عباس محمود العقاد

عباس محمود العقاد

–

أسوان → القاهرة

مصری ادیب، شاعر اور نقاد (1889-1964)، اسوان میں پیدا ہوئے اور خود آموز تھے۔ انہوں نے دیوان شاعری مکتب کی بنیاد میں حصہ لیا، مصری پارلیمنٹ کے رکن رہے، سو سے زائد کتابیں لکھیں جن میں «العبقریات» سلسلہ بھی ہے، اور قاہرہ کی عربی زبان اکیڈمی کے رکن تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر · سیاست دان
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · علاؤالدین خان · علی المیرغنی · علی فواد جیبےسوئے · عطیہ فیضی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عباس محمود العقاد (28 جون 1889 – 12 مارچ 1964) مصری ادیب، شاعر اور نقاد تھے، جنہیں «العملاق» (دیو قامت) کہا جاتا تھا۔ اسوان میں پیدا ہوئے اور تقریباً مکمل طور پر خود آموز تھے؛ انہوں نے دیوان شاعری مکتب کی بنیاد میں حصہ لیا، پارلیمنٹ کے رکن رہے اور سو سے زائد کتابیں لکھیں، جن میں ابتدائی مسلم شخصیات کی سوانح پر مشتمل «العبقریات» سلسلہ بھی ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ 28 جون 1889 کو اسوان میں پیدا ہوئے؛ عربی مقالہ اس کے مطابق 29 شوال 1306ھ دیتا ہے۔ ان کے والد دمیاط سے تعلق رکھنے والے سرکاری اہلکار تھے اور والدہ کرد نژاد تھیں۔ انہوں نے صرف ابتدائی تعلیم مکمل کی اور کتابیں خرید کر خود کو تعلیم دی؛ تاریخ، فلسفہ اور ادب کا وسیع مطالعہ کیا اور انگریزی، فرانسیسی اور جرمن ادب سے واقف ہوئے۔ 3 2

    دیوان مکتب اور ادبی معرکے

    انہوں نے ابراہیم المازنی اور عبد الرحمن شکری کے ساتھ دیوان شاعری مکتب قائم کیا اور «الدیوان» کتاب میں امیر الشعراء احمد شوقی پر تنقید کی۔ عربی مقالہ شوقی، طٰہٰ حسین، زکی مبارک اور مصطفی صادق الرافعی کے ساتھ ان کے مشہور ادبی و فکری معرکوں کا ذکر کرتا ہے۔ 3 2

    سیاست

    وہ بے باک سیاسی مفکر تھے: حکومت پر تنقید کی پاداش میں 1930-1931 میں قید ہوئے، جون 1940 میں «هتلر في الميزان» لکھ کر نازیت کی مذمت کی اور 1942 میں جرمن انتقام کے خوف سے سوڈان چلے گئے۔ وہ وفد پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ اور بعد میں ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے، اور صدر جمال عبد الناصر نے انہیں 1958 میں ادب کا ریاستی اعزازی ایوارڈ دیا۔ 2

    تصانیف

    انہوں نے سو سے زیادہ کتابیں اور ہزاروں مضامین لکھے۔ «العبقریات» سلسلے میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، خالد بن ولید، محمد اور مسیح سمیت سات شخصیات کی سوانح ہیں؛ ان کی «عبقریۃ الامام علی» عجائب گھر میں بطور ماخذ موجود ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں ناول «سارہ» اور قرآن پر فلسفیانہ مطالعہ شامل ہیں۔ 2

    وفات

    ان کا انتقال قاہرہ میں مارچ 1964 میں ہوا — عربی مقالہ 26 شوال 1383ھ بمطابق 12 مارچ 1964 دیتا ہے، جب کہ انگریزی مقالے کے معلومات خانے اور وفات کے حصے میں 13 مارچ درج ہے — اور ان کی میت اسوان لے جا کر اسی دن دفن کی گئی۔ 3 2 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    أسوان
    Died in
    القاهرة
    Buried in
    أسوان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ· من جان بلاط إلى طومان باي إلى قانصوه الغوري 905–906هـ

    ماخذ

    1. Abbas Mahmoud al-Aqqad — Urdu Wikipedia
    2. Abbas Mahmoud al-Aqqad — English Wikipedia
    3. Abbas Mahmoud al-Aqqad — Arabic Wikipedia
    4. Abbas Mahmoud al-Aqqad — Wikidata Q305962
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عباس محمود العقاد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abbas-mahmoud-al-aqqad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.