آغوس سالم

أغوس سالم

–

جاكرتا

انڈونیشی صحافی، سفارت کار اور سیاست دان (1884ء–1954ء)، شریکۃ اسلام کے رہنما اور تجوکروامینوتو کے دست راست، فولکسراد کے رکن (1921ء–1924ء)، اور وزیر خارجہ (1947ء–1949ء) جنہوں نے نوزائیدہ جمہوریہ کو عرب ریاستوں سے تسلیم کرایا؛ ہم وطن انہیں «دی گرینڈ اولڈ مین» کہتے تھے۔ انہوں نے توحید، تقدیر اور توکل پر لکھا اور آزادی کمیٹی میں ریاست کی بنیاد پر بحث کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    آغوس سالم (8 اکتوبر 1884ء – 4 نومبر 1954ء)، پیدائشی نام مشود الحق سالم، انڈونیشی صحافی، سفارت کار اور سیاست دان تھے: شریکۃ اسلام کے رہنما، فولکسراد کے رکن، اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ (1947ء–1949ء) جن کے دور میں نوزائیدہ جمہوریہ کو عرب ریاستوں کی منظوری ملی۔ ہم وطن انہیں «دی گرینڈ اولڈ مین» کہتے تھے۔ ان پر اردو ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون نہیں؛ یہ صفحہ انگریزی، انڈونیشی اور عربی مضامین اور وکی ڈیٹا کے اندراج سے لکھا گیا ہے۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی و جدہ

    وہ مغربی سماٹرا کے کوتو گادانگ میں پیدا ہوئے، ان کے والد سلطان محمد سالم نوآبادیاتی پراسیکیوٹر اور تانجونگ پینانگ کی مقامی عدالت کے چیف جج تھے۔ یورپی پرائمری اسکول اور باتاویا کے ہوگیرے برگر اسکول میں پڑھے اور پوری ولندیزی مشرقی ہند میں سب سے زیادہ نمبروں سے فارغ ہوئے؛ نیدرلینڈز میں طب کی سرکاری وظیفہ اور کارتنی کی اپنی وظیفہ ان کے حق میں مؤخر کرنے کی پیشکش، دونوں بے نتیجہ رہیں۔ 1905ء میں نوآبادیاتی ماہر سنوک ہرخرونیے نے انہیں جدہ میں ولندیزی قونصل خانے میں مترجم اور سیکریٹری لگوایا جہاں وہ حج کے امور دیکھتے تھے — انگریزی مضمون کے مطابق اس کا ایک مقصد انہیں ان کے رشتہ دار، حرم مکی کے شافعی امام احمد خطیب المننکاباوی کی انقلابی تعلیم سے دور رکھنا بھی تھا، جبکہ انڈونیشی مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے وہاں اپنے چچا سے پڑھا۔ 1911ء میں وطن لوٹ کر صحافت اختیار کی، شریکۃ اسلام سے وابستہ «نیرتجا» کی ادارت کی اور بعد میں تجوکروامینوتو کے ساتھ «فجر ایشیا» سمیت اپنے اخبار نکالے۔ 1 2

    شریکۃ اسلام و فولکسراد

    سالم شریکۃ اسلام کے ممتاز رہنما اور تجوکروامینوتو کے دست راست بنے، تحریک کے اصلاحی دھڑے میں اس کے بڑھتے بائیں بازو کے مقابل کھڑے ہوئے جو الگ ہو کر کمیونسٹ پارٹی بنا گیا۔ انشقاق کے بعد انہوں نے اسلامی یونین پارٹی (PSI، بعد میں PSII) کی مشترکہ بنیاد رکھی اور 1934ء میں تجوکروامینوتو کی وفات کے بعد اس کے فکری رہنما بنے۔ فولکسراد میں، جس میں 1921ء میں داخل ہوئے اور 1924ء میں اس کی بے اختیاری سے مایوس ہو کر چھوڑ دیا، انہوں نے مالے میں تقریر پر اصرار کیا — ایسا کرنے والے پہلے رکن۔ 1927ء میں یونگ اسلامیٹن بوند کے اجلاس میں انہوں نے مردوں اور عورتوں کی نشستوں کے درمیان پردہ پھاڑ دیا اور عورتوں کی علیحدگی کے خلاف بولے۔ مضامین بائیں بازو کے ان بار بار الزامات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی تحریک کی خبریں نوآبادیاتی حکام کو دی تھیں؛ انہوں نے جواب دیا کہ ہر کوئی کسی نہ کسی صورت حکومت سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور انگریزی مضمون کے حوالہ کردہ ایک مورخ صرف یہ مانتا ہے کہ ان سے شریکۃ اسلام کی اندر سے تحقیق کو کہا گیا تھا — اور انہوں نے اس کے بجائے اس میں شامل ہونا چنا۔ 1 2

    آزادی و وزارت خارجہ

    مارچ 1945ء میں سالم آزادی کی تیاری کمیٹی (BPUPKI) میں بیٹھے اور جون میں نو رکنی کمیٹی میں جس نے جکارتا چارٹر بنایا، سیکولر قوم پرستوں اور ریاست کی اسلامی بنیاد کے حامی دھڑے کے درمیان ثالث بنے۔ مارچ 1946ء میں نائب وزیر خارجہ اور جولائی 1947ء میں وزیر خارجہ مقرر ہوئے، ان وفود کی قیادت کی جنہوں نے مصر اور تقریبًا تمام عرب لیگ ریاستوں سے منظوری حاصل کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انڈونیشیا کی نمائندگی کی اور یو ایس ایس رینویل پر مذاکرات کیے۔ دسمبر 1948ء میں ولندیزیوں کے یوگیاکارتا پر قبضے پر سوکارنو اور شاہریر کے ساتھ براستاگی اور پاراپات جلاوطن ہوئے، پھر عہدہ سنبھالا اور 1949ء میں ہیگ کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1 2

    تحریریں، مسلک و وفات

    ریٹائرمنٹ میں دین پر لکھا، 1953ء میں توحید، تقدیر اور توکل کو کیسے سمجھا جائے اس پر کتاب شائع کی، اور چھ ماہ کارنیل یونیورسٹی میں لیکچر دیے۔ ان کا مسلک مضامین میں درج نہیں: انگریزی اور انڈونیشی متن کوئی مسلک نہیں بتاتے۔ عربی مختصر مضمون اپنی ایک قرأت کا اضافہ کرتا ہے — کہ انہوں نے علم کلام میں معتزلہ کی عقلیت پسندی کی حمایت کی — اور چونکہ یہ قرأت اسی واحد ماخذ پر کھڑی ہے، اس لیے ان کے اندراج میں اسے ان کا مسلک درج کرنے کے بجائے تحفظ کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ 4 نومبر 1954ء کو جکارتا میں وفات پائی اور کالی باتا ہیروز قبرستان میں دفن ہوئے؛ 1961ء میں قومی ہیرو قرار پائے۔ 1 4 2

    مآخذ

    • اوپر حوالہ کردہ معرّف ماخذ اندراجات، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی مؤرخ ہو اور ہر واقعے کو بدلنے والا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    جاكرتا
    Buried in
    جاكرتا
    Studied under
    احمد خطیب المنانگکباوی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد الکریم امر اللہ· جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية· أحمد محمد الطيب· بی جے حبیبی· ڈیڈی کوربوزیئر· حاجی عبد الملک کریم امر اللہ· کاسمان سنگودیمیدجو· کی باگوس ہادیکوسومو

    ماخذ

    1. Agus Salim — English Wikipedia
    2. Agus Salim — Indonesian Wikipedia
    3. Agus Salim — Wikidata Q118629
    4. Agus Salim — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “آغوس سالم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/agus-salim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد الکریم امر اللہ

    مینانگکاباؤ عالم اور مصلح (1879ء–1945ء)، جو حاجی رسول کے نام سے مشہور ہوئے: مکہ میں شیخ احمد خطیب المنانگکباوی سے تعلیم حاصل کی، پھر سنگائی باتانگ اور پاڈانگ پانجانگ سے طوالب مدارس کے ذریعے تعلیمی تجدید کی قیادت کی جن میں دینی اور عام علوم جمع تھے؛ انہوں نے رواجی رسوم، مادری نسبی نظام اور استعماری ٹیکسوں کی مخالفت کی، جکارتہ میں وفات پائی اور حمکا کے والد تھے۔