ایک نظر میں
- کردار
- military · سیاست دان
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
علی فواد جیبےسوئے (23 ستمبر 1882 – 10 جنوری 1968) ترک جنرل اور سیاست دان تھے، مصطفیٰ کمال اتاترک کے عسکری کالج کے ہم جماعت، مغربی اناطولیہ میں قومی مزاحمت کے ابتدائی منتظمین میں سے ایک، اور انقرہ حکومت کے ماسکو میں پہلے سفیر۔ بعد میں وہ جمہوریہ کی پہلی حزبِ اختلاف کے شریک بانی رہے اور، سیاست کے اندر اور باہر برسوں گزارنے کے بعد، 1948 میں پارلیمان کے صدر بنے۔ 1
ابتدائی زندگی اور انقرہ کا راستہ
وہ 23 ستمبر 1882 کو اسطنبول کے اسکدار کے صالاجق محلے میں پیدا ہوئے — ترک مضمون محلہ بتاتا ہے، انگریزی صرف شہر — اسماعیل فاضل پاشا اور زکیہ خانم کے بیٹے، جن کے والد مشیر محمد علی پاشا 1877–1878 کی جنگ میں ڈینیوب فوج کے کمانڈر تھے۔ عسکری کالج میں وہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ ایک ہی جماعت میں تھے، جو اسطنبول میں اس خاندان کے ہاں ٹھہرتے تھے، اور کاظم قرہ بکر کے ساتھ بھی۔ 1905 میں عملے کے کپتان بن کر انہوں نے بیروت، تھیسالونیکی اور روم میں خدمات انجام دیں، بلقان جنگوں میں لڑے — بیزانی میں زخمی ہوئے اور 1913 میں یانیا کور کے ساتھ ہتھیار ڈالے — اور پہلی جنگِ عظیم میں سویز، گیلی پولی اور فلسطین میں لڑے اور جنگ کا اختتام بیسویں کور کے کمانڈر کی حیثیت سے کیا۔ جنگ بندی کے بعد انہوں نے کور کو اناطولیہ منتقل کیا، مغرب کی قومی قوتوں کو منظم کیا، آماسیا پروٹوکول پر دستخط کیے، اور قومی افواج کے جنرل کمانڈر مقرر ہوئے۔ 1 2
ماسکو، حزبِ اختلاف اور عہدے
عصمت انونو سے اختلاف کے بعد انہیں ماسکو سفیر بنا کر بھیجا گیا، جہاں انہوں نے لینن اور سٹالن سے ذاتی طور پر مذاکرات کیے اور 16 مارچ 1921 کو معاہدۂ ماسکو پر دستخط کیے، جس سے جنگِ آزادی کو سوویت حمایت حاصل ہوئی۔ 1924 میں وہ ترقی پسند جمہوری جماعت کے جنرل سیکرٹری بنے، وہ حزبِ اختلاف جس کے وہ قرہ بکر کے ساتھ شریک بانی تھے؛ جب وہ بند ہوئی تو ان پر ازمیر قتل کیس میں مقدمہ چلا اور وہ 1926 میں بری ہوئے۔ 1931 میں پارلیمان میں لوٹ کر وہ وزیرِ تعمیراتِ عامہ (1939–1943) اور وزیرِ نقل و حمل (1943–1946) رہے، اور 30 جنوری 1948 کو قرہ بکر کے جانشین کی حیثیت سے پارلیمان کے صدر بنے اور 1 نومبر 1948 تک اس منصب پر رہے۔ وہ پچاس کی دہائی بھر ڈیموکریٹ رکن رہے اور 1960 کی بغاوت میں دیگر ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ مختصر گرفتاری کے بعد سیاست چھوڑ دی۔ 1
وفات اور تدفین
وہ 10 جنوری 1968 کو اسطنبول میں انتقال کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں گیوے اسٹیشن کے قریب علی فواد پاشا کی مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا، جہاں جنگِ آزادی کی پہلی گولیوں میں سے کچھ چلی تھیں؛ انگریزی مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ ان کی باقیات بعد میں انقرہ کے ترک ریاستی قبرستان منتقل کی گئیں، لیکن خود اس دعوے کو حوالہ درکار قرار دیتا ہے، اور ترک مضمون اب بھی گیوے کو ان کا مدفن بتاتا ہے، اس لیے یہ ریکارڈ دونوں قراءتیں محفوظ رکھتا ہے اور تدفین کی جگہ کو طے شدہ نہیں لکھتا۔ 1 2
کسی بھی ماخذ میں ان کے لیے کوئی مکتب نام نہیں لیا گیا: نہ کوئی مضمون ان کا مذہب بیان کرتا ہے، اور وکی ڈیٹا کی عمومی «اسلام» قیمت ایک ہی ڈیٹا خاندان ہے، اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Ali Fuat Cebesoy — English Wikipedia
- Ali Fuat Cebesoy — Turkish Wikipedia
- Ali Fuat Cebesoy — Wikidata Q983601
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “علی فواد جیبےسوئے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-fuat-cebesoy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.