عبد الکریم خان

عبد الكريم خان

–

ہندوستانی کلاسیکی گلوکار (1872ء–1937ء)، کیرانہ میں پیدا ہوئے اور جنوبی ہندوستان کے دورے سے واپسی پر وفات پائی۔ انھوں نے اپنے چچا زاد بھائی عبد الواحد خان کے ساتھ کیرانہ گھرانہ قائم کیا جو سر کی درستگی اور راگ کی سست رفتار بڑھت کے لیے مشہور ہوا؛ 1913ء میں پونا میں موسیقی کا مدرسہ قائم کیا اور کرناٹک موسیقی کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے والے پہلے ہندوستانی گلوکاروں میں سے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
musician · teacher
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد اللہ ہارون · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ 11 نومبر 1872ء کو اتر پردیش کے قصبے کیرانہ میں پیدا ہوئے، ایسے خاندان میں جس کی موسیقی کی روایت غلام علی اور غلام مولیٰ بھائیوں تک جاتی تھی؛ ان کے والد کالے خان غلام علی کے پوتے تھے۔1 انھیں والد اور چچاؤں عبد اللہ خان اور ننھے خان سے تربیت ملی، گوالیار گھرانے کے رحمت خان سے اثر قبول کیا، اور گائیکی اور سارنگی کے علاوہ بین، ستار اور طبلہ بھی سیکھا۔1 آغاز میں وہ سارنگی نواز تھے اور اپنے بھائی عبد الحق کے ساتھ گاتے تھے؛ اس جوڑی نے بڑودہ کے حکمران کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے انھیں درباری موسیقار بنا لیا۔1

    فنی انداز اور خدمات

    ان کے بنائے ہوئے کیرانہ انداز کی پہچان ولمبت لے میں راگ کی سست رفتار میلوڈک بڑھت، سر کی درستگی، اور پُرسکون رفتار کی ٹھمری ہے جو پورب یا پنجابی انداز سے الگ ہے۔1 وہ کرناٹک نظام کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقاروں میں سے تھے، اور میسور دربار نے انھیں سنگیت رتن کا خطاب دیا۔1 1913ء میں انھوں نے پونا میں آریہ سنگیت ودیالہ قائم کیا اور آخر میں میراج میں سکونت اختیار کی۔1 اردو مضمون ان کے گانے کو اسلامی اور ہندو روحانیت کا امتزاج قرار دیتا ہے۔2 ان کے شاگردوں میں سوائی گندھرو، سریش بابو مانے، ہیرابائی بڑودکر اور روشن آرا بیگم شامل تھے۔2

    وفات

    جنوب کے کنسرٹ دورے سے واپسی پر 27 اکتوبر 1937ء کو سنگاپیرمل کوئل ریلوے اسٹیشن پر ان کا انتقال ہوا؛ انگریزی مضمون کے مطابق انھوں نے اپنی آخری گھڑیاں نماز اور راگ درباری میں کلمہ پڑھتے گزاریں۔1 میراج میں ہر اگست ان کی یاد میں محافلِ موسیقی منعقد ہوتی ہیں۔1

    مآخذ

    ماخذ

    1. Abdul Karim Khan — English Wikipedia
    2. Abdul Karim Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الکریم خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-karim-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