عبید کرومی

عبيد كرومي

–

زنجبار

تنزانیہ کے سیاست دان (1905ء–1972ء) جو ملاح رہے، پھر افروشیرازی پارٹی کی قیادت کی اور جنوری 1964ء کے انقلاب کے بعد زنجبار کے پہلے صدر بنے؛ تین ماہ بعد انہوں نے ٹینگانیکا کے ساتھ اتحاد پر رضامندی ظاہر کی جس سے تنزانیہ وجود میں آیا، اور وہ اس کے پہلے نائب صدر بنے۔ انہوں نے زمینوں کو قومی تحویل میں لیا اور مفت تعلیم و صحت قائم کی، اور 7 اپریل 1972ء کو زنجبار شہر میں پارٹی دفتر میں باؤ کھیلتے ہوئے چار مسلح افراد نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ زنجبار کے چھٹے صدر امانی عبید کرومی کے والد تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
east-africa
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی

    کرومی 4 اگست 1905ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی جائے پیدائش متنازع ہے: انگریزی مضمون نیاسالینڈ (موجودہ ملاوی) بتاتا ہے، جبکہ دوسری رپورٹیں اور ان کا اپنا دعویٰ — جیسا کہ عربی مضمون بیان کرتا ہے — زنجبار کے گاؤں موئرا کو ان کی جائے پیدائش قرار دیتا ہے۔ 1 2 انہوں نے بہت کم رسمی تعلیم حاصل کی اور سیاست میں آنے سے پہلے ملاح رہے — وہ سلطان کی رسمی کشتی کے ملاح بھی رہے۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی میں زنجبار سے نکل گئے اور لندن سمیت کئی جگہوں کا سفر کیا، جہاں ملاوی کے ہیسٹنگز بانڈا جیسے افریقی مفکرین سے ملاقاتوں نے جغرافیائی سیاست کی ان کی سمجھ بڑھائی۔ انہوں نے افروشیرازی پارٹی کی توسیع اور ٹینگانیکا کی TANU پارٹی سے تعلقات کے ذریعے اپنا مقام بنایا۔ 1 2

    انقلاب اور اتحاد

    زنجبار 10 دسمبر 1963ء کو ایک آئینی سلطان کے تحت آزاد ہوا اور زنجبار نیشنل پارٹی حکومت میں تھی۔ کرومی 12 جنوری 1964ء کی رات افریقی سرزمین پر تھے جب یوگنڈا کے جان اوکیلو کی قیادت میں انقلاب نے سلطان جمشید بن عبداللہ کو معزول کر دیا۔ انقلاب میں دو ہزار سے چار ہزار زنجباری، زیادہ تر عرب اور ہندوستانی، مارے گئے، اور جزیرے پر عرب اقتدار کے تقریباً پانچ سو سال ختم ہو گئے۔ 1 2

    اوکیلو نے کرومی کو واپس بلا کر عوامی جمہوریہ زنجبار کی صدارت سونپی اور «فیلڈ مارشل» کا لقب اپنے پاس رکھا۔ اس کے بعد تین ماہ کی اقتدار کی کشمکش میں کرومی نے پڑوسی افریقی رہنماؤں کو اوکیلو کے خلاف صف بند کیا، ٹینگانیکا کی پولیس کو جزیرے پر بلایا، اور جب اوکیلو بیرونِ ملک گیا تو اسے «ریاست کا دشمن» قرار دے کر واپسی روک دی۔ اپریل 1964ء میں کرومی نے ٹینگانیکا کے صدر جولیس نیریرے سے زنجبار کے ٹینگانیکا سے اتحاد پر اتفاق کیا جس سے تنزانیہ وجود میں آئی؛ کرومی پہلے نائب صدر بنے، اور مارکسی رہنما عبدالرحمن محمد بابو، جو کمیونسٹ بلاک سے الحاق کے حامی تھے، پس منظر میں چلے گئے۔ 1 2

    پالیسیاں اور 1970ء کا جبری شادی والا معاملہ

    برسرِ اقتدار آ کر کرومی نے عربوں اور ہندوستانیوں کی زمینیں قومی تحویل میں لے کر غریب اکثریت میں تقسیم کیں، اور نسل کی تمیز کے بغیر تمام زنجباریوں کے لیے مفت تعلیم اور صحت قائم کی، سستے کرائے کے مکانات بھی بنائے۔ 1

