عبدالرحمن واحد

عبد الرحمن وحيد

–

جاكرتا

انڈونیشی مسلمان عالم اور سیاست دان، جو 1940ء میں مشرقی جاوا کے جومبانگ میں پیدا ہوئے؛ وحید ہاشم کے بیٹے اور نهضة العلماء کے بانی ہاشم اشعری کے پوتے تھے۔ 1984ء سے 1999ء تک نهضة العلماء کے صدر رہے، نیشنل اویکننگ پارٹی قائم کی، اور 1999ء سے 2001ء تک انڈونیشیا کے چوتھے صدر رہے — سوہارتو کے زوال کے بعد پہلے منتخب صدر۔ وہ تکثیریت اور اقلیتوں کے حقوق کے دفاع، اور جاوا کے اولیا کے مزارات کی زیارت پر مرکوز اپنی ذاتی صوفیانہ عبادتی زندگی کے لیے مشہور تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · سیاست دان
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الرحمن وحید (1940ء–2009ء)، جو پورے انڈونیشیا میں «گس در» کے نام سے مشہور تھے، ایک مسلمان عالم اور سیاست دان تھے جنہوں نے 1984ء سے 1999ء تک ملک کی سب سے بڑی مسلم تنظیم نهضة العلماء کی صدارت کی، اور پھر 1999ء سے 2001ء تک انڈونیشیا کے چوتھے صدر رہے۔ وہ انڈونیشیا کے پہلے وزیرِ مذہبی امور وحید ہاشم کے بڑے بیٹے اور 1926ء میں نهضة العلماء کے بانی ہاشم اشعری کے پوتے تھے۔ ان کی صدارت نے انہیں سوہارتو کے بعد کے دور کا پہلا منتخب سربراہِ مملکت بنایا؛ ان کی عوامی میراث تکثیریت، اقلیتوں کے حقوق اور مقامی ثقافت میں جڑی ہوئی بردبار اسلام کی حمایت ہے۔ 1 2

    ولادت اور خاندان

    وہ عبد الرحمن الدخیل کے نام سے 7 ستمبر 1940ء کو مشرقی جاوا کے جومبانگ کے قصبے دینیار میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون کے مطابق وہ 1940ء میں اسلامی تقویم کے آٹھویں مہینے شعبان کے چوتھے دن پیدا ہوئے — یعنی 4 شعبان 1359ھ، جو جدولی تقویم کے مطابق 7 ستمبر 1940ء ہی بنتا ہے۔ چونکہ «آٹھویں مہینے کے چوتھے دن» کو کسی وقت عیسوی تقویم پر منتقل کر دیا گیا، اس لیے ان کی ولادت کی ایک متبادل تاریخ 4 اگست 1940ء بھی گردش میں ہے اور وکی ڈیٹا دونوں تاریخیں رکھتا ہے؛ تاہم ستمبر والی تاریخ ہی مضامین اور بیشتر مصادر کی ہے۔ 3 2

    ان کی والدہ ستی صالحہ جومبانگ کے عالم بصری شمسوری کی بیٹی تھیں۔ خاندان مشرقی جاوا کی دینی مدارس (پیسانترین) کی دنیا کے مرکز میں تھا، اور ان کا بچپن والد کے وزارتی منصب کی وجہ سے جومبانگ اور جکارتہ کے درمیان گزرا۔ 3

    تعلیم اور تدریس

    انہوں نے پیسانترین میں تعلیم پائی، جن میں جومبانگ کا تامباکبراس بھی شامل ہے، اور 1964ء میں قاہرہ گئے جہاں انہوں نے الازہر میں لیکچر سنے مگر کوئی ڈگری مکمل نہ کی؛ پھر عراق منتقل ہوئے اور 1970ء میں بغداد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ جاوا واپس آکر انہوں نے پیسانترین تامباکبراس میں پڑھایا — 1974ء سے فقہ و اسلامی قانون، اور 1975ء سے ابن عطا اللہ کی «کتاب الحکم»، جو تصوف کی کلاسیکی کتاب ہے — اور ہاشم اشعری یونیورسٹی میں عقیدہ و شریعت کی فیکلٹی کے ڈین بنے۔ ستر کی دہائی میں وہ رسالوں ٹیمپو اور کومپاس کے لیے بھی لکھتے رہے اور معروف سماجی مبصر بن گئے۔ 3

