ایک نظر میں
- کردار
- عالم · سیاست دان
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابتدائی زندگی و تعلیم
وہ مشرقی جاوا کے جومبانگ میں پیدا ہوئے، ہاشم اشعری اور نفیقہ بنت الیاس کے پندرہ بچوں میں سب سے بڑے۔ سات برس کی عمر میں انہوں نے والد سے قرآن مکمل کیا، اور پندرہ برس کی عمر میں نوآبادیاتی تعلیم کے بغیر لاطینی رسم الخط، ولندیزی اور انگریزی میں مہارت حاصل کر لی۔ انہوں نے والد کے تیبویرینگ مدرسے کی مدرسہ سلفیہ میں، پھر سیدوارجو کے پانجی میں پوندوک سیوالان اور کیدیری کے لیربویو مدرسے میں تعلیم پائی، اور گھر پر زبانوں کے کورس اور رسالوں کی اشاعت خوانی جاری رکھی۔ 1932ء میں حج کیا اور 1933ء تک مزید دینی مطالعے کے لیے مکہ میں رہے؛ واپسی پر، انیس برس کی عمر میں، تحریک میں سرگرم ہو گئے اور سب سے زیادہ دینی مدارس کے معیار کو بلند کرنے پر کام کیا۔ 1 2
عوامی زندگی
وہ نهضۃ العلماء کے انتظامی بورڈ کے رکن تھے۔ جاپانی قبضے کے دوران، جب انڈونیشی تنظیمیں ممنوع تھیں، انہوں نے مجلس اسلام اعلیٰ انڈونیشیا (MIAI) کی قیادت کی، جو واحد اسلامی ادارہ تھا جسے کام کی اجازت تھی، اور وہ مرکزی مشاورتی کونسل، آزادی کی تیاری کی تحقیقاتی کمیٹی (BPUPK) اور آزادی کی تیاری کی کمیٹی (PPKI) کے رکن رہے۔ وہ جمہوریہ کے پہلے وزیر مذہبی امور بنے، 1945ء میں اور پھر 1949ء سے 1952ء تک، صدر سوکارنو کے دور میں؛ انڈونیشی مضمون متعاقب کابینوں میں ان کی تین وزارتوں کی تفصیل دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ 1951ء سے وفات تک نهضۃ العلماء کے صدر عام بھی رہے۔ ان کا مسلک مآخذ میں درج نہیں: جو کچھ ثابت ہے وہ دینی مدارس کی تربیت اور تنظیمی و وزارتی عہدے ہیں، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام لکھتا ہے۔ 1 2 3 4
خاندان و وفات
1939ء میں ان کی شادی ان کی چچازاد صالحہ سے ہوئی — انڈونیشی مضمون ان کا نام شلیحہ منورہ بتاتا ہے اور شادی کا سال 1938ء لکھتا ہے — اور ان کے چھ بچے ہوئے، جن میں عبد الرحمن وحید بھی تھے جو بعد میں نهضۃ العلماء کے قائد اور انڈونیشیا کے چوتھے صدر بنے، اور صلاح الدین وحید۔ 18 اپریل 1953ء کو چیماہی کے چیمندی میں ان کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی؛ وہ اور نهضۃ العلماء کے عہدیدار آرگو ستجیپتو شدید زخمی ہوئے اور چار گھنٹے بعد بورومیئس اسپتال پہنچے۔ عبد الرحمن وحید حادثے میں بچ گئے؛ ان کے والد 19 اپریل 1953ء کو وفات پا گئے اور ستجیپتو اگلے دن۔ وحید ہاشم کو انڈونیشیا کا قومی ہیرو قرار دیا گیا۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعے کو بدلنے والے مأخذ کا نام دے۔
تعلقات
- Child of
- ہاشم اشعری
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Wahid Hasyim — English Wikipedia
- Abdul Wahid Hasyim — Indonesian Wikipedia
- Wahid Hasyim — Arabic Wikipedia
- Wahid Hasyim — Wikidata Q981398
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الواحد ہاشم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/wahid-hasyim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.