    ماخذ ایک تاریک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ 1970ء میں جب چار نوجوان فارسی لڑکیوں نے 64 سالہ کرومی سے شادی سے انکار کیا تو انہوں نے ان کے دس مرد رشتہ داروں کو «مخلوط شادیوں کے نفاذ میں رکاوٹ» کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دیا اور انہیں اور اس اثناعشری شیعہ فرقے کے درجنوں دیگر ارکان کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی جس سے وہ خاندان تعلق رکھتے تھے۔ صدر نیریرے کے دباؤ پر الزامات ختم ہوئے؛ چند ماہ بعد لڑکیوں کو انقلابی کونسل کے ارکان سے زبردستی بیاہ دیا گیا اور گیارہ رشتہ داروں کو قید اور کوڑوں کی سزا کا حکم ہوا۔ اقوامِ متحدہ کے ایک کمیشن نے اس معاملے کا مطالعہ کیا، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے 1972ء میں رپورٹ کیا۔ 1

    قتل اور میراث

    7 اپریل 1972ء کو چار مسلح افراد نے زنجبار شہر میں افروشیرازی پارٹی کے صدر دفتر میں باؤ کھیلتے ہوئے کرومی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا؛ اس کے بعد ان کے نظام کے مخالف سمجھے جانے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہوئیں۔ 1 2 ان کی وفات کی تاریخ 7 اپریل زنجبار میں سرکاری چھٹی ہے۔ ان کے بیٹے امانی عبید کرومی 2000ء اور 2005ء میں زنجبار کے صدر منتخب ہوئے اور 2010ء کے اواخر تک رہے۔ 1

    اس اندراج پر نوٹ

    کوئی ماخذ کرومی کے لیے کوئی دینی مکتب بیان نہیں کرتا اور کوئی مضمون متن میں ان کا دین بیان نہیں کرتا: انگریزی، عربی اور اردو مضامین میں صرف زمرہ درج ہے (تنزانی مسلمان)، عربی معلوماتی خانے کا دینی خانہ خالی ہے، اور اردو مضمون عربی روایت کی پیروی کرتا ہے۔ وکی ڈیٹا ان کا دین اسلام بتاتا ہے مگر کوئی شاخ نہیں — ایک واحد ساختی قدر۔ انگریزی مضمون کا واحد فرقہ ورانہ مواد 1970ء کے واقعے کی فارسی اثناعشری شیعہ خاندانوں سے متعلق ہے، جو دوسرے لوگوں کے بارے میں ہے، ان کے اپنے انتماء کے بارے میں نہیں۔ 3 1 2 4 اس لیے ان کا دین نامعلوم درج کیا گیا ہے۔

    چونکہ ان کی جائے پیدائش نیاسالینڈ اور موئرا کے درمیان متنازع ہے، اس لیے جائے پیدائش کا رشتہ نہیں لکھا گیا؛ لکھا گیا رشتہ زنجبار شہر میں ان کی وفات ہے۔ ان کے جانشین عبود جمبو کا عجائب گھر میں کوئی اندراج نہیں۔ 1

    ماخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    زنجبار
    Parent of
    امانی عبید کرومی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    امانی عبید کرومی· زنجبار· علی بن سعید· علی حسن موینی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· حسین مونی· ماجد بن سعید· سعید بن سلطان

    ماخذ

    1. Abeid Karume — English Wikipedia
    2. Abeid Karume — Arabic Wikipedia
    3. Abeid Karume — Wikidata Q318310
    4. Abeid Karume — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبید کرومی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abeid-karume/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    امانی عبید کرومی

    تنزانیہ کے سیاست دان (پیدائش 1948ء)، زنجبار کے پہلے صدر عبید کرومی کے بیٹے۔ وہ زنجبار میں محاسب اور سرکاری افسر رہے، پھر راہا لیو سے نمائندہ اور وزیر بنے، اور 8 نومبر 2000ء سے 3 نومبر 2010ء تک زنجبار کے چھٹے صدر رہے۔ ان کے دونوں انتخابات متنازع رہے، لیکن انہوں نے اپنی مدت کا اختتام مفاہمتی مذاکرات اور 2010ء کے ریفرنڈم سے کیا جس نے قومی اتحاد کی حکومت کی منظوری دی، اور پُرامن طور پر اقتدار منتقل کیا۔ وہ مبیا یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چانسلر ہیں۔