علی بن سعید

علي بن سعيد البوسعيدي

–

مسقط → زنجبار

علی بن سعید البوسعیدی (1854-1893)، آل بوسعید خاندان کے زنجبار کے چوتھے سلطان، 13 فروری 1890 سے 5 مارچ 1893 کو اپنی وفات تک حکمران رہے۔ ان کے دور میں مشرقی افریقا کا ساحل برطانیہ اور جرمنی کے درمیان تقسیم ہوا، زنجبار نے برطانوی سرپرستی قبول کی، انہوں نے ساحلی پٹی جرمنی کو فروخت کی، بنادر کی بندرگاہیں اٹلی کو لیز پر دیں، اور 1891 میں سلطنت کا پہلا آئین جاری کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · ابائی قنان باولی · عبد الرحمن الكواكبي · عبد الرزاق البيطار · عبد اللہ الندیم

مکان میں

مسقطزنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    ibadi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی بن سعید البوسعیدی (1854-1893) آل بوسعید خاندان کے زنجبار کے چوتھے سلطان تھے؛ انہوں نے 13 فروری 1890 سے 5 مارچ 1893 کو اپنی وفات تک حکومت کی۔ 1 2

    ان کا مختصر دور مشرقی افریقا کے ساحل کے استعماری فیصلے کا دور تھا: اسی میں زنجبار نے برطانوی سرپرستی قبول کی، ساحلی پٹی جرمنی کو فروخت ہوئی، بنادر کی بندرگاہیں اٹلی کو لیز پر دی گئیں — اور 1891 میں سلطنت کو اس کا پہلا آئین ملا۔ جرمن مضمون ان کی سوانح کا اختتام اس جملے پر کرتا ہے کہ ان کے اقتدار کے ساتھ «زنجبار کی آزادی ختم ہو گئی»۔ 1 3 2

    خاندان اور پس منظر

    ویکی ڈیٹا اور عربی مضمون کے مطابق وہ 1854 میں مسقط میں پیدا ہوئے؛ وہ سعید بن سلطان کے بائیسویں بیٹے تھے، اور عربی مضمون کے مطابق ان کی والدہ ایک حبشی خاتون، نور الصباح، تھیں۔ وہ سلاطین ماجد، برغش اور خلیفہ کے چھوٹے بھائی تھے؛ خلیفہ نے 27 مارچ 1888 کو انہیں ولی عہد نامزد کیا تھا۔ 3 4

    اقتدار اور برطانوی سرپرستی

    خلیفہ کی وفات پر 13 فروری 1890 کو وہ تخت نشین ہوئے اور اسی سال انہیں GCSI کا اعزاز ملا۔ 14 جون 1890 کو انہوں نے برطانوی قونصل ایوان اسمتھ کے ساتھ برطانوی سرپرستی قبول کرنے کا عبوری معاہدہ کیا — عربی مضمون سرپرستی کی باقاعدہ قبولیت کی تاریخ 7 نومبر 1890 بتاتا ہے۔ 1 جولائی 1890 کے ہیلیگولینڈ-زنجبار معاہدے نے ساحل کا فیصلہ کر دیا: سلطان نے امبا اور رووما دریاؤں کے درمیان جرمن ایسٹ افریقا کمپنی کو لیز پر دی گئی ساحلی پٹی پر اپنی حاکمیت سے دستبرداری اختیار کی، جبکہ زنجبار اور پیمبا برطانوی سرپرستی میں چلے گئے۔ 28 اکتوبر 1890 کو ساحلی پٹی باقاعدہ معاوضے کے بدلے جرمنی کے حوالے کر دی گئی (عربی مضمون فروخت کی تاریخ 17 اکتوبر 1890 بتاتا ہے)۔ 1 3 2

    1892 میں انہیں صومالی ساحل کی بنادر بندرگاہیں — موغادیشو، وارشیخ، مرکا اور براوے — اٹلی کو لیز پر دینے پر مجبور کیا گیا۔ 1891 میں انہوں نے زنجبار کا پہلا آئین جاری کیا اور آئینی حکومت قائم کی، عربی مضمون کے مطابق۔ 2 3

