ایک نظر میں
- کردار
- writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 11 مئی 1912ء کو ضلع لدھیانہ کے سمبرالہ کے گاؤں پاپرودی میں ایک پنجابی مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے جس کی اصل کشمیر سے تھی 12۔ ان کا تاجر خاندان امرتسر میں آباد ہوا اور وکالت کے پیشے سے جُڑا؛ ان کے والد خواجہ غلام حسن سیشن جج تھے 1۔ ابتدائی تعلیم امرتسر کے ایک مسلم ہائی اسکول میں ہوئی جہاں وہ میٹرک میں دو بار فیل ہوئے، پھر کچھ عرصہ ہندو سبھا کالج میں رہے 1۔ اصل موڑ 1933ء میں آیا جب عالم عبد الباری علیگ نے انھیں روسی و فرانسیسی ادباء کو پڑھنے اور ترجمہ کرنے کی ترغیب دی؛ وکٹر ہیوگو کے ناول کا ان کا ترجمہ ’سرگذشت اسیر‘ کے نام سے چھپا اور پھر ان کا پہلا افسانہ ’تماشا‘ جلیانوالہ باغ کے سانحے پر لکھا گیا 1۔ جولائی 1934ء میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور اس ادبی حلقے سے جُڑے جو بعد میں ترقی پسند مصنفین کی انجمن بنا، لیکن تپ دق نے نو ماہ میں ان کی تعلیم روک دی 1۔
بمبئی اور تقسیم
بمبئی میں وہ صحافی اور منظر نویس رہے 1۔ وہ تقسیم ہند کے سخت مخالف تھے، اسے ایک عظیم المیہ سمجھتے تھے اور ہندوستان ہی میں رہنے کا ارادہ رکھتے تھے؛ لیکن 1948ء میں فسادات کی خبروں اور بمبئی میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد وہ جہاز سے پاکستان روانہ ہوئے اور لاہور میں اہل خانہ کے ساتھ آباد ہو گئے، ان لاکھوں مسلمانوں میں شامل ہو کر جنھوں نے یہ ہجرت کی 1۔ تقسیم پر ان کے افسانے — ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، ’کھول دو‘ اور ’ٹھنڈا گوشت‘ — نے ان کی شہرت پختہ کر دی 1۔
مقدمات اور آخری سال
ان کی تحریروں پر فحاشی کے الزام میں چھ مرتبہ مقدمہ چلا، تین بار برطانوی ہند میں اور تین بار پاکستان میں، اور وہ کبھی مجرم قرار نہ پائے 1۔ لاہور میں وہ افسردگی اور شراب نوشی میں ڈوب گئے؛ لاہور کے پاگل خانے میں علاج بھی کارگر نہ ہوا اور 18 جنوری 1955ء کو جگر کے عارضے سے لاہور میں ان کا انتقال ہوا 12۔ وہ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن ہیں 1۔
26 اپریل 1939ء کو ان کی شادی صفیہ بیگم سے ہوئی؛ ان کی تین بیٹیاں ہوئیں 1۔ پاکستان نے 2012ء میں انھیں بعد از مرگ نشان امتیاز دیا اور ان کی زندگی پر 2015ء اور 2018ء میں دو فلمیں بنیں 1۔
دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں
انگریزی مقالہ خود انھیں مسلمان قرار دیتا ہے: وہ گارڈین کی تعریف نقل کرتا ہے جس میں انھیں ’مسلمان صحافی، افسانہ نگار اور ہندوستانی منظر نویس‘ کہا گیا، اور 1948ء میں ہندوستان چھوڑنے والے لاکھوں مسلمانوں میں انھیں شمار کرتا ہے 1۔ ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 3۔ ان کے مقدمات، شراب نوشی اور بے باکی ذرائع میں سوانح و احوال کے طور پر آئے ہیں؛ یہ نہ کسی وابستگی کی شہادت ہیں نہ بے دینی کی، اور کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا۔ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی
ماخذ
- Saadat Hasan Manto — English Wikipedia
- Saadat Hasan Manto — Urdu Wikipedia
- Saadat Hasan Manto — Wikidata Q156501
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سعادت حسن منٹو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saadat-hasan-manto/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.