ایک نظر میں
متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔
creedprophetssects-and-schools
خلاصہ
مجموع الفتاویٰ کی کتاب القدر میں ابن تیمیہ کی ایک فصل نبی کے اس قول پر ہے: «پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے»، جب آدم نے ان کے مقابل تقدیر سے استدلال کیا؛ اس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ مصائب کے بارے میں تھا، گناہوں کے بارے میں نہیں۔ 1 وہ صحیحین سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت لاتے ہیں: آدم اور موسیٰ نے مباحثہ کیا؛ موسیٰ نے کہا: آپ ابو البشر ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں سے انہیں سجدہ کروایا، پھر آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے کیوں نکالا؟ آدم نے کہا: آپ وہ موسیٰ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور ان کے لیے تورات لکھی؛ آپ اس میں میری نافرمانی کی خبر (طٰہٰ 121) میری پیدائش سے کتنا پہلے لکھی پاتے ہیں؟ کہا: چالیس سال۔ پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ عمر بن خطاب کے طریق سے حسن سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ 1
تین گروہ
ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے گمان کیا کہ آدم نے گناہ کی ملامت دور کرنے کے لیے سابق تقدیر سے استدلال کیا، اور اسی گمان کی وجہ سے وہ تین گروہوں میں بٹ گئے: 1
- ایک گروہ نے حدیث کو جھٹلایا، جیسے ابو علی جبائی وغیرہ، کیونکہ بداہتاً معلوم ہے کہ تقدیر کو نافرمان کا عذر بنانا رسولوں کی تعلیم کے خلاف ہے؛ محققین حاشیے میں جبائی کو معتزلہ کے ائمہ میں شمار کرتے ہیں، پیدائش 235ھ اور وفات 303ھ۔ 1 2
- ایک گروہ نے اس کی تاویلیں کیں جنہیں ابن تیمیہ صریح فاسد سمجھتے ہیں: کہ آدم اس لیے غالب آئے کہ وہ باپ تھے اور بیٹا باپ کو ملامت نہیں کرتا؛ یا اس لیے کہ گناہ ایک شریعت میں تھا اور ملامت دوسری میں؛ یا اس لیے کہ ملامت توبہ کے بعد تھی؛ یا اس لیے کہ اس میں دنیا اور آخرت کا حکم مختلف ہے۔ 2
- ایک گروہ نے اسے اللہ اور رسول کے حکم کی مخالفت کرنے والوں سے ملامت ساقط ہونے کی بنیاد بنایا، مگر اپنی روزمرہ زندگی میں اسے یکساں لاگو نہ کر سکا، چنانچہ بعض اپنی خواہش کے وقت اس سے دلیل لاتے ہیں، دوسروں کی خواہش کے وقت نہیں؛ ایسوں کے بارے میں کہا گیا: «تم اطاعت کے وقت قدری ہو اور معصیت کے وقت جبری»۔ ان میں سے بعض اسے «اہلِ حقیقت» سے خاص کرتے ہیں جنہوں نے توحیدِ ربوبیت کا شہود کیا اور غیر اللہ سے فنا ہو گئے؛ ابن تیمیہ اسے حقیقت کے دعوے دار بہت سے متاخر صوفیہ اور بعض اہلِ علم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ 2
ابو المظفر سمعانی کا قول
ابن تیمیہ ابو المظفر سمعانی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ مباحثہ آدم اور موسیٰ کے لیے صرف اس لیے جائز تھا کہ وہ دو جلیل القدر نبی تھے جو حقائق کے علم سے مخصوص اور رازوں کے کشف کی اجازت رکھتے تھے، اور یہ ان مخلوقات کا راستہ نہیں جنہیں اپنی مقررہ حدود پر رکنے کا حکم ہے؛ «آدم غالب آئے» اطاعت کے حکم کو باطل یا واجب عمل کو ساقط نہیں کرتا، بلکہ اس کا مطلب دو باتوں میں سے ایک کو ترجیح دینا اور علت کے مرتبے کو سبب پر مقدم رکھنا ہے؛ آدم سابق قضا کی وجہ سے جنت میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے، اور اسی سے وہ موسیٰ پر غالب آئے۔ 2 3 محققین حاشیے میں سمعانی کا تعارف منصور بن محمد مروزی کے طور پر کراتے ہیں، خراسان کے مفتی، مرو میں 426ھ میں پیدا ہوئے اور وہیں 489ھ میں وفات پائی۔ 2
جنہوں نے شہودِ تقدیر سے استدلال کیا
ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبد القادر کہا کرتے تھے کہ بہت سے لوگ قضا و قدر تک پہنچ کر رک گئے، جبکہ انہوں نے «حق کی تقدیروں سے حق کے ذریعے حق کے لیے نزاع کیا»؛ وہ امر و نہی کی تعظیم کرتے اور تقدیر سے استدلال سے منع کرتے تھے، اور ان کے شیخ حماد دباس بھی۔ 3 وہ اسی باب میں اس قول کو رکھتے ہیں کہ خضر سے ملامت اس لیے ساقط ہوئی کہ انہوں نے تقدیر کی حقیقت کا شہود کیا تھا، اور وحدت الوجود کے قائل اہلِ اتحاد کا قول، جن میں وہ تلمسانی، ابن عربی، قونوی، ابن سبعین اور ابن فارض کا نام لیتے ہیں۔ 3
ابن تیمیہ کا جواب
ان کے نزدیک اللہ نے مصائب پر صبر اور عیوب پر استغفار کا حکم دیا، اور وہ غافر 55 سے استدلال کرتے ہیں جس میں صبر اور استغفار دونوں کا حکم ہے۔ 1 وہ کہتے ہیں کہ جو مصائب اللہ کی تقدیر سے آئیں اور ان میں کوئی سزا کے لائق گناہ گار باقی نہ ہو، ان میں صبر اور تقدیر کے آگے سر جھکانے کے سوا کچھ نہیں، اور آدم و موسیٰ کا قصہ اسی قبیل سے ہے: موسیٰ نے انہیں اس پر ملامت کی جو انہیں اور اولاد کو پہنچا، آدم گناہ سے توبہ کر چکے تھے اور بخش دیے گئے تھے، اور مصیبت مقدر تھی؛ پس آدم موسیٰ پر غالب آئے۔ 4 وہ اسی پر اس شخص کو قیاس کرتے ہیں جسے ایسے لوگوں کے فعل سے تکلیف پہنچی جنہوں نے گناہ کیا پھر توبہ کی، جیسے کافر جو کسی مسلمان کو قتل کرے پھر اسلام لے آئے، یا تاویل سے بدعت اختیار کرنے والا جو پھر توبہ کرے؛ یہ ان کے نزدیک آسمانی مصائب کی جنس سے ہے جن میں قصاص طلب نہیں کیا جاتا۔ 4
جو ابھی شامل نہیں
یہاں معتزلہ اور صوفیہ کے اقوال ابن تیمیہ کی نقل سے ہیں، ان کی اپنی کتابوں سے نہیں؛ صحیحین کے شارحین کی اس حدیث پر شروح ابھی شامل نہیں کی گئیں۔
سوال پر آراء
سوال: «آدم موسیٰ پر غالب آ گئے» کا مطلب، اور کیا گناہوں کے لیے تقدیر سے دلیل لانا درست ہے۔
پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-hanbaliبنیادی حوالہ
استدلال مصیبت کے بارے میں تھا، گناہ کے بارے میں نہیں
قائل: ابن تيمية
بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م Dar al-Wafa' vol. 8, scan pp. 615–616 and 632 (printed 183–184 and 200)
مزید آراء (3)
اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-shafiiثانوی رائے
یہ مباحثہ ان دونوں کے لیے جائز تھا کیونکہ وہ حقائق کے علم سے مخصوص نبی تھے؛ اس کا مطلب قضا کو مقدم رکھنا ہے
قائل: أبو المظفر السمعاني منصور بن محمد التميمي
بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م vol. 8, scan pp. 616–617
other نقطۂ نظرثانوی رائے
معتزلہ: حدیث جھوٹی ہے کیونکہ یہ تقدیر کو گناہ گار کا عذر بناتی ہے
قائل: جبّائی
بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م vol. 8, scan pp. 615–616, with the editors' note on al-Jubba'i
sufi نقطۂ نظرثانوی رائے
جس نے حقیقت کا شہود کیا اور غیر اللہ سے فنا ہو گیا اس سے ملامت ساقط ہے
بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م vol. 8, scan p. 616
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
أهل القبلة وعدم التكفير بالذنب· الغيبة· الحنيف (وصف إبراهيم)· علم الكلام· الإمامة· عصمت· عصمة الأئمة عند الشيعة الإمامية· کرامت
ماخذ
- مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 615
- مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 616
- مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 617
- مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد الثامن (القدر)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 632
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “کیا آدم نے موسیٰ کے مقابل گناہ کی ملامت دور کرنے کے لیے تقدیر سے استدلال کیا؟”. islam.museum، https://islam.museum/ur/questions/did-adam-argue-from-destiny-to-excuse-his-sin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON