir Akbar Khan — Arabic Wikipedia
    3. Wazir Akbar Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “وزیر اکبر خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/wazir-akbar-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    کهندل خان

    قندھار کے بارکزئی سردار (1830–1839ء اور 1842–1855ء)، «دل برادران» میں سے ایک جنہوں نے قندھار کی امارت پر مشترکہ حکومت کی، اور کابل کے امیر دوست محمد خان کے سوتیلے بھائی۔ پہلی اینگلو افغان جنگ میں ایران جلاوطن ہوئے، پھر واپس آ کر قندھار دوبارہ حاصل کیا؛ 1855ء میں ہرات میں ان کی وفات سے جانشینی کا تنازع کھڑا ہوا جس سے دوست محمد کی قندھار فتح کی راہ ہموار ہوئی۔