خیرول تانجونگ

لوگ زندہ اسلام

خيرول تانجونغ

جاكرتا

خیرول تانجونگ (پیدائش 18 جون 1962، جکارتہ) انڈونیشیائی کاروباری ہیں، سی ٹی کارپ کے بانی و چیئرمین، جس میں بینک میگا، ٹرانس ٹی وی اور ٹرانس 7 چینلز، ٹرانس مارٹ خردہ فروشی اور جائیداد شامل ہیں؛ یونیورسٹی آف انڈونیشیا سے دندان سازی کے فارغ التحصیل، انھوں نے طالب علمی میں تجارت شروع کی، 2014 میں معاشی امور کے رابطہ وزیر رہے اور 2026 میں صدارتی مشاورتی کونسل کے رکن بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
businessman
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خیرول تانجونگ (پیدائش 18 جون 1962) انڈونیشیائی کاروباری ہیں، سی ٹی کارپ کے بانی و چیئرمین، جس میں بینک میگا، ٹرانس ٹی وی اور ٹرانس 7 چینلز، ٹرانس مارٹ خردہ فروشی اور جائیداد شامل ہیں۔ دندان سازی کے فارغ التحصیل، انھوں نے طالب علمی میں تجارت شروع کی، 2014 میں معاشی امور کے رابطہ وزیر رہے اور 2026 میں صدارتی مشاورتی کونسل کے رکن بنے 1 2.

    زندگی

    خیرول تانجونگ 18 جون 1962 کو جکارتہ میں اے جی تانجونگ اور حلیمہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صحافی تھے جن کی مجلہ کمپنی سوہارتو حکومت نے بند کر دی، اور خاندان کو اپنا بڑا گھر اور گاڑیاں بیچ کر چھوٹے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونا پڑا 1۔ انڈونیشیائی مضمون کے مطابق ان کے والد شمالی سماٹرا کے سورکم سے، پسیسیر قوم اور تانجونگ قبیلے سے تھے، اور والدہ مغربی جاوا کے چیباداک سے تھیں 2۔ انھوں نے 1981 میں بوڈی اوٹومو سینئر ہائی اسکول سے اور 1987 میں یونیورسٹی آف انڈونیشیا سے دندان سازی میں گریجویشن کیا، 1984 اور 1985 میں قومی مثالی طالب علم قرار پائے، اور دورانِ تعلیم کتابیں، ٹی شرٹس اور طبی سازوسامان بیچا 1 2.

    کام

    1987 میں خیرول نے تین شراکت داروں کے ساتھ ایگزم بینک کے 150 ملین روپیہ قرض سے پی ٹی پاریارتی شنڈوتاما قائم کی، جو بچوں کے جوتے بناتی تھی اور اسے اٹلی سے 160,000 جوڑوں کا آرڈر ملا؛ بعد میں توسیع پر اختلاف سے وہ شراکت داروں سے الگ ہوئے اور اپنا گروپ پارا گروپ بنایا، جس کا نام 1 دسمبر 2011 کو سی ٹی کارپ ہوا 2 1۔ انھوں نے بینک کارمان خرید کر اسے بینک میگا بنایا، ٹرانس ٹی وی قائم کیا اور ٹی وی 7 خریدا جو ٹرانس 7 بنا، 2010 میں کیریفور انڈونیشیا میں 40 فیصد اور 2012 میں گارودا انڈونیشیا میں اقلیتی حصہ لیا 1 2۔ وہ 19 مئی سے 20 اکتوبر 2014 تک معاشی امور کے رابطہ وزیر رہے، 2015 میں ائیرلانگا یونیورسٹی میں انٹرپرینیورشپ کے پروفیسر بنے، اور 2 اکتوبر 2026 کو صدر پرابوو سوبیانتو نے انھیں صدارتی مشاورتی کونسل کا رکن مقرر کیا 2۔ ان کی سوانح «خیرول تانجونگ سی اناک سنگکونگ» 2012 میں شائع ہوئی، اور فوربز نے 2024 میں ان کی دولت 5.2 ارب ڈالر گنی 1۔ اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی متن میں خیرول تانجونگ کے اپنے مذہب کا نام نہیں ملتا — انڈونیشیائی سوانحی سائٹس بایوڈیٹا جدولوں میں اسلام درج کرتی ہیں، لیکن ایسی ساختی فہرستیں ایک ہی نقل شدہ خاندان ہیں اور کچھ طے نہیں کرتیں، اور ان کے لیے کسی مکتب کا نام بھی نہیں ملتا — اس لیے ان کا مذہب غیر معلوم درج ہے 1 2 3.

    مآخذ

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • تاجر · اصل پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    جاكرتا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية· عبد الکریم امر اللہ· عبدالرحمن واحد· آغوس سالم· أحمد محمد الطيب· بی جے حبیبی· ڈیڈی کوربوزیئر· ایکا تجپتا ودجاجا

    ماخذ

    1. Chairul Tanjung — English Wikipedia
    2. Chairul Tanjung — Indonesian Wikipedia
    3. Chairul Tanjung (Q5068119) — Wikidata
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خیرول تانجونگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/chairul-tanjung/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية

    State Islamic university in Jakarta, where the Grand Imam gave his address to Muslims in Asia and the world on 23 February 2016; its rector said the curriculum follows Al-Azhar's faculties.