    دین و نسبت

    یہاں استعمال شدہ کوئی ماخذ علی بن سعید کے ذاتی دین کا نام نہیں لیتا: ان کے انگریزی، عربی اور جرمن مضامین اس بارے میں خاموش ہیں، اور ویکی ڈیٹا میں ان کے لیے کوئی دینی بیان درج ہی نہیں۔ ماخذ جو بات دو مرتبہ اور آزادانہ طور پر ثابت کرتے ہیں وہ ان کے خاندان اور اسی سلطنت کی نسبت ہے جس کی انہوں نے سربراہی کی: «آل بوسعید خاندان» کے انگریزی مضمون کے خانۂ معلومات میں خاندان کی روایت «اباضی اسلام» درج ہے اور سلطنتِ زنجبار (1856-1964) خاندان کی مملکتوں میں شمار ہے؛ «اباضیہ» کا انگریزی مضمون — جو خود اس مکتب پر ایک الگ مضمون ہے اور ہوفمین (2012) و لیوکی (1971) پر مبنی ہے — اباضی خاندانوں میں «آل بوسعید: 1744 سے» اور اس کی ذیلی شاخ «زنجباری شاخ: 1856-1964» درج کرتا ہے، زنجبار میں اباضیوں کی موجودگی بتاتا ہے اور زنجبار کے آخری سلطان جمشید بن عبداللہ کو مشاہیرِ اباضیہ میں شمار کرتا ہے۔ ان کے والد سعید بن سلطان کے مضمون میں والد کا دین بھی اباضی اسلام درج ہے۔ 5 6 7 4

    اسی اعلان شدہ بنیاد پر — خاندان کی ثابت شدہ اباضی روایت جیسا کہ وہ اس سلطنتِ زنجبار پر لاگو ہوتی ہے جس کی سربراہی انہوں نے خود کی (1890-1893) — عجائب گھر نے ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں «اباضی» کی قدر درج کی ہے، اس تنبیہ کے ساتھ کہ یہ شہادت خاندان اور اس کی زنجباری شاخ کی ہے، ان کی ذات کے بارے میں کوئی بیان نہیں۔ 5 6

    وفات و اثر

    علی بن سعید 5 مارچ 1893 کو زنجبار میں وفات پا گئے؛ عربی مضمون کے مطابق ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا سعید (پیدائش 1893) اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے بعد ان کے بھتیجے حمد بن ثوینی تخت نشین ہوئے۔ ان کا دور ماخذوں میں زنجبار کی عملی آزادی کے خاتمے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 1 3 4

    ماخذ

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1342767958)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 65086232)؛ جرمن ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 252629907)؛ «آل بوسعید خاندان» (نظرثانی 1379283091)؛ «اباضیہ» (نظرثانی 1381188604)؛ «سعید بن سلطان» (نظرثانی 1379282827)؛ ویکی ڈیٹا آئٹم Q423643۔ اردو ویکیپیڈیا پر ان کا کوئی مضمون نہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مسقط
    Died in
    زنجبار
    Sibling of
    برغش بن سعيد آل بوسعيد· خليفة بن سعيد آل بوسعيد
    Successor of
    خليفة بن سعيد آل بوسعيد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سعید بن سلطان· عبید کرومی· علی حسن موینی· امانی عبید کرومی· عزان بن قیس· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· فیصل بن ترکی البوسعیدی· ہیثم بن طارق

    ماخذ

    1. Ali bin Said — English Wikipedia
    2. Ali ibn Said — German Wikipedia
    3. Ali bin Said — Arabic Wikipedia
    4. Ali bin Said — Wikidata Q423643
    5. Al Bu Said dynasty — English Wikipedia
    6. Ibadism — English Wikipedia
    7. Said bin Sultan — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی بن سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-bin-said/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سعید بن سلطان

    سعید بن سلطان البوسعیدی (1791ء–1856ء)، آل بوسعید خاندان کے پانچویں حکمران اور مسقط، عمان اور زنجبار کے سلطان۔ 1804ء میں اپنے والد کے بعد بھائی سالم کے ساتھ جانشین بنے اور 1806ء میں چچا زاد بدر بن سیف کے قتل کے بعد عملاً تنہا حکمران بن گئے۔ انہوں نے بحری بیڑا اور تجارتی طاقت بنائی، مشرقی افریقا کے ساحل پر اپنا اقتدار پھیلایا اور 1830ء کی دہائی میں دارالحکومت مسقط سے زنجبار منتقل کر دیا، جس سے زنجبار لونگ، ہاتھی دانت اور غلاموں کی تجارت کا بڑا مرکز بن گیا، اور برطانیہ، فرانس اور امریکا سے معاہدے کیے۔ سیشلز کے قریب سمندر میں وفات پائی اور ان کی وصیت سے ان کے بیٹوں ماجد اور ثوینی کے درمیان مملکت تقسیم ہو گئی۔