    نهضة العلماء کی قیادت

    1984ء میں وہ نهضة العلماء کے صدر منتخب ہوئے اور پے در پے کانگریسوں میں دوبارہ منتخب ہو کر 1999ء تک اس منصب پر رہے۔ صدارت کے دوران انہوں نے پیسانترین کی تعلیم کی اصلاح کی کوشش کی اور دلیل دی کہ انڈونیشیا میں اسلام کو درآمد شدہ صورتوں کے بجائے مقامی ثقافت کے ذریعے ظاہر ہونا چاہیے — ایسے مؤقف جنہوں نے انہیں حرفی ذہن رکھنے والے حلقوں سے اور کبھی کبھار سوہارتو حکومت سے بھی تناؤ میں ڈال دیا۔ 1998ء میں سوہارتو کے زوال کے بعد انہوں نے نیشنل اویکننگ پارٹی (PKB) قائم کی۔ 3 4

    صدارت

    20 اکتوبر 1999ء کو عوامی مشاورتی اسمبلی نے انہیں میگاوتی سوکارنوپوتری سے آگے صدر منتخب کیا، حالانکہ میگاوتی کی پارٹی نے پارلیمانی ووٹوں کا سب سے بڑا حصہ جیتا تھا۔ ان کی صدارت نے اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا — انہوں نے چینی ثقافتی اظہار پر پابندی ختم کی اور چینی نئے سال کو اختیاری تعطیل قرار دیا — اور فوج و بیوروکریسی کی تیز اصلاح کی کوشش کی، مگر اس کی پہچان پارلیمان سے تصادم اور متنازع مداخلتیں بھی رہیں۔ 23 جولائی 2001ء کو اسمبلی نے انہیں منصب سے ہٹا دیا اور میگاوتی ان کی جانشین بنیں۔ 3

    دینی زندگی

    ان کی ذاتی عبادتی زندگی اسی جاوی صوفی روایت کی تھی جس میں وہ پروان چڑھے۔ انہوں نے ساری زندگی، اور صدر ہوتے ہوئے بھی، اولیا اور بزرگوں کے مزارات کی زیارت کی اور وہاں روحانی رہنمائی تلاش کی؛ جکارتہ پوسٹ نے اپریل 2001ء میں اس عمل کو ان کی «معمول کی رسم» قرار دیا اور بتایا کہ وہ سرکاری دوروں کے کنارے پر قدیم قبروں کو تلاش کرتے تھے، اور ان کی بیٹی یینی کو مشرقی جاوا کے ایک مشہور عالم کی قبر پر ان کا رونا یاد تھا۔ 5

    مؤرخ تھیوڈور فرینڈ نے ان کی وفات کے چند دن بعد لکھی گئی ایک تعزیتی تحریر میں انہیں منصب سے باہر «صوفی حکیم و عارف» قرار دیا اور لکھا کہ ان کی زندگی و کارنامے جدید تصوف کو سمجھنے کے خواہش مند کے لیے وافر اشارے رکھتے ہیں۔ عجائب گھر ان کے دین کو اسی موثق عمل اور اسی توصیف کی بنیاد پر درج کرتا ہے؛ نهضة العلماء کی صدارت، جو ایک منصب ہے، اس درجے کی بنیاد نہیں۔ 6

    وفات

    وہ 30 دسمبر 2009ء کو جکارتہ کے چپتو منگونکوسومو اسپتال میں علاج کے دوران وفات پا گئے، اور جومبانگ کے تیبویرینگ میں خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے، جو بعد میں زیارت کا بڑا مرکز بن گیا۔ 1 2

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے، اور اس میں وہ ماخذ نامزد ہو جس نے ہر حقیقت کو بدلا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    جاكرتا
    Child of
    عبد الواحد ہاشم

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية· عبد الکریم امر اللہ· آغوس سالم· أحمد محمد الطيب· بی جے حبیبی· خیرول تانجونگ· ڈیڈی کوربوزیئر· ایکا تجپتا ودجاجا

    ماخذ

    1. Abdurrahman Wahid — Urdu Wikipedia
    2. Abdurrahman Wahid — Wikidata Q76167
    3. Abdurrahman Wahid — English Wikipedia
    4. Abdurrahman Wahid — Arabic Wikipedia
    5. The Jakarta Post: 'Gus Dur seeks higher guidance' (29 April 2001)
    6. FPRI E-Notes: Theodore Friend, 'Abdurrahman Wahid, the Indonesian Republic, and Dynamics in Islam' (Jan 2010)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبدالرحمن واحد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdurrahman-wahid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية

    State Islamic university in Jakarta, where the Grand Imam gave his address to Muslims in Asia and the world on 23 February 2016; its rector said the curriculum follows Al-Azhar's faculties.