احمد الشریف السنوسی

أحمد الشريف السنوسي

–

المدينة المنورة

لیبیائی رہنما (1873–1933)؛ 1902 میں اپنے چچا محمد المہدی کے بعد سنوسی تحریک کی قیادت سنبھالی، چاڈ میں فرانسیسیوں، لیبیا میں اطالویوں اور مصر میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی، 1916 میں قیادت اپنے چچا زاد محمد ادریس کے حوالے کی، اور آخری سال ترکی، شام اور حجاز میں گزار کر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · جرنیل
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد الکریم خان · عبد اللہ ہارون

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد الشریف السنوسی (1873 – 10 مارچ 1933) سنوسی تحریک کے سربراہ تھے؛ 1902 میں اپنے چچا محمد المہدی کے جانشین بنے اور چاڈ میں فرانسیسیوں، لیبیا میں اطالویوں اور مصر میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔ 1916 میں قیادت اپنے چچا زاد محمد ادریس کے حوالے کر دی، اور مدینہ منورہ میں وفات پا کر جنت البقیع میں دفن ہوئے۔1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ سنوسی سلسلے کے بانی محمد بن علی السنوسی کے پوتے تھے۔ عربی مقالہ ان کی اپنی کتاب کے حوالے سے ان کی پیدائش واحۂ جغبوب میں 27 شوال 1290ھ بمطابق 18 دسمبر 1873 درج کرتا ہے۔ 1895 میں والد محمد الشریف اور چچا محمد المہدی کے ساتھ جغبوب سے کفرہ گئے، جہاں 1896 میں ان کے والد کا انتقال ہوا۔1 2

    جدوجہد

    1900 میں ان کے چچا نے انہیں چاڈ میں فرانسیسی پیش قدمی روکنے کی ذمہ داری دی؛ 1902 میں چچا کی وفات پر وہ ان کے جانشین بنے۔ اکتوبر 1911 میں اطالوی حملے کے بعد انہوں نے توجہ لیبیا پر مرکوز کی، زاویوں کو فوجی مراکز میں بدلا اور صلح سے انکار کر دیا۔ نومبر 1915 میں ان کی افواج نے مصر میں سلوم پر قبضہ کیا، مگر مارچ 1916 میں انگریزوں نے اسے واپس لے لیا۔1 2

    جلاوطنی اور وفات

    اگست 1918 میں جرمن آبدوز کے ذریعے لیبیا سے نکل کر استنبول پہنچے، جہاں سلطان محمد ششم نے انہیں تلوار اور وزیر کا عہدہ دیا۔ ترکی میں مصطفیٰ کمال کی قومی جدوجہد کی حمایت کی؛ 1924 میں خلافت کے خاتمے کے بعد دمشق گئے اور پھر حجاز میں مقیم ہو گئے، جہاں سے لیبیائی مزاحمت کی حمایت جاری رکھی۔ 10 مارچ 1933 کو مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔1 2

    حوالہ جات

    اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    المدينة المنورة
    Buried in
    المدينة المنورة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· إمامة أبي بكر في مرض النبي

    ماخذ

    1. Wikipedia (Arabic): Ahmed Sharif as-Senussi
    2. Wikipedia (English): Ahmed Sharif as-Senussi
    • Wikipedia (French): Ahmed Sharif as-Senussi
    • Ahmed Sharif as-Senussi — Wikidata Q400923
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد الشریف السنوسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-sharif-as-senussi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد القبلتين

    The Banu Salama mosque of Medina, named 'of the two qiblas' because the qibla was turned in it: Ibn Zabala reports that a man of Banu Salama reached them at dawn prayer with word of the change and they turned mid-prayer to the Kaaba — while al-Zamakhshari and the sira tradition make the change fall at zuhr when the Prophet had prayed two rak'as with his Companions, then turned to face the Mizab, the men and women exchanging places; Ibn Hajar reconciles the reports, and al-Majd notes that on Ibn Zabala's version Quba mosque would better deserve the name. Ibn Zabala ascribes the mosque to Banu Sawad ibn Ghanm of Banu Salama by al-Midhad, against al-Matari's ascription to Banu Haram.