حسین مونی

حسين مويني

زنجبار

تنزانیہ کے سیاست دان اور طبیب (پیدائش 1966ء)، سابق تنزانی صدر علی حسن موینی کے بیٹے۔ وہ طبیب رہے، پھر مکورانگا اور کوہانی سے رکنِ پارلیمنٹ بنے اور تنزانیہ میں وزارتی عہدے سنبھالے جن میں آخری دفاع اور قومی خدمت (2014ء–2020ء) تھا، پھر 2020ء کے انتخابات میں 76.27 فیصد ووٹوں سے کامیابی کے بعد 3 نومبر 2020ء کو زنجبار کے آٹھویں صدر بنے۔ وہ بدعنوانی کے خلاف مہم اور زنجبار کے نیلی معیشت پروگرام کے لیے جانے جاتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · طبیب
خطہ
east-africa
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی

    مونی 23 دسمبر 1966ء کو زنجبار کے اونگوجا میں پیدا ہوئے۔ 1 2 انہوں نے مرمرہ یونیورسٹی سے طب کی ڈگری اور ہیمرسمتھ اسپتال سے پی ایچ ڈی کی، اور موہیمبیلی اسپتال (1993ء–1995ء) اور ہیوبرٹ کائروکی میموریل یونیورسٹی (1998ء–2000ء) میں کام کیا۔ 1

    وہ 2000ء میں مکورانگا سے پارلیمنٹ میں داخل ہوئے اور 2005ء میں کوہانی کی نشست پر منتقل ہو کر 2020ء تک رہے۔ حکومت میں وہ نائب وزیرِ صحت (2000ء–2005ء)، وزیرِ مملکت برائے وفاقی امور (2006ء–2008ء)، وزیرِ دفاع و قومی خدمت (2008ء–2012ء اور پھر 2014ء–2020ء) اور ان دو مدّتوں کے درمیان وزیرِ صحت و سماجی بہبود (2012ء–2014ء) رہے۔ 1

    صدارت

    مونی جون 2020ء میں زنجبار کی صدارتی دوڑ میں شامل ہوئے اور قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے 78.65 فیصد ووٹوں سے CCM کی نامزدگی جیتی۔ 28 اکتوبر 2020ء کے عام انتخابات میں انہوں نے 76.27 فیصد ووٹوں سے چودہ امیدواروں کو شکست دی۔ اپوزیشن امیدوار سیف شریف حماد نے نتیجے کے خلاف احتجاج منظم کرنے کی کوشش کی اور گرفتار ہوئے، اور امریکی حکومت نے بیک وقت ہونے والے تنزانی انتخابات کے بارے میں «قابلِ اعتبار الزامات» کا ذکر کیا، جبکہ زنجبار الیکٹورل کمیشن نے کہا کہ زنجبار میں ووٹنگ پُرامن ہوئی۔ 1 2

    انتخابی مہم میں مونی نے بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کا وعدہ کیا۔ ان کے دور میں زنجبار کے انسدادِ بدعنوانی ادارے نے 289 مقدمات چلائے اور وہ 2012ء میں اس ادارے کے قیام کے بعد اس کے دفتر کا دورہ کرنے والے پہلے صدر قرار پائے۔ 1

    ترقی کے میدان میں انہوں نے زنجبار کی پہلی نیلی معیشت اور ماہی گیری کی وزارت قائم کی اور جنوری 2022ء میں حکومت نے نیلی معیشت کے لیے 149 ارب تنزانی شیلنگ مختص کیے۔ 1 وہ اقوامِ متحدہ کے HeForShe اتحاد میں شامل ہونے والے پہلے افریقی سربراہِ ریاست تھے اور UN Women تنزانیہ نے انہیں 2021ء کا HeForShe چیمپئن نامزد کیا؛ اپنے پہلے سال میں انہوں نے تمام جنسی جرائم میں ضمانت کا امکان ختم کر دیا۔ 1

    اس اندراج پر نوٹ

    کوئی ماخذ مونی کے لیے کوئی دینی مکتب بیان نہیں کرتا۔ وکی ڈیٹا ان کا دین اسلام بتاتا ہے مگر کوئی شاخ نہیں — یہ ایک واحد ساختی قدر ہے — اور کوئی مضمون متن میں ان کا دین بیان نہیں کرتا: انگریزی، عربی اور اردو مضامین میں صرف زمرہ درج ہے (تنزانی مسلمان)، اور اردو کا مختصر اندراج انگریزی مضمون سے ماخوذ ہے۔ 3 1 2 4 اس لیے ان کا دین نامعلوم درج کیا گیا ہے، جیسا کہ ان کے والد کا ہے۔

    زنجبار کے صدر کے طور پر ان کے پیشرو علی محمد شین کا عجائب گھر میں کوئی اندراج نہیں، اس لیے جانشینی کا رشتہ نہیں لکھا گیا؛ لکھے گئے رشتے ان کی والدیت — وہ علی حسن موینی کے بیٹے ہیں جن کا اندراج موجود ہے — اور اونگوجا میں ان کی پیدائش ہیں۔ 1 3

    ماخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    علی حسن موینی
    Born in
    زنجبار

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی حسن موینی· زنجبار· عبید کرومی· علی بن سعید· امانی عبید کرومی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· ماجد بن سعید· سعید بن سلطان

    ماخذ

    1. Hussein Mwinyi — English Wikipedia
    2. Hussein Mwinyi — Arabic Wikipedia
    3. Hussein Mwinyi — Wikidata Q5018704
    4. Hussein Mwinyi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسین مونی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hussein-mwinyi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی حسن موینی

    تنزانیہ کے سیاست دان (1925ء–2024ء) جو زنجبار میں تقریباً دو دہائیوں تک استاد اور صدر مدرس رہے، پھر 1984ء میں زنجبار کے صدر اور 5 نومبر 1985ء سے 23 نومبر 1995ء تک تنزانیہ کے دوسرے صدر رہے، جولیس نیریرے کے جانشین کے طور پر۔ انہوں نے درآمدی پابندیاں نرم کیں، نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی اور 1986ء میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، اور ان کی دوسری مدت میں کثیر الجماعتی سیاست کی طرف منتقلی شروع ہوئی۔ انہیں 2022ء میں خدمتِ اسلام پر شاہ فیصل عالمی انعام ملا اور 2024ء میں دارالسلام میں ان کا انتقال ہوا۔